Thursday, September 17, 2026 | 03 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • علاقائی
  • »
  • سابق ریاست حیدرآباد کےانڈین یونین میں انضمام پر تقاریب

سابق ریاست حیدرآباد کےانڈین یونین میں انضمام پر تقاریب

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: 17 Sept 2026

سابق ریاست حیدرآباد کےانڈین یونین میں انضمام پر تقاریب
آج سے 78 برس قبل 13 ستمبر 1948 کو سابق ریاست حیدرآباد ، دکن کا انڈین یونین میں انضمام ہوا۔ ہرسال اس دن کو مختلف رکھنے والے لوگ مختلف نام سے مناتےہیں۔ انڈین افواج نے ریاست حیدرآباد پرآپریشن پولو کیا تھا اور صرف پانچ دن بعد نظام حیدرآباد کے کمانڈر اِن چیف سید احمد العیدروس نے باضابطہ ہتھیار ڈال دیے ۔ حیدرآباد کے آخری نظام میر عثمان علی خان نے حیدرآباد ریڈیو سے ریاست کے انڈین یونین میں انضمام  کا اعلان کیا تھا۔ اس دن،  کو کو  ئی یوم دعا کے طو رپر منا رہا رہے ہیں۔ تو کوئی یوم آزادی کےطور پر منا ر ہے ہیں۔ تو کوئی یوم عوامی حکمرانی کےطورپرمنا رہےہیں۔

آپریشن پولو کےذریعہ فوجی کاروائی 

15اگست 1947 کےبعد بھی حیدرآباد ریاست انڈین یونین میں شامل نہیں ہوئی تھی۔ تاریخ داں کپٹن پانڈو رنگا راؤ کےمطابق  نظام حکومت نے  انڈین یونین میں انضمام  پر  فیصلہ لینے کےلئے دو سال  کامعاہدہ کیا تھا۔اسی دوران، ریاست حیدرآباد میں رضاکاروں، کمنسٹوں کی جانب سے تشدد کے واقعات سامنے آئے۔ ان واقعات کو بنیاد بنا کر  اْس وقت کے وزیر داخلہ سردار ولبھ بھائی پٹیل نے 13ستمبر 1948 کو آپریشن پولو کیا۔ جس کو عام طو پر ، پولیس ایکشن کہا جاتا ہے۔( لیکن یہ فوجی آپریشن تھا)۔ یہ فوجی کاروائی پانچ دنوں تک ہی رہی لیکن اس میں ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں اور دیہی علاقوں میں فسادات کا بازار گرم رہا۔ 

نسلیں گزر گئیں لیکن درد ابھی باقی ہے

فسادات اور فوجی کاروائیوں کی تحقیقات کے لیےاْ س وقت کی حکومت نے  سندر لال کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی۔حیدرآباد پر حملے کی سچائی کے لیے سندرلال کمیٹی کو منظر عام پر لانا ضروری ہے۔ انھوں نے انڈین حکومت سے سوال کیا کہ کوئی ریاست اپنے بادشاہ سے آزادی کیوں چاہے گی جب اس نے اپنی رعایا کے خلاف کوئی جرم نہیں کیا ہو۔ اس کمیٹی نے ہزارو افراد کے قتل، عصمت دری کی رپورٹ دی۔ غیر سرکاری طور پر ہلاکتوں کی تعداد لاکھوں بتائی گئیں۔ جو زیادہ تر اقلیتوں یعنی مسلمانوں کی تباہی کی داستان تھی۔ اس تباہی کا ازالہ 78سال بعد بھی  نہیں کیا جا سکا۔ راتوں رات مسلمانوں  کےہاتھوں سے حکومت چلی گئی۔ملازمت چلی گئی، انکی سرکاری زبان اردو چلی گئی۔زمین جائیداد سب چلے گئے۔ا ور تو اور ریاست حیدرآباد کو زبان کے نام پر تقسیم کیا گیا اور اب  یہ علاقہ چار ریاستوں، تلنگانہ، آندھرا، مہاراشٹر اور کرناٹک ریاستوں میں تقسیم ہوچکا ہے۔نسلیں گزر گئی لیکن درد ابھی باقی ہے۔

