ووٹ چوری کے الزامات اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی برطرفی کے مطالبے کو لے کر انڈیا اتحاد سے وابستہ اپوزیشن جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ آج دہلی میں الیکشن کمیشن آف انڈیا کے دفتر تک مشترکہ مارچ کریں گے۔ اپوزیشن نے اس احتجاج کے ذریعے ووٹر لسٹ کی نظرثانی کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار پر اپنے اعتراضات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس احتجاجی مارچ کا فیصلہ 30 ستمبر کو اپوزیشن کی 19 جماعتوں کے اجلاس میں کیا گیا تھا۔ اجلاس کے بعد انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے اعلان کیا تھا کہ اتحاد سے وابستہ تمام اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ 6 اکتوبر کو الیکشن کمیشن کے دفتر تک مارچ کریں گے۔ اس کے علاوہ اپوزیشن رہنماؤں نے صدر جمہوریہ سے ملاقات کرکے ووٹر لسٹ کی نظرثانی سے متعلق اپنے خدشات اور شکایات پیش کرنے کی بات بھی کہی تھی۔
کانگریس کے جنرل سیکریٹری کے سی وینوگوپال نے کہا ہے کہ اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ ’ووٹ چوری‘ کے معاملے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے متعلق سامنے آنے والے حالیہ معاملات کے خلاف مارچ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا مقصد الیکشن کمیشن کے سامنے پرامن احتجاج کرنا ہے۔ وینوگوپال نے پولیس سے اپیل کی کہ مارچ کے دوران ارکان پارلیمنٹ کو نہ روکا جائے، کیونکہ احتجاج جمہوری اور پرامن طریقے سے کیا جائے گا۔ اپوزیشن کے اعلان کے بعد دہلی میں الیکشن کمیشن کے دفتر کے آس پاس سکیورٹی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔ پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی بڑھائی گئی ہے تاکہ مارچ کے دوران کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔
اپوزیشن جماعتیں مسلسل اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR)، ووٹر لسٹ میں مبینہ طور پر نام حذف کیے جانے اور الیکشن کمیشن کے فیصلوں پر سوال اٹھاتی رہی ہیں۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ ووٹر لسٹ کی نظرثانی کے عمل میں شفافیت اور نگرانی سے متعلق کئی سوالات موجود ہیں، جبکہ الیکشن کمیشن اپنے طریقہ کار اور فیصلوں کا دفاع کرتا رہا ہے۔ اب 6 اکتوبر کو ہونے والے اس مارچ کے ذریعے اپوزیشن ایک بار پھر اپنے مطالبات الیکشن کمیشن کے سامنے رکھے گی۔ مارچ کے دوران اپوزیشن ارکان کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی برطرفی اور ووٹر لسٹ کی نظرثانی کے عمل سے متعلق شکایات کو نمایاں کیے جانے کی توقع ہے۔






