Friday, October 23, 2026 | 11 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • اروناچل پردیش میں بھارت اور چین کی افواج کا کئی بار آمنا سامنا، آئی ٹی بی پی کے ڈی جی کا انکشاف

اروناچل پردیش میں بھارت اور چین کی افواج کا کئی بار آمنا سامنا، آئی ٹی بی پی کے ڈی جی کا انکشاف

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 23 Oct 2026

اروناچل پردیش میں بھارت اور چین کی افواج کا کئی بار آمنا سامنا، آئی ٹی بی پی کے ڈی جی کا انکشاف
کانگریس نے مرکزی حکومت کو بنایا تنقید کا نشانہ
جے رام رمیش بولے: چین کو کھلی چھوٹ دے دی گئی
 
لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) پر بھارت اور چین کے درمیان سرحدی کشیدگی کا معاملہ ایک بار پھر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ انڈو تبتن بارڈر پولیس (آئی ٹی بی پی) کے ڈائریکٹر جنرل شترجیت کپور نے انکشاف کیا ہے کہ اروناچل پردیش کی سرحد پر بھارتی اور چینی افواج کے درمیان کئی مرتبہ آمنا سامنا ہو چکا ہے اور ایسی صورت حال اب بھی برقرار ہے۔ ان کے اس بیان کے بعد کانگریس نے مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے وزیر اعظم اور مرکزی حکومت کی چین پالیسی پر سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو سرحدی صورت حال پر اپنا موقف واضح کرنا چاہیے۔
 
ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل شترجیت کپور نے کہا کہ اروناچل پردیش میں کئی ایسے مواقع آئے ہیں جب بھارتی اور چینی فریقین آمنے سامنے ہوئے۔ ان کے مطابق، یہ صورت حال اب بھی جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سرحدی علاقوں میں آئی ٹی بی پی کی ’شوریا‘ کمانڈو ٹیمیں تعینات ہیں، جنہوں نے غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کے مطابق، ان ٹیموں کی تعیناتی ایک نیا اقدام ہے، جس کا مقصد مشکل سرحدی حالات میں فورس کی صلاحیتوں کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
 
شترجیت کپور نے آئی ٹی بی پی کے کردار میں آنے والی تبدیلیوں کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فورس کو ابتدا میں پہاڑی علاقوں میں گوریلا طرز کی کارروائیوں کے لیے تشکیل دیا گیا تھا، لیکن وقت کے ساتھ یہ ایک روایتی سرحدی فورس میں تبدیل ہو گئی، جس کی اہم ذمہ داری چین سے ملحق سرحد کی حفاظت کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ اب گوریلا جنگ پہلے جیسی بنیادی ضرورت نہیں رہی، تاہم آئی ٹی بی پی ایک ایسی خصوصی فورس کے طور پر اپنی صلاحیتیں بڑھا رہی ہے جو زیادہ بلندی والے دشوار گزار علاقوں میں مؤثر طریقے سے کام کر سکے۔
 
آئی ٹی بی پی کے ڈی جی کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کانگریس رہنما جے رام رمیش نے وزیر اعظم اور مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ جو لوگ خود کو ’وشو گرو‘ یعنی عالمی رہنما قرار دیتے ہیں، انہوں نے چین کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ جے رام رمیش نے کہا کہ آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل نے اروناچل پردیش میں چینی فوج کے ساتھ آمنا سامنا ہونے کے دوران بھارتی اہلکاروں کی کارکردگی کی تعریف کی ہے، جو ان کے بقول بجا ہے۔ تاہم، انہوں نے وزیر اعظم کی خاموشی پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے حیران کن قرار دیا۔ کانگریس رہنما کے اس بیان کے بعد سرحدی صورت حال اور چین کے ساتھ تعلقات سے متعلق حکومتی پالیسی پر سیاسی بحث ایک بار پھر تیز ہو گئی ہے۔
 
بھارت اور چین کے درمیان سرحدی تنازعات کی تاریخ میں ڈوکلام کا معاملہ بھی اہمیت رکھتا ہے۔ سال 2017 میں ڈوکلام کے علاقے میں دونوں ممالک کی افواج کے درمیان طویل تعطل پیدا ہو گیا تھا، جس کے دوران دونوں جانب فوجی موجودگی برقرار رہی۔ اس واقعے نے دونوں ممالک کے سرحدی تعلقات اور سلامتی سے متعلق خدشات کو نمایاں کیا تھا۔ بعد کے برسوں میں بھی بھارت اور چین کے درمیان سرحدی معاملات پر اختلافات سامنے آتے رہے ہیں۔ اروناچل پردیش میں افواج کے آمنا سامنا ہونے سے متعلق آئی ٹی بی پی کے ڈی جی کے حالیہ بیان نے ایک مرتبہ پھر سرحدی صورت حال کو سیاسی بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔ جہاں کانگریس نے حکومت سے سوالات اٹھائے ہیں، وہیں اس معاملے میں سرحد پر ہونے والے واقعات کی مکمل تفصیلات اور سرکاری موقف اہمیت رکھتے ہیں۔