آندھراپردیش کے ضلع الوری میں ایک المناک حادثہ پیش آیا۔ سڑک کی تعمیر کے لیے پہاڑ کو دھماکہ سے توڑنے کے لئےاستعمال کی جانے والی جیلیٹن اسٹکس میں دھماکہ ہونے سے سات افراد ہلاک اور کئی دیگر زخمی ہو گئے۔ یہ واقعہ اننت گری منڈل میں پیناکوٹا کے قریب پیش آیا۔
سڑک کےتعمیر کے لیے بجری لے جانے والے ایک ٹرک کے پیچھے ایک بولیرو گاڑی جا رہی تھی جس میں کان کنی کے کام کے لیے بارودی مواد اور ڈیزل موجود تھا۔سڑک کی تعمیر کے سلسلے میں، پہاڑی کو اڑانے کے لیے جیلیٹن اسٹکس نصب کی گئی تھیں۔ جب یہ بارودی مواد پھٹا تو وہاں سے گزرنے والی گاڑیاں اس کی زد میں آ گئیں۔ دھماکے کی شدت سے دو گاڑیاں تباہ ہو گئیں۔ اس واقعے میں ایک خاتون ٹیچر، ایک ڈرائیور اور تین مزدور اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
ہلاک ہونے والوں میں وشاکھاپٹنم سے تعلق رکھنے والی ٹیچر سنیتا، دیورا پلی سے تعلق رکھنے والا مزدور مانی، چیدیکاڈا سے نارائنا راؤ، اور کڑپا سے تعلق رکھنے والا پاون کمار (جو ٹپر ٹرک کا ڈرائیور تھا) شامل ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ٹیچر سنیتا اسکول جا رہی تھیں جب وہ اس حادثے کی زد میں آ گئیں۔ان کے پیچھے ایک خاتون ٹیچر اسکوٹی پر سوار تھیں۔ حکام اور پولیس جائے وقوعہ پر پہنچے اور صورتحال کا جائزہ لیا۔ انہوں نے زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنے کا انتظام کیا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ انہیں طبی امداد فراہم کی جائے۔یہ علاقہ دیورا پلی کے قریب ہے، جو اراکو سے تقریباً 152 کلومیٹر دور ہے۔
وزیر داخلہ انیتا نے غم کا اظہار کیا
وزیر داخلہ انیتا نے الوری سیتارام راجو ضلع کلکٹر اور پولیس سپرنٹنڈنٹ سے فون پر بات کرکے اس واقعہ کا جواب دیا۔انہوں نے عہدیداروں کو ہدایت کی کہ وہ زخمیوں کے لیے بہترین طبی علاج کو یقینی بنائیں اور متاثرہ خاندانوں کو یقین دلایا کہ حکومت اس مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑی رہے گی۔
ابتدائی معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ واقعہ میں ملوث بولیرو کیمپر اور ٹپر لاری سڑک کی تعمیر کے کام میں مصروف ٹھیکیدار کی تھی۔ اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور صورتحال کا جائزہ لینا شروع کر دیا۔ حکام سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ واقعات کی ترتیب قائم کریں گے اور ان حالات کا تعین کریں گے جن میں آگ تین گاڑیوں تک پھیلی۔






