Thursday, October 01, 2026 | 17 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • انڈیا اتحاد کا اجلاس، کون کون شریک ہوا؟ کانگریس نے فہرست جاری کردی

انڈیا اتحاد کا اجلاس، کون کون شریک ہوا؟ کانگریس نے فہرست جاری کردی

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 30 Sept 2026

انڈیا اتحاد کا اجلاس، کون کون شریک ہوا؟ کانگریس نے فہرست جاری کردی
اپوزیشن کے انڈیا اتحاد کا اجلاس منعقد کیا گیا، جس میں الیکشن کمیشن سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ میٹنگ الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے حوالے سے جاری سیاسی تنازع کے درمیان ہوئی۔ اپوزیشن کی جانب سے گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔
 
کانگریس کے رہنما جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پر اجلاس میں شرکت کرنے والی جماعتوں کی فہرست شیئر کی۔ ان کے مطابق اجلاس میں کانگریس، سماج وادی پارٹی، ترنمول کانگریس، این سی پی (ایس پی)، شیو سینا (یو بی ٹی)، آر جے ڈی، سی پی ایم، سی پی آئی، نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی، جھارکھنڈ مکتی مورچہ، سی پی آئی (ایم ایل)، آئی یو ایم ایل، کیرالہ کانگریس (ایم)، ایم ڈی ایم کے، وی سی کے، آر ایس پی، کیرالہ کانگریس (جے) اور آل انڈیا فارورڈ بلاک سمیت کئی جماعتوں نے شرکت کی۔ جے رام رمیش نے اپنی پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ یہ جماعتیں آئین سے متعلق اپنے تحفظات کے معاملے پر متحد ہیں۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کے کردار پر بھی سوال اٹھایا اور اس معاملے کو اپوزیشن کے لیے اہم قرار دیا۔
 
انڈیا اتحاد کی موجودہ صورتحال بھی اجلاس کے دوران اہم موضوع رہی۔ عام آدمی پارٹی (AAP) اور ڈی ایم کے (DMK) نے خود کو انڈیا اتحاد سے الگ کر لیا ہے اور واضح کیا ہے کہ اب ان کا اس اتحاد سے تعلق نہیں ہے۔ دوسری جانب سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو بھی اجلاس میں خود شریک نہیں ہوئے۔ ان کی نمائندگی پارٹی کے دو ارکانِ پارلیمنٹ، ہریندر ملک اور محب اللہ ندوی نے کی۔
 
اجلاس سے قبل دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب کے اطراف میں ایسے پوسٹرز بھی لگائے گئے جن میں اپوزیشن رہنماؤں کو الیکشن کمیشن کے معاملے پر نشانہ بنایا گیا تھا۔ پوسٹرز میں اپوزیشن رہنماؤں پر دوہرے معیار کا الزام عائد کیا گیا۔ ان پوسٹرز میں راہل گاندھی، اکھلیش یادو، اروند کیجریوال، ممتا بنرجی، ادھو ٹھاکرے، ایم کے اسٹالن، سپریا شرینیت، ابھیشیک بنرجی اور ادھیر رنجن چودھری سمیت کئی رہنماؤں کی تصاویر شامل تھیں۔ اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں نے الیکشن کمیشن سے متعلق اپنے اعتراضات اور اس معاملے پر آئندہ کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا۔