مغربی بنگال میں نندی گرام اسمبلی نشست کے ضمنی انتخاب سے پہلے ممتا بنرجی کی قیادت والے دھڑے کو بڑا سیاسی دھچکا لگا ہے۔ ممتا بنرجی کے خیمے کی امیدوارسنچیتا پردھان (Sanchita Pradhan) نے جمعہ کو اچانک اپنی نامزدگی واپس لے لی۔ وہ نندی گرام سے ’ممتا آل انڈیا ترنمول کانگریس‘ کی امیدوار تھیں۔ ان کے نام واپس لینے سے اس نشست پر ممتا بنرجی کے دھڑے کی انتخابی حکمت عملی میں تبدیلی آ گئی ہے۔
سنچیتا پردھان نے نامزدگی واپس لینے سے ایک دن قبل بی جے پی رہنما سوویندو ادھیکاری سے ملاقات بھی کی تھی۔ تاہم، ان کی جانب سے نامزدگی واپس لینے کی اصل وجہ فوری طور پر واضح نہیں کی گئی ہے۔ میڈیا رپورٹس میں اس ملاقات اور اچانک فیصلے کو اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، لیکن اس بارے میں کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا۔
سنچیتا پردھان (Sanchita Pradhan) کے نام واپس لینے کے بعد ممتا بنرجی کے دھڑے کی جانب سے نندی گرام میں کانگریس امیدوار کی حمایت کا اعلان کیا گیا ہے۔ کانگریس نے اس نشست سے میلان پردھان کو امیدوار بنایا ہے۔ اس کے علاوہ آسام کی ناگاؤں لوک سبھا نشست پر بھی ممتا بنرجی کے دھڑے نے کانگریس کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ نندی گرام ضمنی انتخاب 6 اکتوبر کو ہونا ہے، جبکہ ووٹوں کی گنتی 9 اکتوبر کو ہوگی۔ اس نشست پر پہلے ممتا بنرجی کے دھڑے نے سنچیتا پردھان ڈے کو امیدوار بنایا تھا۔
اس پورے معاملے کے درمیان الیکشن کمیشن نے ترنمول کانگریس کے نام اور روایتی انتخابی نشان سے متعلق بھی اہم فیصلہ کیا ہے۔ کمیشن نے دونوں حریف دھڑوں کو الگ الگ نام اور انتخابی نشان الاٹ کیے ہیں۔ الیکشن کمیشن کا یہ فیصلہ پارٹی کے اندر جاری تنازع کے پس منظر میں آیا ہے۔ دونوں دھڑوں کے درمیان پارٹی کے نام اور انتخابی نشان پر دعویٰ جاری تھا، جس کے باعث آئندہ ضمنی انتخابات کے لیے الگ شناخت مقرر کی گئی ہے۔
ممتا بنرجی کے دھڑے نے الیکشن کمیشن کے فیصلے پر اعتراض کیا ہے اور اسے غیر آئینی قرار دیا ہے۔ پارٹی رہنماؤں نے بھی اس فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی اختلافات کے باوجود ان کی سیاسی سرگرمیاں جاری رہیں گی۔ نندی گرام میں امیدوار کے نام واپس لینے اور پارٹی کے نام و نشان میں تبدیلی کے بعد اب اس ضمنی انتخاب کی سیاسی صورت حال مزید اہم ہوگئی ہے۔






