چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف سخت موقف اختیار کرنے والے انڈیا اتحاد کے رہنما جلد ہی آئندہ حکمت عملی طے کرنے کے لیے اجلاس منعقد کرنے والے ہیں۔ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے آج آن لائن اجلاس طلب کیا تھا، تاہم بعد میں اسے ملتوی کردیا گیا۔ اس دوران اتر پردیش میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (SIR) کو لے کر ایک نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ پیلی بھیت صدر اسمبلی حلقے میں انتخابی فہرستوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے۔ پارٹی کے مطابق، 13,150 ووٹروں کے نام تبدیل کیے گئے، جبکہ ان کے الیکٹورز فوٹو شناختی کارڈ (EPIC) نمبر اور سیریل نمبر وہی رکھے گئے۔ کانگریس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ 884 ایسے ووٹروں کے نام فہرست سے حذف کردیے گئے جو اسی علاقے کے رہائشی ہیں، جبکہ تقریباً 2,600 ایسے افراد کے نام شامل کیے گئے جو مبینہ طور پر اس حلقے کے رہائشی نہیں ہیں۔
معاملے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے الیکشن کمیشن نے متعلقہ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر (ERO) اور آپریٹر کو انتخابی فہرستوں سے متعلق ذمہ داریوں سے ہٹا دیا ہے۔ ذمہ دار افسران اور عملے کے خلاف قانونی کارروائی کیے جانے کی بات بھی کہی گئی ہے۔ اتر پردیش کے چیف الیکٹورل آفیسر رندیپ رنوا نے ضلع الیکشن آفیسر کو ہدایت دی ہے کہ پورے ضلع کی انتخابی فہرستوں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے اور دو دن کے اندر رپورٹ پیش کی جائے۔ انڈیا اتحاد کے مجوزہ اجلاس میں یکم نومبر کو دہلی میں ہونے والی ریلی کی تیاریوں کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔ یہ اجلاس ایسے وقت میں اہمیت اختیار کرگیا ہے جب یہ قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ مرکزی حکومت خواتین ریزرویشن ایکٹ کے نفاذ کے لیے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلا سکتی ہے۔ اس دوران حلقہ بندیوں سے متعلق آئینی ترمیمی بل پیش کیے جانے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
12 اکتوبر کو اپوزیشن رہنماؤں نے دہلی میں ’جمہوریت کے لیے مارچ‘ نکالا تھا۔ اس دوران انہوں نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضداشت بھی دائر کی۔ اس سے پہلے اپوزیشن رہنماؤں نے الیکشن کمیشن کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی تھی۔ 13 اکتوبر کو کانگریس رہنما راہول گاندھی نے ’انڈیا‘ اتحاد کے رہنماؤں کو اپنی رہائش گاہ پر چائے کے لیے مدعو کیا تھا۔ ملاقات کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے احتجاج جاری رکھنے اور ووٹ چوری کے الزامات کے خلاف اپنی لڑائی کو منطقی انجام تک پہنچانے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔
دوسری جانب، کاکروچ جنتا پارٹی نے بھی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف اپنا موقف سخت کردیا ہے۔ 21 اکتوبر کو رہائی کے بعد پارٹی کے ترجمان سوربھ داس اور آشوتوش رنکا نے گیانیش کمار سے عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ کیا تھا۔ پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے ایک ویڈیو بھی شیئر کی ہے، جس میں دونوں رہنما نظر آرہے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ سی جے پی جلد ہی اپنے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کرسکتی ہے۔ اس سے پہلے پارٹی ممبئی، دہلی اور بنگلورو میں احتجاج کرچکی ہے۔ ادھر دہلی پولیس کی جانب سے سی جے پی رہنماؤں کو طلب کیے جانے کی اطلاع بھی سامنے آئی ہے۔
بی جے پی کی ملک گیر مہم کا اعلان
ادھر بی جے پی انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی کے معاملے پر اپوزیشن کے الزامات کا جواب دینے کی تیاری کررہی ہے۔ پارٹی 22 اکتوبر سے 5 نومبر 2026 تک ’جمہوریت بچاؤ، بھیڑ تانتر ہٹاؤ‘ کے عنوان سے ملک گیر مہم چلائے گی۔ اس مہم کے ذریعے بی جے پی انتخابی عمل اور الیکشن کمیشن کے بارے میں اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کا جواب دینے کے ساتھ ووٹر فہرستوں کی نظرثانی اور انتخابی عمل کی شفافیت کے حوالے سے عوام میں بیداری پیدا کرنے کی کوشش کرے گی۔ یوں انتخابی فہرستوں کی نظرثانی، ووٹروں کے ناموں میں مبینہ تبدیلیوں اور چیف الیکشن کمشنر کے کردار کو لے کر سیاسی جماعتوں کے درمیان بحث تیز ہوگئی ہے۔ ایک طرف اپوزیشن جماعتیں احتجاج اور قانونی کارروائی کے ذریعے اپنے اعتراضات اٹھا رہی ہیں، تو دوسری طرف بی جے پی نے ان الزامات کا جواب دینے کے لیے ملک گیر مہم کا راستہ اختیار کیا ہے۔






