چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور ووٹر لسٹ کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے خلاف انڈیا اتحاد کے ارکان پارلیمنٹ نے منگل، 6 اکتوبر کو نئی دہلی میں الیکشن کمیشن کے دفتر کی جانب مارچ کر رہی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس احتجاج کے ذریعے انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں اور ووٹر لسٹ میں تبدیلیوں سے متعلق اپنے اعتراضات اٹھائے۔ مارچ کو الیکشن کمیشن کے دفتر تک پہنچنے سے پہلے ہی روک دیا گیا، جس کے بعد اپوزیشن ارکان نے راستے میں دھرنا دیا۔
مارچ کے دوران لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر اور کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا، "گیانیش، بس بہت ہو گیا بھائی۔ اب استعفیٰ دینے کا وقت آ گیا ہے۔" احتجاج کے دوران اپوزیشن ارکان نے وزیراعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور گیانیش کمار کے خلاف بھی نعرے لگائے۔ انڈیا اتحاد کے 30 ستمبر کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ 6 اکتوبر کو اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ الیکشن کمیشن کے دفتر تک مشترکہ مارچ کریں گے۔ انڈیا اتحاد نے SIR کو واپس لینے، ووٹر لسٹ میں مبینہ طور پر خارج کیے گئے ناموں کی بحالی اور انتخابی عمل سے متعلق شکایات پر کارروائی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔
کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے حکومت پر الزام لگایا کہ شہریوں کے ووٹ کے حق کو کمزور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابی عمل میں شفافیت اور ووٹرز کے حقوق کے تحفظ کے لیے احتجاج کر رہی ہے۔ کھڑگے نے اس سے قبل انڈیا اتحاد کے اجلاس کے بعد بھی الیکشن کمیشن کے کام کرنے کے طریقہ کار پر سوال اٹھائے تھے اور گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم الیکشن کمیشن نے اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے فیصلے قانونی طریقہ کار کے مطابق کیے جاتے ہیں۔
کانگریس رکن پارلیمنٹ سید نصیر حسین نے احتجاج کے دوران کہا کہ اپوزیشن کے اہم مطالبات میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا استعفیٰ، SIR کا خاتمہ اور اس عمل کے دوران ووٹر لسٹ سے نکالے گئے ناموں کی دوبارہ شمولیت شامل ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے انتخابی عمل میں مبینہ سیاسی مداخلت کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن نے راہل گاندھی کے بعض الزامات کو "گمراہ کن" قرار دیا ہے۔ فارم 6 میں تبدیلی سے متعلق کمیشن کا کہنا ہے کہ اس میں متعلقہ تبدیلی پہلے ہی منظور شدہ طریقہ کار کے تحت کی گئی تھی۔ اس طرح گیانیش کمار، SIR اور ووٹر لسٹ کا معاملہ ایک بار پھر حکومت، اپوزیشن اور الیکشن کمیشن کے درمیان سیاسی و قانونی تنازع کا مرکز بن گیا ہے، جبکہ سپریم کورٹ میں بھی اس سے متعلق مختلف درخواستوں پر سماعت جاری ہے۔