 امیر ترین اورسیکولر حکمراں

نظام اْس دور کے امیر ترین حکمراں تھے۔ عثمان علی خان اپنے زمانے میں دنیا کے امیر ترین شخص تھے جن کی دولت کا تخمینہ تقریبا 250 ارب امریکی ڈالر لگایا جاتا ہے۔ان کے پاس زر و جواہرات کا وسیع خزانہ تھا جس میں 20 کروڑ امریکی ڈالر مالیت کا ایک 185 قیراط کا جیکب ہیرا بھی تھا جسے وہ پیپر ویٹ (کاغذ کو دبانے والے وزن) کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ ریاست حیدرآباد کی اپنی  کرنسی ، ریولے، ڈاک، ریڈیو، یئرلائن  بھی تھا۔

 نواب میرعثمان علی خان راج پرمکھ

1948سے 1950 تک سابق حکمراں نواب میرعثمان علی خان کو آئینی عہدہ راج پرمکھ بنایا گیا، لیکن آج  زعفرانی پارٹیاں نظام حیدرآباد کو ایک ویلن کی طرح پیش کررہی ہیں۔ جب 1965 میں انڈیا کے وزیراعظم لال بہادر شاستری نے حیدرآباد کا دورہ کیا تو انھوں نے قومی دفاع کے فنڈ میں میر عثمان علی خان سے دل کھول کر عطیہ دینے کی گزارش کی۔ یہ فنڈ چین کے ساتھ جنگ کے نتیجے میں قائم کیا گیا تھا۔ اس فنڈ میں میر عثمان علی خان نے 5000 کلو سونا عطیہ کیا جو آج کے اعتبار سے 1600 کروڑ روپے ہوتا ہے۔ نظام حیدرآباد نے انڈیا ۔ چین جنگ کےدوران 5 ٹن سونا، انڈین حکومت کو پیش کیا۔ تاکہ اْس وقت کی فوجی اور معاشی ضرورت  پوری ہو سکے۔
 
نظام  کی بنائی گئی تاریخی عمارتیں آج بھی حکومت اور عوامی استعمال میں ہیں۔ جس کی مثالی ، تلنگانہ اسمبلی، ہائی کورٹ،  عثمانیہ یونیورسٹی،عثمانیہ اسپتال، نظام شوگر فیکٹری، نظام ساگر، عثمان ساگر، حمایت ساگر اور بہت  کچھ ہے۔ لیکن پھر بھی یہ لوگ نظام کوملک دشمن بتانے کی ناکام کوشش کر رہےہیں۔ اگر نظام ملک دشمن ہوتے تو انھیں حیدرآباد کو انڈیا میں ضم کرنے کے بعد نظامِ حیدرآباد کے خلاف کوئی مجرمانہ کاروائی کیوں نہیں کی گئی۔ اس کے برعکس انھیں وہاں کا ’راج پرمکھ‘ یعنی گورنر کیوں بنایا گيا؟

'تلنگانہ پبلک گورننس ڈے' 

تلنگانہ میں 17 ستمبر کو 'تلنگانہ پبلک گورننس ڈے' کی تقریبات بڑی شان و شوکت کے ساتھ منائی گئی۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے حیدرآباد کے تاریخی پبلک گارڈن میں منعقدہ سرکاری پروگرام میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور قومی پرچم لہرایا۔پبلک گارڈن پہنچنے سے پہلے چیف منسٹر نے گن پارک پہنچ کر  تلنگانہ شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا۔ پبلک گارڈن میں پولیس فورس سے سلامی لینے کے بعد ریونت ریڈی نے عوامی نظم و نسق کے دن کے موقع پر ریاست کے عوام کو اپنی مبارکباد پیش کی۔

ضلعی مراکز اور سرکاری دفاتر میں تقاریب 

تقریبات کے ایک حصے کے طور پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ کانگریس حکومت عوام کی امنگوں کے مطابق آزادی اور سماجی انصاف پر مبنی شفاف 'عوامی حکمرانی' فراہم کر رہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ غریبوں، کسانوں اور پسماندہ طبقات کی بہتری ان کی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور ریاست کی ترقی اور ریاست کی تعمیر نو کے عمل میں ہر ایک کو شراکت دار بننے کی اپیل کی۔ریاست کے تمام ضلعی مراکز اور سرکاری دفاتر میں عوامی نظم و نسق کے دن کی تقریبات منعقد کی گئیں جن میں عوامی نمائندوں اور عہدیداروں نے قومی پرچم لہرایا۔

