بھارت کے سابق کپتان اور 1983 کا ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کے کپتان کپل دیو نے اسٹار بلے باز ویراٹ کوہلی کی ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ کپل کا کہنا ہے کہ کوہلی اپنی فٹنس اور موجودہ فارم کو دیکھتے ہوئے ٹیسٹ کرکٹ میں مزید چند سال کھیل سکتے تھے۔
کپل دیو نے یہ بات ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے ون ڈے میں کوہلی کی شاندار ناقابلِ شکست 139 رنز کی اننگز کے بعد ایک خصوصی انٹرویو میں کہی۔ کوہلی نے 88 گیندوں پر 139 رنز بنائے، جس میں 10 چوکے اور 9 چھکے شامل تھے۔ ان کی اننگز کی بدولت بھارت نے ویسٹ انڈیز کو 8 وکٹوں سے شکست دی۔
اس اننگز کے دوران کوہلی نے ون ڈے کرکٹ میں 15 ہزار رنز بھی مکمل کیے اور یہ اعزاز حاصل کرنے والے سچن تیندولکر کے بعد دوسرے بلے باز بن گئے۔ انہوں نے یہ سنگِ میل سب سے کم اننگز میں حاصل کیا۔ اسی میچ میں کوہلی نے اپنے ون ڈے کیریئر کی 55 ویں سنچری بھی مکمل کی۔
کپل دیو نے کوہلی کی موجودہ فارم اور فٹنس کو سراہتے ہوئے کہا کہ اگر وہ آئندہ بھی خود کو فٹ رکھتے ہیں تو وہ ون ڈے کرکٹ میں کئی بڑے ریکارڈ توڑ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق کوہلی اس عمر میں بھی بہترین نظر آ رہے ہیں اور ان کی فٹنس ان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
کپل نے کوہلی کی ٹیسٹ ریٹائرمنٹ کے بارے میں کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں اس فارمیٹ میں مزید کھیلنا چاہیے تھا۔ ان کے مطابق کوہلی میں ٹیسٹ کرکٹ جاری رکھنے کی صلاحیت موجود تھی اور یہ فارمیٹ ان کے کھیل کے مزاج کے مطابق تھا۔
کپل نے کہا کہ جب کوئی کھلاڑی کھیل سے محبت کرتا ہو اور خود کو فٹ رکھ سکتا ہو تو اسے کھیل جاری رکھنے پر غور کرنا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ نہیں جانتے کہ کوہلی نے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کیوں کیا اور یہ فیصلہ خود کوہلی ہی بہتر جانتے ہیں۔
ویراٹ کوہلی نے 12 مئی 2025 کو ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے 123 ٹیسٹ میچوں میں 9,230 رنز بنائے، جس میں 30 سنچریاں اور 31 نصف سنچریاں شامل تھیں۔ ان کا ٹیسٹ بیٹنگ اوسط 46.85 رہا۔
کپل دیو نے یہ بھی کہا کہ ممکن ہے چند سال بعد کوہلی خود سوچیں کہ انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ کچھ عرصہ اور کیوں نہیں کھیلی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کوہلی کو اپنی ریٹائرمنٹ واپس لے کر ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی کرنی چاہیے تو کپل نے اس کی واضح حمایت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے مشورے دینا مناسب نہیں، کیونکہ یہ فیصلہ کوہلی کا اپنا ہے۔ کپل دیو نے مزید کہا کہ ہر کھلاڑی کو اپنے جسم اور فٹنس کو سمجھنا چاہیے اور وہی فیصلہ کرنا چاہیے جو اس کے لیے درست ہو۔
کوہلی کی حالیہ 139 رنز کی اننگز کے بعد ان کے 100 بین الاقوامی سنچریوں کے ہدف سے متعلق بھی بحث تیز ہوگئی ہے۔ کوہلی کے بین الاقوامی سنچریوں کی تعداد 86 ہو گئی ہے، جبکہ سچن تیندولکر کے نام 100 سنچریوں کا عالمی ریکارڈ ہے۔







