Thursday, October 22, 2026 | 10 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • میکرون کا دعویٰ، غیر ملکی رہنما فرانس کی بدامنی کو اپنے سیاسی ایجنڈے کے لیے استعمال کر رہے ہیں

میکرون کا دعویٰ، غیر ملکی رہنما فرانس کی بدامنی کو اپنے سیاسی ایجنڈے کے لیے استعمال کر رہے ہیں

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 22 Oct 2026

میکرون کا دعویٰ، غیر ملکی رہنما فرانس کی بدامنی کو اپنے سیاسی ایجنڈے کے لیے استعمال کر رہے ہیں
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے دعویٰ کیا ہے کہ غیر ملکی رہنما فرانس کے کشیدہ سماجی ماحول سے فائدہ اٹھا کر اپنے سیاسی ایجنڈوں کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق، فرانس میں مہنگائی کے خلاف ہونے والے مظاہروں اور اس کے بعد پیدا ہونے والی بدامنی کے دوران بیرونِ ملک سے غلط معلومات بھی پھیلائی گئیں۔فرانس میں مہنگائی کے خلاف احتجاج کے دوران مختلف مقامات پر بڑے پیمانے پر مظاہرے اور فسادات ہوئے۔ گزشتہ ہفتے کے آخر میں پیرس سمیت فرانس کے کئی شہروں میں لوٹ مار کے واقعات بھی پیش آئے۔ میکرون نے ان واقعات کے بعد بیرونی عناصر کی جانب سے غلط معلومات پھیلانے کا الزام عائد کیا۔
 
 
فرانسیسی صدر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام لگایا کہ انہوں نے مبینہ طور پر فرانس میں ہونے والی بدامنی کو اپنے سیاسی حامیوں کو متحد کرنے کے لیے استعمال کیا۔ میکرون کے مطابق، ٹرمپ نے ٹھوس ثبوت پیش کیے بغیر یہ دعویٰ کیا کہ فرانس میں تشدد اور بدامنی کے ذمہ دار مسلمان تارکین وطن ہیں۔ ٹرمپ نے میکرون کو مشورہ دیا تھا کہ وہ فرانس کی سرحدیں بند کریں اور حالات مزید خراب ہونے سے پہلے ان پر کنٹرول حاصل کریں۔ ان کے اس بیان کے پس منظر میں فرانس میں جاری بدامنی اور تارکین وطن سے متعلق سیاسی بحث کو اہمیت حاصل رہی ہے۔
 
 
میکرون نے کہا کہ پیرس اور فرانس کے دیگر شہروں میں لوٹ مار کے واقعات کے بعد بیرونِ ملک سے غلط معلومات پھیلائی گئیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ فرانس کی اندرونی صورتِ حال کو دوسرے ممالک کے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ فرانس میں مہنگائی، سماجی بے چینی، مظاہروں اور تارکین وطن سے متعلق معاملات پہلے ہی سیاسی بحث کا حصہ ہیں۔ حالیہ واقعات کے بعد ان مسائل پر بحث مزید تیز ہوگئی ہے۔ تاہم، بدامنی کے ذمہ داروں اور اس کے اسباب سے متعلق مختلف دعوؤں کا جائزہ ٹھوس شواہد کی بنیاد پر لیا جانا ضروری ہے۔