 تاریخ کو بھولیں گے اور نا ہی تاریخ پر رکیں گے: سی ایم 

تلنگانہ کے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے جمعرات کو کہا کہ ریاست نہ تو تاریخ کو بھولے گی اور نہ ہی تاریخ پر رکے گی۔ انہوں نے ماضی کی جدوجہد کے جذبے کے ساتھ جدید تلنگانہ کی تعمیر پر زور دیا۔انہوں نے 'پرجا پالانا دنوتسوام' (پیپلز گورننس ڈے) کے موقع پر اپنی تقریر میں کہا۔"ہم تاریخ کو نہیں بھولیں گے۔ ہم صرف تاریخ پر نہیں رکیں گے۔ آئیے ماضی کی جدوجہد کے جذبے کے ساتھ ایک جدید تلنگانہ کی تعمیر کریں،" 

باغ عامہ نامپلی میں سرکاری تقریب 

چیف منسٹر نے یہاں پبلک گارڈن میں قومی پرچم لہرایا اور 17 ستمبر کے موقع پر تلنگانہ کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا، جو ریاست حیدرآباد کے ہندوستانی یونین سے الحاق کی علامت ہے۔انہوں نے کہا کہ تلنگانہ وہ سرزمین ہے جس نے نسلوں کے جبر، استحصال، جاگیرداری اور تسلط پسند حکمرانی کے خلاف آواز بلند کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان جنگجوؤں کی جائے پیدائش ہے جنہوں نے ظالم حکمرانوں کے خلاف جنگ میں اپنی جانیں قربان کیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جدوجہد کی اس طویل تاریخ میں 17 ستمبر کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ ہندوستان نے 15 اگست 1947 کو آزادی حاصل کی۔ تاہم اس وقت کی حیدرآباد ریاست نظام کے زیر تسلط رہی۔ حیدرآباد ریاست تلنگانہ کے ساتھ ساتھ موجودہ مہاراشٹرا اور کرناٹک ریاستوں کے بعض علاقوں پر مشتمل ہے۔

نظام کےدور سے ہی حیدرآباد کی عالمی پہچان 

ریونت ریڈی نے کہا۔"نظام کے دور میں، حیدرآباد نے صنعت، زراعت، تعلیم، اور طبی شعبوں میں نمایاں ترقی حاصل کی اور عالمی سطح پر پہچان بھی حاصل کی۔ ساتھ ہی، دیہی تلنگانہ شدید جاگیردارانہ استحصال، بندھوا مزدوری اور جبر سے دوچار تھا۔ رزاقوں کی طرف سے کیے جانے والے مظالم اور عوام کی جدوجہد کے آخری مرحلے میں"۔ 

حیدرآباد دکن کا انڈین یونین میں انضمام 

انہوں نے نشاندہی کی کہ حیدرآباد کے لوگوں کی امنگوں کو تسلیم کرتے ہوئے اور اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو اور نائب وزیر اعظم سردار ولبھ بھائی پٹیل نے 'آپریشن پولو' کے نام سے مشہور فوجی کاروائی کو نافذ کیا۔ آپریشن پولو کے بعد ساتویں نظام نے حکومت ہند کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔

17ستمبر کو یوم عوامی حکمرانی 

17 ستمبر 1948 کو ریاست حیدرآباد باضابطہ طور پر ہندوستان کا اٹوٹ انگ بن گئی۔ یہ ایک اہم دن ہے جس نے نہ صرف نظام کی حکمرانی کا خاتمہ کیا بلکہ ایک تاریخی لمحہ بھی ہے جس نے بادشاہت سے جمہوری طرز حکمرانی کی طرف منتقلی کی راہ ہموار کی۔ یہی بنیادی وجہ ہے کہ ہم 17 ستمبر کو عوامی حکمرانی کے طور پر منا رہےہیں ۔ لوگوں کی آواز کو اہمیت دینا، ان کے مسائل کو حل کرنا، حقوق کا تحفظ، اس بات کو یقینی بنانا کہ حکومتی وسائل سب تک پہنچیں، اور ایسا ماحول پیدا کرنا جہاں ہر فرد عزت نفس کے ساتھ زندگی بسر کرے۔چیف منسٹر نے کہا کہ بہت سی تحریکوں اور قربانیوں نے ریاست حیدرآباد کے ہندوستان کے ساتھ انضمام کے سفر کو یاد  کیا۔تلنگانہ کی تاریخ ایک واضح پیغام دیتی ہے کہ حکمرانی کو عوام کی دہلیز تک پہنچنا چاہیے۔

