تمل ناڈو کے وزیراعلیٰ سی جوزف وجے نے جمعہ کے روز سرکاری ملازمتوں کے امیدواروں کے لیے عمر میں 5 سال کی خصوصی نرمی دینے کا فیصلہ منظور کیا ہے، جو سرکاری طور پر آئندہ 5 برس تک نافذ العمل رہے گا۔ ریاستی حکومت کی جانب سے جاری کردہ سرکاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام اُن امیدواروں کی نمائندگیوں کے تسلسل میں کیا گیا ہے جو مختلف مسابقتی امتحانات میں حصہ لیتے ہیں اور عمر کی بالائی حد کے باعث مواقع سے محروم رہ جاتے تھے۔ حکومت کے مطابق اس فیصلے سے ریاست بھر میں سرکاری محکموں میں ملازمت کے خواہشمند لاکھوں نوجوانوں اور تجربہ کار امیدواروں کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔
سرکاری اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ عمر میں دی جانے والی یہ نرمی موجودہ قوانین اور قواعد کے اوپر اضافی سہولت کے طور پر ہوگی، یعنی جو عمومی یا مخصوص زمروں کے لیے پہلے سے رائج عمر میں چھوٹ میسر ہے، اس کے علاوہ مزید 5 سال کی گنجائش دی جائے گی۔ یہ وضاحت اس لیے کی گئی ہے تاکہ امیدوار یہ سمجھ سکیں کہ نئی سہولت اُن پرانے قواعد کی جگہ نہیں لے رہی بلکہ ان میں اضافہ ہے۔ حکومت نے کہا کہ اس سے مقابلہ جاتی امتحانات، تحریری ٹیسٹ اور انٹرویو کے مراحل میں شامل ہونے کے لیے زیادہ وسیع دائرہ میسر آئے گا اور اہل امیدوار اپنی تیاری اور اہلیت کی بنیاد پر برابری کے مواقع حاصل کر سکیں گے۔
جمعہ کے روز لیے گئے اس فیصلے کی مؤثر تاریخ کے متعلق بتایا گیا کہ یہ قدم فوری طور پر نافذ ہوگا اور مکمل 5 برس تک برقرار رہے گا، تاکہ منصوبہ بندی کے مطابق آئندہ بھرتیوں کے شیڈول میں امیدوار اپنی اہلیت اور عمر کے زمرے کو بدرجہا بہتر طور پر میچ کر سکیں۔ حکومت نے کہا کہ پچھلے کچھ برسوں میں مسابقتی امتحانات کے انعقاد میں وقفوں، کووڈ کے بعد پیدا ہونے والی تعلیمی و معاشی رکاوٹوں، اور تقرری عمل کی مرحلہ وار پیش رفت کے سبب کئی امیدوار عمر کی بالائی حد کے قریب پہنچ گئے تھے۔ انہی وجوہات کی بنا پر امیدواروں کی جانب سے تحریری نمائندگیاں، ملاقاتیں اور اجتماعی مطالبات سامنے آئے، جنہیں مدنظر رکھتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے یہ فیصلہ کیا۔
اگرچہ اعلامیے میں مخصوص زمروں، متعلقہ محکمہ جاتی اشتہارات یا عہدوں کے لیے علیحدہ علیحدہ عمر کی تفصیلات بیان نہیں کی گئیں، لیکن یہ کہا گیا کہ مجاز محکمے ہر آنے والے بھرتی نوٹیفکیشن میں واضح ہدایات جاری کریں گے، تاکہ درخواست دہندگان کے لیے طریقہ کار میں کوئی ابہام باقی نہ رہے۔ حکومت نے مزید کہا کہ اس سہولت کا مقصد میرٹ کی بنیاد پر تقرری کے عمل کو متاثر کیے بغیر موقعوں کی مساوی رسائی فراہم کرنا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق عمر میں نرمی جیسی پالیسی عموماً اُن ادوار میں متعارف کرائی جاتی ہے جب بھرتی کے عمل میں رکاوٹیں یا معاشی سست روی سے روزگار کے مواقع سمٹ جائیں۔ ایسے فیصلے امیدواروں کو تیاری کے اضافی وقت کے ساتھ یہ یقین دہانی بھی دیتے ہیں کہ وہ عمر کی تکنیکی پابندی کے سبب سسٹم سے باہر نہیں ہو جائیں گے۔ تاہم ماہرین یہ بھی یاد دلاتے ہیں کہ متعلقہ محکموں کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ ہر اشتہار میں عمر کی حد، چھوٹ کے اطلاق، کٹ آف تاریخ، اور ضروری دستاویزات کے تقاضوں کو شفاف انداز سے شائع کریں تاکہ بعد ازاں جانچ کے مراحل میں کسی قسم کی قانونی پیچیدگی پیدا نہ ہو۔






