Friday, October 30, 2026 | 18 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • بھوٹان میں برفانی جھیل پھٹنے سے سیلاب، سڑکیں اور پل متاثر، بھارت کے زیریں علاقوں میں بھی خطرے کا خدشہ

بھوٹان میں برفانی جھیل پھٹنے سے سیلاب، سڑکیں اور پل متاثر، بھارت کے زیریں علاقوں میں بھی خطرے کا خدشہ

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 30 Oct 2026

بھوٹان میں برفانی جھیل پھٹنے سے سیلاب، سڑکیں اور پل متاثر، بھارت کے زیریں علاقوں میں بھی خطرے کا خدشہ
بھوٹان کے ضلع گاسا کے لونگو علاقے میں سنتافو برفانی جھیل پھٹنے سے سیلابی ریلہ نیچے کی وادیوں کی جانب تیزی سے بڑھ گیا۔ اس کے نتیجے میں کئی سڑکیں اور عارضی پل متاثر ہوئے، جبکہ مختلف مقامات پر ملبہ جمع ہونے کی اطلاعات ہیں۔ یہ واقعہ جمعرات 29 اکتوبر 2026 کی شام پیش آیا، جب سطح سمندر سے تقریباً 4,480 میٹر کی بلندی پر واقع جھیل سے پانی اچانک مو چھو ندی میں بہنا شروع ہو گیا۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق سیلاب کے باعث لیا علاقے کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے، جبکہ گاسا کے گرم پانی کے چشمے بھی متاثر ہوئے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات میں جھیل سے خارج ہونے والے پانی کی مقدار تقریباً 74 لاکھ مکعب میٹر تک بتائی جا رہی ہے۔
 
پہلے ہی خطرناک جھیلوں کی فہرست میں شامل تھی سنتافو
 
سنتافو جھیل گلیشیئر کے پیچھے ہٹنے سے بننے والے گڑھے میں پگھلے ہوئے پانی کے جمع ہونے سے وجود میں آئی تھی۔ اسے ایک کمزور مورین بند نے روک رکھا تھا، جس کی وجہ سے اس جھیل کو طویل عرصے سے خطرناک سمجھا جا رہا تھا۔ سال 2021 میں بھوٹان کے نیشنل سینٹر فار ہائیڈرولوجی اینڈ میٹرولوجی نے اسے 17 ممکنہ طور پر خطرناک برفانی جھیلوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ اسی سال محقق ولفریڈ ہیگ اور ان کے ساتھیوں نے مو چھو ندی کے علاقے میں برفانی جھیل پھٹنے سے آنے والے سیلاب کے خطرات پر ایک تحقیق شائع کی تھی۔ اس تحقیق میں سیلاب کے 9 ممکنہ منظرناموں کا جائزہ لیا گیا تھا۔ تحقیق میں خبردار کیا گیا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس سے نئی برفانی جھیلیں بن رہی ہیں اور پرانی جھیلوں کا حجم بڑھ رہا ہے۔ اس صورتحال میں اچانک برفانی جھیل پھٹنے اور بڑے سیلاب آنے کے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔
 
سڑکوں، پلوں اور پن بجلی منصوبوں کو خطرہ
 
تحقیق کے مطابق سنتافو جھیل کا رقبہ تقریباً 2 لاکھ 38 ہزار مربع میٹر اور اس میں پانی کی مقدار تقریباً 62 لاکھ مکعب میٹر تھی۔ جھیل کی گلیشیئر سے قربت بھی اسے زیادہ خطرناک بناتی ہے۔ ماہرین کی ماڈلنگ میں بتایا گیا تھا کہ بدترین صورتحال میں رہائشی عمارتوں کو محدود نقصان پہنچ سکتا ہے، لیکن سڑکیں، بیلی پل، کھیت اور دیگر بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔ سیلاب کے اثرات 120 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر موجود پن بجلی منصوبوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ تازہ واقعے کے بعد سڑکوں کے کٹاؤ، ایک مقامی سولر پلانٹ کو نقصان اور پلوں کے گرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
 
بھارت کے زیریں علاقوں تک پانی پہنچنے کا خدشہ
 
ماہرین کے مطابق سیلابی پانی پہلے مو چھو ندی میں داخل ہوا، جو آگے چل کر فو چھو سے ملتی ہے۔ دونوں ندیاں پوناکھا کے قریب پوناتسانگ چھو بناتی ہیں۔ یہ دریا بھارت میں داخل ہونے کے بعد سنکوش کہلاتا ہے اور بالآخر برہم پتر میں جا ملتا ہے۔ اسی دریا کے بہاؤ کے باعث مغربی بنگال کے علی پور دوار، جلپائی گوڑی اور کوچ بہار کے علاوہ آسام کے دھبری جیسے زیریں علاقوں میں بھی اثرات پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تاہم، اب تک سرحد پار کسی بڑے نقصان کی باضابطہ اطلاع نہیں ملی ہے۔
 
انتظامیہ کی نگرانی، لوگوں کو محفوظ رہنے کی ہدایت
 
ضلعی حکام اور ہنگامی امدادی ٹیمیں دریائی بہاؤ پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ متاثرہ مقامات سے ملبہ ہٹانے اور کمزور حصوں کو محفوظ بنانے کا کام بھی جاری ہے۔ ماہرین نے دریا کے کنارے رہنے والے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ پانی کا بہاؤ معمول پر آنے تک محفوظ مقامات پر رہیں۔ ماحولیاتی ماہرین کے مطابق یہ واقعہ پہاڑی علاقوں میں برفانی جھیلوں کی مسلسل نگرانی، بروقت خطرے کے الرٹ اور محفوظ انخلا کے انتظامات کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ایسے خطرات کم کرنے کے لیے بعض جھیلوں کی سطحِ آب کو بتدریج کم کرنا، کمزور مورین بندوں کو مضبوط بنانا اور پن بجلی منصوبوں کے حفاظتی نظام کو بہتر بنانا ضروری ہے۔