مرکزی کی جانب سے سکندرآباد میں تقریب 

 مرکزی حکومت کی جانب سے  سقوط حیدرآباد کو  ، تلنگانہ لبریشن ڈے کے طور پر منا یا گیا ۔ اس تقریب میں نائب  صدر جمہوریہ سی پی  رادھا کرشنن، مرکزی وزیر  جی کشن ریڈی اور دیگر نے  شرکت کی ۔سکندرآباد پریڈ گراؤنڈس میں مرکزی حکومت کی جانب سے سرکاری طور پر منعقد کی گئی۔

پروگرام میں نائب صدر جمہوریہ کی شرکت 

نائب صدر جمہوریہ  سی پی رادھا کرشنن نے جمعرات کو کہا کہ ملک کے پہلے نائب وزیر اعظم سردار ولبھ بھائی پٹیل نے آزادی کے بعد بھارتی یونین کے ساتھ نوابی ریاستوں کے انضمام میں غیر معمولی ذمہ داری نبھائی اور ایک مضبوط و متحد 'ایک بھارت' کی بنیاد رکھی۔انہوں نے کہا کہ صرف پٹیل کی بدولت ہی 'ایک بھارت' ہمیشہ 'ایک بھارت' رہے گا۔سابقہ ​​ ریاست حیدرآباد کے بھارتی یونین میں انضمام کی یاد میں مرکزی حکومت کی جانب سے منعقدہ حیدرآباد لبریشن ڈے تقریب سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ پٹیل کے کردار کو قومی یکجہتی کے وسیع تر تناظر میں سمجھا جانا چاہیے۔

کانگریس، بی آر ایس اور مجلس پر تنقید 

  اس موقع پر  مرکزی وزیر جی  کشن ریڈی نے خطاب کیا ۔ اور  کانگریس، بی آر ایس اور ایم آئی ایم پارٹیوں کو تنقید کا  نشانہ بنایا۔ انہیں اس بات پر شدید  برہمی ظاہر کی کہ   حکمرانوں نے  تلنگانہ میں رضاکاروں  کے قتل عام اور مظالم کو تاریخ کے صفحات سے مٹا دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ تاریخ کو چھپانے کی جتنی بھی کوشش کی جائے سچ نہیں چھپے گا۔ انہوں نے کانگریس اور بی آر ایس پارٹیوں پر الزام لگایا جو ایم آئی ایم سے خوفزدہ ہیں، سرکاری طور پر یوم آزادی منانے سے ہچکچا رہی ہیں۔ انہوں نے ایم آئی ایم کے حق میں ووٹ بینک کی سیاست کرنے پر سی ایم ریونت ریڈی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔  

نظام حکومت کی تعریف پر تنقید 

 مرکزی  نے چیف منسٹر ریونت ریڈی پر سخت نکتہ چینی کی کہ انہوں نے نظام حکمرانوں کی بطور اسمبلی گواہ کی تعریف کی۔ "اگر نظام واقعی اچھاےتھے تو اسے تلنگانہ کی آزادی کے لیے مسلح جدوجہد کیوں کرنی پڑی؟ اسے 'آپریشن پولو' کیوں شروع کرنا پڑا؟" انہوں نے کہا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ریونت ریڈی حکومت کی جانب سے ووٹ بینک کی اس طرح کی سیاست کے خلاف آنے والے دنوں میں تلنگانہ کے عوام ہی اپنی عقلمندی کا مظاہرہ کریں گے۔ کیا مرکزی وزیر  کو اس بات کا علم نہیں کہ مرکزی حکومت نے  نظام  حیدرآباد  راج پرمکھ کیوں بنایا تھا؟۔ کیا اْس وقت کےوزیر داخلہ  سردار ولبھ بھائی پٹیل کو اس کا علم نہیں تھا۔ کیوں  سابق وزیر اعظم لال بہادر شاستری نے نظام حیدرآباد سے ستائش کی تھی۔ 

 سیاسی مفاد کیلئے سقوط حیدرآباد پر نفرت کو فروغ

 جب سے ایک خاص نظریہ کےلوگ حکومت کررہےہیں۔ عوام کو ہندو، مسلم کےنام سے تقسیم کیا جا رہا ہے۔ میر عثمان علی خان نے ہندو، مسلم کو اپنی دو آنکھ قرار دیا تھا۔ انھوں نے مندروں  اور یونیورستی کےلئے عطیات  دئے۔ ان کے وزیراعظم غیر مسلم تھے۔ لیکن پھر بھی لوگ   نئی نسل کو تاریخ  کو توڑ مروڑ  کر پیش کر رہےہیں۔ اور نوجوان نسلوں میں نفرت کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاکہ اپنی سیاست کو چمکایا جا سکے۔