Thursday, October 01, 2026 | 17 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • تعلیم و روزگار
  • »
  • عالمی یومِ ترجمہ 2026: تاریخ، اہمیت اور مترجمین کا کردار

عالمی یومِ ترجمہ 2026: تاریخ، اہمیت اور مترجمین کا کردار

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: 30 Sept 2026

عالمی یومِ ترجمہ 2026: تاریخ، اہمیت اور مترجمین کا کردار
عالمی یومِ ترجمہ ہر سال 30 ستمبر کو منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد دنیا بھر کے لوگوں، زبانوں اور ثقافتوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں مترجمین، ترجمانوں اور زبان کے دیگر ماہرین کے کردار کو اجاگر کرنا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق زبان کے ماہرین مختلف قوموں کے درمیان رابطے، باہمی سمجھ بوجھ اور تعاون کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
 
ترجمہ صرف ایک زبان کے الفاظ کو دوسری زبان میں تبدیل کرنے کا نام نہیں بلکہ مختلف زبان بولنے والے لوگوں کے درمیان رابطے کا ذریعہ بھی ہے۔ اس کی مدد سے لوگ اپنی سمجھ میں آنے والی زبان میں کتابیں، خبریں، تعلیمی مواد، قانونی معلومات، صحت سے متعلق معلومات اور ڈیجیٹل مواد حاصل کر سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے آج کے دور میں ترجمہ تعلیم، صحت، قانون، میڈیا، کاروبار اور بین الاقوامی تعلقات سمیت کئی شعبوں میں اہم ہو چکا ہے۔
 

عالمی یومِ ترجمہ کیوں منایا جاتا ہے؟

 
30 ستمبر کی تاریخ سینٹ جیروم سے منسلک ہے۔ سینٹ جیروم ایک مسیحی عالم اور مترجم تھے جنہیں روایتی طور پر مترجمین کا سرپرست بزرگ سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے بائبل کے بیشتر حصے کا لاطینی زبان میں ترجمہ کیا تھا۔ ان کا انتقال بھی 30 ستمبر 420 کو ہوا تھا۔ اسی نسبت سے 30 ستمبر کو عالمی یومِ ترجمہ کے لیے منتخب کیا گیا۔
 
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 24 مئی 2017 کو قرارداد 71/288 کے ذریعے 30 ستمبر کو عالمی یومِ ترجمہ قرار دیا۔ اس دن کا مقصد پیشہ ور مترجمین اور زبان کے ماہرین کے کام کی اہمیت کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا اور بین الاقوامی رابطے میں ان کی خدمات کو تسلیم کرنا ہے۔
 

آج کی دنیا میں ترجمے کی اہمیت

 
آج دنیا پہلے کے مقابلے میں زیادہ ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔ مختلف ممالک کے لوگ تعلیم، کاروبار، سفر، سفارت کاری اور انٹرنیٹ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔ ایسے میں زبان کا فرق بعض اوقات رابطے میں رکاوٹ بن سکتا ہے، جس رکاوٹ کو کم کرنے میں ترجمہ مدد دیتا ہے۔
 
بین الاقوامی سفارت کاری، فلموں، ویب سائٹس، سائنسی تحقیق، خبروں اور سوشل میڈیا میں ترجمے کا استعمال عام ہے۔ اقوام متحدہ میں بھی زبان کے ماہرین اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ادارے کی سرکاری دستاویزات چھ سرکاری زبانوں یعنی عربی، چینی، انگریزی، فرانسیسی، روسی اور ہسپانوی میں جاری کی جاتی ہیں۔ ان دستاویزات کو مختلف زبانوں میں واضح اور درست انداز میں منتقل کرنے کے لیے مترجمین اور دیگر زبان کے ماہرین کام کرتے ہیں۔
 
ترجمہ ثقافتی رابطے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ایک ملک کی کتاب، فلم یا ادبی تخلیق جب دوسری زبان میں منتقل ہوتی ہے تو اسے دوسرے ممالک کے لوگ بھی سمجھ اور پڑھ سکتے ہیں۔ اس طرح مختلف معاشروں کی ثقافت، تاریخ اور خیالات ایک دوسرے تک پہنچتے ہیں۔
 

مصنوعی ذہانت کے دور میں ترجمہ

 
مصنوعی ذہانت اور مشینی ترجمے کی ٹیکنالوجی نے ترجمے کے شعبے میں بھی بڑی تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔ اب کمپیوٹر اور مختلف ڈیجیٹل نظام چند سیکنڈ میں ایک زبان کے متن کو دوسری زبان میں منتقل کر سکتے ہیں۔
 
پیشہ ور مترجمین کی اہمیت اب بھی برقرار ہے، خاص طور پر ایسے معاملات میں جہاں صرف الفاظ کا ترجمہ کافی نہیں ہوتا۔ قانونی، طبی، سائنسی اور سرکاری دستاویزات میں درست معنی، سیاق و سباق اور زبان کے باریک فرق کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔ اسی طرح مختلف ثقافتوں سے متعلق مواد میں بھی انسانی فہم اہم کردار ادا کرتی ہے۔
 

لسانی تنوع کا تحفظ

 
عالمی یومِ ترجمہ لسانی تنوع کی اہمیت کو اجاگر کرنے کا بھی موقع فراہم کرتا ہے۔ دنیا میں ہزاروں زبانیں بولی اور سمجھی جاتی ہیں اور ہر زبان اپنے ساتھ ایک مخصوص ثقافت، تاریخ اور شناخت رکھتی ہے۔ ترجمہ مختلف زبان بولنے والی برادریوں کو علم اور معلومات کا تبادلہ کرنے میں مدد دیتا ہے، جبکہ لوگوں کو اپنی زبان اور ثقافتی شناخت برقرار رکھنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ اقوام متحدہ بھی کثیر لسانیت کو مختلف قوموں کے درمیان رابطے، ثقافتی تنوع اور تعاون کے لیے اہم سمجھتا ہے۔
 
عالمی یومِ ترجمہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ زبانیں لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے کا اہم ذریعہ ہیں۔ جیسے جیسے عالمی سطح پر رابطے بڑھ رہے ہیں، مترجمین، ترجمانوں اور زبان کے دیگر ماہرین کا کردار بھی مزید اہم ہوتا جا رہا ہے۔