Sunday, November 01, 2026 | 20 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • فلمیں/ طرززندگی
  • »
  • فلم ساز سنجے گپتا کا انتقال، بالی ووڈ میں سوگ

فلم ساز سنجے گپتا کا انتقال، بالی ووڈ میں سوگ

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: 31 Oct 2026

 فلم ساز سنجے گپتا کا انتقال، بالی ووڈ میں سوگ
 ہندی فلم انڈسٹری سے افسوسناک خبر آئی ہے۔ معروف ہدایت کار اور فلم ساز سنجے گپتا کا انتقال ہو گیا۔ ان کی عمر 59 سال تھی۔ اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ 30 اکتوبر کی رات ممبئی میں ان کی رہائش گاہ پر پیش آیا، جب وہ گھر کے باتھ روم میں گر پڑے اور ان کے سر پر شدید چوٹ آئی۔ گھر میں موجود افراد کو رات کے وقت اس حادثے کی بروقت خبر نہ ہو سکی، اور 31 اکتوبر کی صبح ان کے انتقال کی اطلاع سامنے آئی۔ اہل خانہ نے فوری طور پر متعلقہ حکام کو مطلع کیا، جس کے بعد قانونی کاروائی اور ابتدائی جانچ پڑتال عمل میں آئی۔
 
سنجے گپتا کے انتقال کی تصدیق فلم ساز اشوک پنڈت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر کی۔ انہوں نے سنجے گپتا کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ یہ خبر نہایت چونکا دینے والی اور دل توڑ دینے والی ہے، کیونکہ ایک باصلاحیت ہدایت کار اور پیارا دوست ہم سے بچھڑ گیا۔ اشوک پنڈت کے مطابق گھر میں سر پر چوٹ لگنے کے باعث ان کی جان نہ بچ سکی۔ ان کے مطابق انڈسٹری ایک شاندار قصہ گو، زندہ دل شخصیت اور اپنے فن کے جنون میں ڈوبے رہنے والے فلم ساز سے محروم ہو گئی ہے۔ اشوک پنڈت نے اپنے تاثرات میں اہلِ خانہ اور قریبی رفقا سے ہمدردی کا اظہار کیا اور کہا کہ آخری رسومات کی تفصیلات جلد شیئر کی جائیں گی۔
 
اس خبر کے سامنے آتے ہی فلم انڈسٹری میں سوگ کی لہر دوڑ گئی۔ متعدد ساتھی فنکاروں، ہدایت کاروں اور تکنیکی عملے نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر تعزیتی پیغامات لکھے اور سنجے گپتا کی فنی اور شخصی خوبیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
 
ممبئی کی ورسوا پولیس نے اس معاملے میں اے ڈی آر، یعنی حادثاتی موت کی رپورٹ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں کسی سازش یا کسی بھی غیر قانونی عمل کے شواہد سامنے نہیں آئے، اور معاملہ بظاہر گھریلو حادثہ معلوم ہوتا ہے۔ پولیس نے موقعِ واردات کی صورتحال، میڈیکل معائنہ اور اہل خانہ کے بیانات کی روشنی میں ضابطہ فوجداری کے مطابق کاروائی آگے بڑھائی ہے، جبکہ مکمل پوسٹ مارٹم رپورٹ اور حتمی رائے بعد میں سامنے آنے کی توقع ہے۔ 
 
سنجے گپتا نے اپنی فلمی زندگی کا آغاز 1994 میں بطور ہدایت کار فلم آتش: فیل دی فائر سے کیا، جس میں سنجے دت اور آدتیہ پنچولی نے مرکزی کردار نبھائے۔ اس ابتدائی کامیابی کے بعد انہوں نے رام شاستر، ہمیشہ، جنگ اور خوف جیسی فلموں کی ہدایت کاری کی اور جلد ہی ان کا نام ایک الگ بصری اسلوب، تیز رفتار بیانیے اور میوزک کے موثر استعمال کے باعث نمایاں ہونے لگا۔ 2002 میں ریلیز ہونے والی ان کی فلم کانٹے نے انہیں وسیع شہرت دی، جس میں امیتابھ بچن، سنجے دت اور سنیل شیٹی سمیت کئی معروف اداکار شامل تھے۔ کانٹے کے اینسمبل کاسٹ، اسٹائلائزڈ ایکشن اور ہالی ووڈ سے متاثر قصہ گوئی نے اسے اپنے وقت کی مقبول ترین کرائم تھرلرز میں شمار کرایا۔
 
سنجے گپتا اور سنجے دت کی پیشہ ورانہ جوڑی نے متعدد بار کامیابیاں سمیٹیں۔ دونوں نے مسافر، زندہ اور شوٹ آؤٹ ایٹ لوکھنڈوالا جیسی فلموں میں مل کر کام کیا، جن میں شہری جرائم، اخلاقی پیچیدگی اور اینٹی ہیرو کے بیانیے نے ناظرین کو متوجہ کیا۔ گپتا نے بعد ازاں کابل میں ریتک روشن اور یامی گوتم کے ذریعے ایک جذباتی اور بصری طور پر پراثر انتقامی ڈراما پیش کیا، جبکہ ممبئی ساگا میں انہوں نے ایک بار پھر ممبئی کے سماجی و سیاسی پس منظر میں جرائم اور طاقت کی کشمکش کو بڑے پردے پر سادہ مگر کسا ہوا انداز دیا۔ ہدایت کاری کے ساتھ وہ پروڈیوسر اور اسکرین رائٹر کے طور پر بھی سرگرم رہے۔
 
ان کے آخری کام میں دی مرانڈا برادرز شامل ہے، جو 2025 میں ریلیز ہوئی تھی۔ سنجے گپتا نے ہرش وردھن رانے اور میزان جعفری اداکاری والی فلم کی ہدایت کاری اور پروڈیوس کی۔  انہوں نے دس کہانیاں، پلان، ووڈ اسٹاک ولا، ایسڈ فیکٹری اور پنکھ جیسی فلموں کو پروڈیوس کیا اور نئی کہانیوں، موضوعات اور تجربات کو پلیٹ فارم فراہم کیا۔ ان کے کریڈٹ پر ایسے پروجیکٹس بھی ہیں جنہوں نے نئے فنکاروں اور تکنیکی ماہرین کو موقع دیا۔