کانگریس ورکنگ کمیٹی (CWC) کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں پارٹی صدر ملکارجن کھڑگے، سونیا گاندھی، راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی سمیت کئی سینئر رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس میں بھوپیش بگھیل، کے سی وینوگوپال، مکل واسنک، امبیکا سونی اور کماری سیلجا سمیت CWC کے دیگر ارکان بھی موجود رہے۔ کانگریس کی حکومت والی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کو بھی اجلاس میں مدعو کیا گیا تھا۔ اجلاس کے دوران ملکارجن کھڑگے نے اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) اور ووٹر فہرستوں سے متعلق الیکشن کمیشن کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ووٹر فہرستوں سے نام ہٹانے کے عمل کے ذریعے ملک کے جمہوری نظام کو متاثر کیا جا رہا ہے۔ کھڑگے نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر بھی تنقید کی اور الزام لگایا کہ وہ مرکزی حکومت کے دباؤ میں کام کر رہے ہیں۔ تاہم یہ کانگریس صدر کا سیاسی مؤقف ہے، جبکہ الیکشن کمیشن نے SIR سے متعلق ان الزامات کی تردید کی ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ان کے پیشروؤں نے قربانی اور مسلسل محنت کے ذریعے ملک میں ایک مضبوط جمہوری نظام کی بنیاد رکھی تھی۔ ان کے مطابق گزشتہ 12 برسوں میں اس بنیاد کو کمزور کیا گیا ہے۔ انہوں نے آئین ساز اسمبلی میں ووٹ کے حق سے متعلق ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے خیالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی اہل شہری کا نام کسی سرکاری عہدیدار کی من مانی یا مقامی انتظامیہ کے تعصب کی بنیاد پر ووٹر فہرست سے خارج نہیں ہونا چاہیے۔ کھڑگے نے کہا کہ آئین نے الیکشن کمیشن کو عوام کے ووٹ کے تحفظ کی ذمہ داری سونپی ہے، لیکن موجودہ صورتحال میں خود یہ ادارہ سوالات کے گھیرے میں ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ الیکشن کمیشن کے دو ارکان نے چیف الیکشن کمشنر کے کام کرنے کے طریقہ کار پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔ کھڑگے نے سوال کیا کہ ایسی صورتحال میں عوام چیف الیکشن کمشنر پر کس طرح اعتماد کریں۔
دوسری جانب الیکشن کمیشن نے SIR سے متعلق ان الزامات پر اپنا مؤقف واضح کیا ہے۔ کمیشن کے مطابق SIR سے متعلق احکامات تینوں الیکشن کمشنروں کی منظوری سے جاری کیے گئے تھے۔ فارم-6 کے حوالے سے بھی الیکشن کمیشن نے وضاحت کی ہے کہ اصل فارم میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ کمیشن کے مطابق SIR کے عمل کے دوران فارم کے ساتھ ایک اضافی ڈیکلریشن شامل کیا گیا تھا۔ یوں CWC اجلاس میں کانگریس نے SIR اور ووٹر فہرستوں کے معاملے کو سیاسی اور جمہوری بحث کا اہم موضوع بنایا، جبکہ الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلوں کے طریقہ کار اور فارم-6 سے متعلق کانگریس کے اعتراضات پر الگ مؤقف پیش کیا ہے۔







