Friday, September 18, 2026 | 04 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • ایل نینیو کا اثر: بھارت میں کمزور ترین مانسون کا خدشہ

ایل نینیو کا اثر: بھارت میں کمزور ترین مانسون کا خدشہ

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: 18 Sept 2026

ایل نینیو کا اثر: بھارت میں کمزور ترین مانسون کا خدشہ
بھارت میں اس سال مانسون کی بارشں معمول سے کافی کم رہنے کا امکان ہے۔ اس کی بڑی وجہ ایل نینیو بتائی جا رہی ہے، جو بارش کو متاثر کر رہا ہے۔ کم بارشں سے فصلوں کی پیداوار متاثر ہونے اور کھانے پینے کی اشیا کی قیمتیں بڑھنے کا خدشہ ہے۔ بھارتی محکمہ موسمیات کے مطابق جون سے ستمبر تک جاری رہنے والے مانسون سیزن میں اب تک ملک میں معمول سے 15 فیصد کم بارش ہوئی ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو یہ 2009 کے بعد بھارت کا سب سے کمزور مانسون ہوگا۔ 2009 میں بارش معمول سے 18 فیصد کم ہوئی تھی۔ محکمہ موسمیات نے مئی میں اس سال مانسون کے دوران بارش میں 10 فیصد کمی کی پیش گوئی کی تھی۔
 
آسٹریلیائی ادارے 'Global Weather Climate Analytics' کے منیجنگ ڈائریکٹر کرسچن ورنر کے مطابق ستمبر کے آخری ہفتے میں خلیج بنگال میں سمندری طوفان بننے کے لیے حالات سازگار ہو سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو مشرقی بھارت میں اچھی بارش ہو سکتی ہے اور وہاں بارش کی کمی کچھ حد تک پوری ہو سکتی ہے۔ کرسچن ورنر کا کہنا ہے کہ اس ممکنہ طوفان سے ملک بھر میں بارش کی مجموعی صورتحال میں بڑی تبدیلی آنے کا امکان کم ہے۔ ان کے مطابق اس سال مانسون میں مجموعی بارش معمول سے 13 سے 16 فیصد کم رہ سکتی ہے۔
 
برطانیہ کی 'Lancaster University' کے 'CRUCIAL' نامی پیش گوئی کے پلیٹ فارم سے بھی بھارت کے مانسون کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے بانی اور سیاروی سائنسدان مارک رولسٹن کے مطابق مانسون کے اختتام میں دو ہفتوں سے بھی کم وقت باقی رہ گیا ہے، لیکن اب بھی 68 فیصد امکان ہے کہ یہ سیزن معمول سے 10 سے 20 فیصد کم بارش کے ساتھ ختم ہوگا۔
 
بھارت کے کروڑوں کسانوں کے لیے مانسون کی بارشیں بہت اہم ہیں، کیونکہ ملک کے کئی علاقوں میں کھیتی باڑی کے لیے بارش کے پانی پر انحصار کیا جاتا ہے۔ بھارت دنیا میں چاول، چینی اور کپاس پیدا کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے، جبکہ ملک کی سالانہ بارش کا زیادہ تر حصہ مانسون کے دوران ہی ہوتا ہے۔
 
اگر بارشوں کی کمی طویل عرصے تک جاری رہی تو اس سے موجودہ فصل کے ساتھ اگلی فصل کی پیداوار بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں پر مزید دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔ اگست میں غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کی شرح مسلسل ساتویں ماہ بڑھ کر 5.95 فیصد تک پہنچ گئی، جو اس سال کی سب سے زیادہ شرح ہے۔ چاول، گنے اور مکئی کی کاشت بھی گزشتہ سیزن کے مقابلے میں کم ہے۔
 
کوانٹ ایکو کی ماہر معاشیات یوویکا سنگھل کے مطابق، مانسون میں معمول سے ہر ایک فیصد کمی کے نتیجے میں غذائی مہنگائی میں تقریباً 25 بیسس پوائنٹس یعنی 0.25 فیصد اضافہ ہو سکتا ہے۔ کم بارشں اور بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر حکومت نے خوراک کی سپلائی بڑھانے کے لیے چینی کی ڈیوٹی فری درآمد کی اجازت دے دی ہے۔ اس کے علاوہ کھانے پینے کی اشیا کی قیمتیں قابو میں رکھنے کے لیے کچھ ریاستوں میں پیاز بھی رعایتی قیمتوں پر فروخت کیا جا رہا ہے۔