ایمرجنسی کی صورت میں محفوظ مقامات پر پناہ لینے
کھڑکیاں بند رکھنے اور سرکاری اطلاعات پر بھروسہ کرنے کی ہدایت
نشریات کے وقت نے خطے میں تشویش بڑھا دی
ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے نے حالیہ دنوں میں اپنے ٹی وی چینلز پر جوہری حملے اور تابکاری کے خطرات سے بچاؤ کے لیے مختصر ہدایتی پیغامات نشر کیے ہیں۔ ان پیغامات میں شہریوں کو بتایا گیا ہے کہ اگر کسی ہنگامی صورتِ حال کا سامنا ہو تو اپنی اور اپنے خاندان کی حفاظت کے لیے فوری طور پر کیا اقدامات کرنے چاہئیں۔ ان نشریات کے بعد ناظرین اور علاقائی مبصرین میں یہ سوال اٹھنے لگے ہیں کہ ایران نے ایسے وقت میں یہ ہدایات کیوں جاری کی ہیں۔
یہ پیغامات تہران میں سرکاری میڈیا کے شہری دفاع اور ملکی سلامتی سے متعلق شعبوں کے تعاون سے تیار کیے گئے۔ حکام کے مطابق ان کا مقصد کسی ممکنہ ہنگامی صورتِ حال میں عوام کو پہلے سے تیار کرنا اور انہیں فوری ردِعمل کے طریقے سمجھانا ہے۔ تاہم ان ہدایات میں کسی مخصوص حملے، تاریخ یا مقام کا ذکر نہیں کیا گیا۔
جوہری ہنگامی صورتِ حال میں کیا کرنا ہوگا؟
نشر کیے گئے پیغامات میں شہریوں کو ہدایت دی گئی کہ اگر سائرن بجے، ہنگامی انتباہ موصول ہو یا سرکاری ادارے کوئی ہدایت جاری کریں تو فوراً کسی محفوظ اور بند جگہ پر پناہ لیں۔ کھڑکیاں اور دروازے بند رکھیں اور وینٹی لیشن کا نظام عارضی طور پر بند کر دیں۔ بچوں اور بزرگوں کو عمارت کے اندرونی حصے میں رکھیں اور سرکاری ہدایات کے مطابق حفاظتی اقدامات کریں۔
پیغام میں یہ بھی بتایا گیا کہ اگر کوئی شخص تابکاری کے ممکنہ اثرات والے علاقے سے باہر آیا ہو تو اسے اپنے کپڑے تبدیل کرنے چاہئیں اور جلد و بالوں کو صابن اور پانی سے اچھی طرح دھونا چاہیے۔ شہریوں کو غیر ضروری فون کالز سے گریز اور سرکاری ذرائع سے مصدقہ اطلاعات حاصل کرنے کا مشورہ بھی دیا گیا۔
طبی ہدایات میں پوٹاشیم آئیوڈائیڈ کا ذکر کرتے ہوئے واضح کیا گیا کہ یہ دوا صرف سرکاری اجازت اور طبی رہنمائی کے مطابق استعمال کی جائے۔ اسے اپنی مرضی سے کھانا مناسب نہیں، کیونکہ اس کا استعمال ہر قسم کی تابکاری سے حفاظت نہیں کرتا۔
گھر میں ضروری سامان رکھنے کا مشورہ
سرکاری ماہرین کے مطابق کسی بھی ہنگامی صورتِ حال کے ابتدائی گھنٹے انتہائی اہم ہوتے ہیں۔ اس لیے شہریوں کو مشورہ دیا گیا کہ وہ گھروں میں فرسٹ ایڈ کٹ، پینے کا صاف پانی، بند ڈبوں میں محفوظ خوراک، بیٹری سے چلنے والا ریڈیو اور ضروری دستاویزات ایک جگہ تیار رکھیں۔
شہری دفاع کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جوہری ہنگامی صورتِ حال پیش آئے تو مقامی حکام کی جانب سے بتائے گئے محفوظ مراکز یا زیرِ زمین شیلٹرز میں رہنا، غیر ضروری سفر سے بچنا اور سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہوں کے بجائے سرکاری ذرائع سے معلومات حاصل کرنا ضروری ہے۔
خطے میں بڑھتی کشیدگی کے درمیان نشریات
یہ ہدایات ایسے وقت میں نشر کی گئی ہیں جب خطے میں میزائل اور ڈرون صلاحیتوں، ایران کے جوہری پروگرام اور سرحد پار کشیدگی سے متعلق بیانات میں شدت دیکھی جا رہی ہے۔ ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ شہری دفاع کی تیاریاں امن کے دنوں میں کی جاتی ہیں تاکہ کسی بھی خطرے کے وقت عوام میں گھبراہٹ کم ہو اور قیمتی جانوں کا تحفظ کیا جا سکے۔
سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق یہ ہدایات عمومی نوعیت کی ہیں اور ان کا مقصد شہریوں کو تابکاری آلودگی، محفوظ مقام پر پناہ لینے اور آلودگی سے پاک ہونے جیسے بنیادی حفاظتی طریقوں سے آگاہ کرنا ہے۔ فی الحال ان نشریات میں کسی فوری حملے کے امکان یا مخصوص خطرے کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔






