کانگریس نے انتخابی عمل میں 'میچ فکسنگ' کا الزام لگایا
وزیر اعظم مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ سے استعفیٰ کا مطالبہ
حذف کئے گئے 13.30 کروڑ ووٹوں کوبحال کیا جائے۔قرارداد
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو فوری طور پر ہٹانے کا مطالبہ
کانگریس نے پارلیمنٹ، عدالتوں اور سڑکوں پر لڑائی کا کیا اعلان
کانگریس پارٹی نے انتخابی عمل میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا الزام لگاتے ہوئے مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن پر سخت نکتہ چینی کی ہے۔ کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) نے وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے اخلاقی ذمہ داری قبول کرنے اور فوری طور پر اپنے عہدوں سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ منگل کو دہلی میں پارٹی صدر ملکارجن کھرگے کی صدارت میں سی ڈبلیو سی کی میٹنگ میں اس سلسلے میں ایک اہم قرارداد منظور کی گئی۔
الیکشن کمیشن اور پی ایم کے درمیان میچ فکسنگ
کانگریس نے ملک میں جاری انتخابی عمل کو وزیر اعظم اور الیکشن کمیشن کے درمیان 'میچ فکسنگ' قرار دیا ہے۔ انھوں نے سنگین الزام لگایا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کی جانب سے 'ووٹ چوری' میں ملوث ہیں۔
گیانیش کمار کو ہٹا نے اور حذف شدہ ووٹروں کو بحال کرنے کی مانگ
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ سی ای سی کو فوری طور پر عہدے سے ہٹایا جائے اور ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی کا عمل روکا جائے۔ کانگریس نے مطالبہ کیا ہے کہ فہرست سے غیر منصفانہ طور پر نکالے گئے 13.30 کروڑ ووٹوں کو فوری طور پر بحال کیا جائے۔
جدوجہد ایوانوں، عدالتوں اورسڑکوں پر جاری رہےگی
تقریباً 25 منٹ تک میٹنگ سے خطاب کرنے والے راہل گاندھی نے واضح کیا کہ کانگریس صرف ایک اپوزیشن پارٹی نہیں ہے، بلکہ ایک 'مزاحمتی' پارٹی ہے۔ انہوں نے قرارداد میں اس بات پر زور دیا کہ ووٹنگ کے حقوق کی بحالی کے لیے ان کی جدوجہد آزادی کی جدوجہد کے مترادف ہے۔ کانگریس قائدین نے اس موقع پر واضح کیا کہ وہ اس وقت تک پارلیمنٹ، عدالتوں اور سڑکوں پر اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے جب تک الیکشن کمیشن اپنی آزادی دوبارہ حاصل نہیں کر لیتا۔
انھوں نے سی ای سی گیانیش کمار کے استعفیٰ، انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظر ثانی (SIR) کو معطل کرنے، حذف کیے گئے 13.3 کروڑ ووٹروں کے ناموں کی بحالی، اور پی ایم مودی کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا گیا ہے، جسے جمہوریت کو بچانے کے لیے ضروری قرار دیا گیا ہے۔
یہ مطالبات الیکشن کمیشن کی ملک گیر SIR مشق کی پیروی کرتے ہیں، جس نے پرانے ڈیٹا کے خلاف اہلیت کی تصدیق کرکے فہرستوں کو اپ ڈیٹ کرنے کے لیے 2025 سے اب تک 130 ملین سے زیادہ نام ووٹر لسٹوں سے ہٹا دیے ہیں، جس سے حق رائے دہی سے محرومی کے اپوزیشن کے دعووں کو جنم دیا گیا ہے۔
ایس آئی آر معاملے پر 30ستمبر کواپوزیشن اتحاد انڈیا بلاک کی میٹنگ
ستمبر 30 کو اس معاملے پر اپوزیشن جماعتوں کے انڈیا اتحاد کا اجلاس 30 ستمبر کو نئی دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں ہونے جا رہا ہے۔ ایسا لگتا ہےکہ ایس آئی آر، اور الیکشن کمیشن معاملے پر اپوزیشن جماعتیں متحدہ طو ر پر مقابلہ کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔ ادھر سی جے پی نے بھی گیانیش کمار کے استعفیٰ کی مانگ کی ہے۔ اور 2اکتوبر سے ملک بھر میں احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔






