جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اگلے احکامات تک آن لائن کلاسز
'فری کشمیر' اور 'فری شرجیل امام' کے نعروں پر تنازعہ
یونیورسٹی انتظامیہ نعرے لکھنے والوں کی نشاندہی کر رہاہے
طلبہ یونین کی بحالی، الیکشن شیڈول کے لیے احتجاج جاری
نعروں سے ان کا کوئی تعلق نہیں: مظاہرین کی وضاحت
دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میں طلبہ کے احتجاج اور 'فری کشمیر' کے نعروں پر ہوئے تنازعہ کے تناظر میں انتظامیہ نے اہم فیصلہ لیا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے ہدایت دی ہے کہ اگلے احکامات تک تمام کورسز کی کلاسز آن لائن کرائی جائیں۔ 24 اکتوبر کو جاری کردہ نوٹس میں کہا گیا کہ یہ فیصلہ کیمپس میں طلباء کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے لیا گیا ہے۔
واضح رہےکہ کچھ طلبہ 12 اکتوبر سے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر ہیں، طلبہ یونین کی بحالی اور 2026-27 تعلیمی سال کے انتخابی شیڈول کے اعلان کا مطالبہ کرتے ہوئے کیمپس میں احتجاج کر رہےہیں ۔ اسی دوران یونیورسٹی کی دیواروں پر 'فری کشمیر' اور 'فری شرجیل امام' جیسے نعرے نظر آئے، جس سے کیمپس میں تنازعہ کھڑا ہوگیا۔ آر ایس ایس، اے بی وی پی اور وی سی کے خلاف بھی دیواروں پر تحریریں دیکھی گئیں۔
یونیورسٹی انتظامیہ نے ان نعروں کی شدید مذمت کی ہے۔ ایک اہلکار نے کہا کہ وہ یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ انہیں کس نے لکھا اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔ نعروں کو ہٹانے کے علاوہ حکام کو یہ بھی معلوم ہوا کہ کچھ جگہوں پر سی سی ٹی وی کیمروں کی تاریں خراب ہو گئی ہیں۔ کیمپس کے باہر پولیس تعینات تھی جبکہ اندر سیکیورٹی سخت کردی گئی تھی۔
تاہم احتجاج میں شریک طلبہ کا کہنا ہے کہ ان کا ان نعروں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ واضح کرتے ہیں کہ ان کے بنیادی مطالبات طلبہ یونین کی بحالی اور انتخابات کی تاریخوں کا اعلان ہیں۔ 2006 میں اسٹوڈنٹس یونین کے خاتمے کے بعد سے انتخابات نہیں ہوئے ہیں۔ حالانکہ یونیورسٹی نے حال ہی میں یونین کے آئین کا مسودہ تیار کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے، تاہم طلبہ 20 دسمبر تک مسودہ پیش کرنے کے فیصلے پر اعتراض کر رہے ہیں، جس سے انتخابات میں مزید تاخیر ہو گی۔






