حیدرآباد کے باشندوں کے لیے ایک اہم انتباہ سامنے آیا ہے۔ حیدرآباد میٹرو پولیٹن واٹر ورکس اینڈ سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ (HMWSSB)کے منیجنگ ڈائریکٹر اشوک ریڈی نے واضح کیا ہے کہ شہر کو جنوری سے ستمبر تک، یعنی مجموعی طور پر 8 ماہ، شدید آبی قلت کا سامنا ہو سکتا ہے۔
ان کے مطابق منجیرہ اور سنگور ذخائر آب میں پانی کا ذخیر ہ بہت زیادہ کم ہونے کے باعث یومیہ تقریباً 100 ملین گیلن پانی کی کمی واقع ہونے کا قوی امکان ہے۔ ان کے مطابق آبی پروجیکٹس میں پانی کی سطحوں میں کمی اور زیرِ زمین پانی میں تیزی سے تنزل نے صورت حال کو پیچیدہ بنا دیا ہے، جس کے سبب گھریلو صارفین اور صنعتی یونٹس دونوں متاثر ہوں گے۔
واٹر ورکس ایم ڈی اشوک ریڈی کے مطابق یہ بحران کب اور کیوں شدت اختیار کرے گا اس کا بنیادی سبب گزشتہ مہینوں کی ناکافی بارشیں، بالائی ذخائر کی بھرائی نہ ہونا، اور ضرورت سے زیادہ نکاسی ہے، جس کے نتیجے میں جنوری سے ستمبر تک پانی کی فراہمی کے معمولات متاثر رہیں گے۔اشوک ریڈی کے مطابق ادارہ اس کمی کو کم سے کم کرنے کے لیے ہنگامی اور درمیانی مدت کے اقدامات پر کام کر رہا ہے تاکہ شہریوں کی بنیادی ضروریات پوری کی جاسکیں۔ ان کے مطابق کمی کو پورا کرنے کے لیے متبادل انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
منصوبہ یہ ہے کہ گوداوری سے 100 ایم جی ڈی، کرشنا دریا سے 10 سے 15 ایم جی ڈی اور عثمان ساگر سے مزید 5 ایم جی ڈی پانی شہر تک پہنچایا جائے۔ ان کے بقول اگر یہ انتظامات بروقت مکمل ہو جائیں تو اندازاً 60 فیصد تک کمی پر قابو پایا جا سکتا ہے، تاہم 20 سے 40 فیصد تک کی کمی برقرار رہنے کا امکان پھر بھی موجود رہے گا۔
ان کے مطابق ادارہ پائپ لائنوں کی گنجائش بڑھانے، پمپنگ اسٹیشنوں کی درستی، بجلی کی بلا تعطل فراہمی، اور تقسیم کے شیڈول کی ازسرِ نو ترتیب جیسے اقدامات پر بھی تیزی سے عمل کر رہا ہے تاکہ ترسیل میں ضائع ہونے والے پانی کو کم کیا جا سکے۔ اشوک ریڈی نے شہر کے ان علاقوں کی نشاندہی بھی کی جو سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔
اشوک ریڈی کا کہنا ہےکہ مجموعی طور پر 7 اسمبلی حلقوں میں اثرات شدید ہوں گے، جن میں خاص طور پر شیرلنگم پلی میں صورت حال سنگین رہنے کا خدشہ ہے اور وہاں 80 فیصد تک پانی کی قلت درپیش ہو سکتی ہے۔ اسی طرح پٹن چیرو سے نارسنگی تک کے احاطے میں واقع علاقوں میں بھی سپلائی کے مسائل نمایاں ہوں گے اور اندازاً 300,000 کنکشنز کو فراہمی میں رکاوٹیں پیش آ سکتی ہیں۔
واٹر ورکس ایم ڈی نے ان علاقوں کے لیے خاص ریشننگ پلان ترتیب دیا جا رہا ہے اور ٹیٹائم پریشر مینجمنٹ کے ذریعے کم وقت میں زیادہ گھروں تک پانی پہنچانے کی کوشش ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ادارہ بحران کی نوعیت کے پیش نظر مرحلہ وار شیڈول پر غور کر رہا ہے جس کے تحت کم دباؤ کی فراہمی اور وقفہ وقفہ سے سپلائی جیسے اقدامات کیے جا سکتے ہیں، تاہم ہدف یہ ہے کہ پینے کے پانی کی کم از کم ضروریات کسی بھی حال میں متاثر نہ ہوں۔ اس مقصد کے لیے ٹینکر انتظام، مقامی بورویلز کی نگرانی، اور لیکج سرویز تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
حیدرآباد میٹرو پولیٹن واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر اشوک ریڈی نے شہریوں سے اپیل کی کہ آنے والے مہینوں میں پانی کے ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنائیں، غیر ضروری استعمال جیسے کار واش، صحن دھلائی اور باغیچوں میں ضرورت سے زیادہ آبپاشی کو محدود رکھیں، گھروں میں اسٹوریج ٹینکس کی صفائی اور نلکوں کی مرمت بروقت کریں، اور کمیونٹی لیول پر واٹر ہاروِسٹنگ کے انتظامات فعال بنائیں۔ اشوک ریڈی نے یہ بھی کہا کہ بڑی عمارتوں، اپارٹمنٹس اور کمرشل اسٹیبلشمنٹس کو ری سائیکلنگ یونٹس اور گری و واٹر کے دوبارہ استعمال کی طرف فوری قدم بڑھانا ہوگا تاکہ میٹھے پانی پر دباؤ کم کیا جا سکے۔
انہوں نے یقین دلایا کہ صوبائی حکومت اور واٹر بورڈ مشترکہ طور پر فنڈنگ اور تکنیکی وسائل مہیا کر رہے ہیں، اور صورت حال کی روزانہ نگرانی کی جا رہی ہے۔ کسی بھی تبدیلی یا بہتری کی صورت میں عوام کو بروقت آگاہ کیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے انتباہ دہرایا کہ زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے جنوری سے ستمبر تک احتیاط، بچت اور منظم تقسیم کے بغیر بحران پر قابو پانا ممکن نہ ہوگا۔






