Saturday, October 17, 2026 | 05 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • ایران کی حوثی حملوں میں ملوث ہونے کی تردید، سعودی عرب کا ڈرونز اور میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ

ایران کی حوثی حملوں میں ملوث ہونے کی تردید، سعودی عرب کا ڈرونز اور میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 17 Oct 2026

ایران کی حوثی حملوں میں ملوث ہونے کی تردید، سعودی عرب کا ڈرونز اور میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ
ایران نے یمن کے حوثی گروپ کے حملوں میں کسی بھی طرح ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ یہ بیان سعودی عرب کی جانب سے ایران پر الزام لگائے جانے کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔ سعودی عرب نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے حوثیوں کو سعودی عرب کے خلاف کشیدگی بڑھانے کی ترغیب دی ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ یمن کے مسئلے کے حل کے لیے اس کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یمنی مسلح افواج اپنے مفادات اور جائز ترجیحات کے مطابق فیصلے کرتی ہیں۔
 
سعودی عرب کی جانب سے ایران پر یہ الزام ایسے وقت میں لگایا گیا ہے جب خطے میں کشیدگی بڑھنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ تاہم، ایران نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یمن کے معاملے کو حل کرنے کے لیے ملک کی خودمختاری اور اس کے علاقوں کی وحدت کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔ ایران کے بیان میں حوثیوں کے حملوں میں تہران کے کسی کردار کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ دونوں ممالک کے درمیان اس معاملے پر الزامات اور تردید کے باعث خطے کی صورتحال پر توجہ بڑھ گئی ہے۔
 
دوسری جانب، سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان نے بتایا کہ دفاعی نظام نے جنوبی سعودی عرب اور ریاض کے علاقے میں تین ڈرونز کو روک کر تباہ کر دیا۔ ترجمان کے مطابق، بحیرۂ احمر کے اوپر دو کروز میزائلوں کو بھی روک کر تباہ کیا گیا۔ تاہم، فراہم کردہ معلومات میں ان ڈرونز اور میزائلوں کے اصل مقامِ پرواز یا حملوں کے ذمہ داروں کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں دی گئیں۔
 
ایران اور سعودی عرب کے درمیان حوثیوں کے کردار اور حملوں سے متعلق بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی کی صورتحال اہم موضوع بنی ہوئی ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے ڈرونز اور میزائلوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ اور ایران کی تردید اس تنازع کے دو اہم پہلو ہیں۔ فی الحال ایران نے حوثیوں کے حملوں میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے، جبکہ سعودی فوجی اتحاد نے اپنے دفاعی نظام کے ذریعے پانچ فضائی خطرات کو ناکام بنانے کی اطلاع دی ہے۔ حملوں کی ذمہ داری اور ایران کے مبینہ کردار سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