Sunday, November 01, 2026 | 20 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • سی ای سی گیانیش کمار پر غداری کا مقدمہ چلایا جائے: کھرگے نے علامتی مواخذہ میں لگائے6 الزامات

سی ای سی گیانیش کمار پر غداری کا مقدمہ چلایا جائے: کھرگے نے علامتی مواخذہ میں لگائے6 الزامات

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: 31 Oct 2026

سی ای سی گیانیش کمار پر غداری کا مقدمہ چلایا جائے: کھرگے نے علامتی مواخذہ میں  لگائے6 الزامات
 نئی دہلی میں انڈیا بلاک کے ایک علامتی عوامی مواخذہ اجلاس میں کانگریس کے صدر ملیکارجن کھرگے نے ہفتہ کے روز چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر شدید الزامات عائد کیے اور کہا کہ انہیں غداری کے مقدمے کا سامنا کرنا چاہیے۔ یہ کاروائی راج جی مارگ پر کھرگے کی رہائش گاہ پر شروع ہوئی جہاں سابق لوک سبھا اسپیکر میرا کمار نے اجلاس کی صدارت کی۔ منتظمین کے مطابق مقصد چیف الیکشن کمشنر کے طرزِ عمل پر سوال اٹھانا اور ان کی برطرفی کا مطالبہ نمایاں کرنا تھا، جب کہ حکومت اور الیکشن کمیشن سے شفافیت اور غیر جانب داری کی یقین دہانی طلب کی گئی۔
 
 کانگریس صدر کھرگے نے مجمع کے روبرو 6 واضح الزامات پڑھ کر سنائے۔ ان کے مطابق پہلی سنگین بات یہ ہے کہ گیانیش کمار پر انتخابات چرائے جانے کی سازش میں سہولت کاری کا الزام ہے، جسے اپوزیشن انتخابی عمل میں دانستہ ہیرا پھیری سے تعبیر کرتی ہے۔ دوسرا الزام یہ ہے کہ ووٹر فہرستوں سے 13.2 کروڑ نام حذف کیے گئے، جس پر انڈیا بلاک نے سخت اعتراض اٹھایا اور کہا کہ اس سے کمزور طبقات، خواتین اور نوجوانوں کے حقِ رائے دہی پر زد پڑی۔ تیسرا نکتہ فارم 6 میں پارلیمان کی منظوری کے بغیر تبدیلی سے متعلق تھا، جسے اپوزیشن آئینی عمل سے انحراف بتاتی ہے۔ چوتھا الزام ای سی آئی نیٹ نامی پلیٹ فارم کے ذریعے انتخابی فہرستوں پر اختیار مکمل طور پر الیکشن کمیشن کے ہاتھ میں مرتکز کرنے سے متعلق تھا۔ پانچویں الزام میں کہا گیا کہ دیگر دو الیکشن کمشنروں کو فیصلوں سے عملاً باہر رکھا گیا۔ اور چھٹا الزام یہ تھا کہ چیف الیکشن کمشنر مبینہ طور پر وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کی ہدایات پر عمل کر رہے ہیں۔
 
اپنے خطاب میں کھرگے نے دعویٰ کیا کہ سی ای سی ادارہ براہِ راست وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے احکامات کے تحت چلایا جا رہا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ تقریباً 7 ماہ قبل اپوزیشن کے 193 ارکانِ پارلیمان نے دونوں ایوانوں میں سی ای سی کی برطرفی کی تحریک پیش کی تھی، مگر ان نوٹسز کو مسترد کر دیا گیا اور ان پر کوئی کاروائی نہ ہوئی۔ ان کے مطابق اسی پس منظر میں آج کی علامتی قرارداد پیش کی گئی تاکہ ایک آئینی ادارے کی وقار اور غیر جانب داری کے تحفظ کا پیغام دیا جا سکے۔ کھرگے نے کہا کہ اپوزیشن کو ذاتی طور پر سی ای سی سے کوئی عناد نہیں، ان کی خواہش صرف یہ ہے کہ الیکشن کمیشن دستور کی روح کے مطابق منصفانہ اور غیر جانبدارانہ طور پر کام کرے تاکہ عوام کا اعتماد برقرار رہے اور یہ یقین ہو کہ دہلی میں بیٹھا کوئی شخص خفیہ طور پر کمپیوٹر کے ذریعے کمزور طبقات، خواتین اور نوجوانوں کے ووٹ حذف نہیں کر رہا۔
 
کانگریس صدر نے مرکزی حکومت اور بی جے پی پر 2014 سے سیاسی طاقت حاصل کرنے اور اسے برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن طریقہ استعمال کرنے کا الزام بھی دہرایا۔ ان کے مطابق اراکینِ پارلیمان کو توڑا گیا، سیاسی جماعتیں تقسیم کرائی گئیں، حکومتیں گرائی گئیں، الیکٹورل بانڈز کے بہانے سے فنڈنگ میں عدم شفافیت بڑھی، ای ڈی اور سی بی آئی جیسے اداروں کا استعمال کیا گیا اور اب ووٹ چوری کے الزامات سامنے آ رہے ہیں۔ کھرگے نے کہا کہ ایسے واقعات کی ان کے پاس سینکڑوں مثالیں موجود ہیں، جنہیں وہ ووٹ دہی کے نظام پر حملہ تصور کرتے ہیں۔
 
انہوں نے اس تمام صورتحال کو 2023 میں منظور ہونے والے چیف الیکشن کمشنر اینڈ ادر الیکشن کمشنرز (اپوائنٹمنٹ، کنڈیشنز آف سروس اینڈ ٹرم آف آفس) ایکٹ سے جوڑا۔ کھرگے کے مطابق دسمبر 2023 میں جب یہ بل منظور ہوا تو اپوزیشن کے 145 اراکینِ پارلیمان معطل تھے، جو پارلیمانی ضابطوں اور جمہوری روایت کے لیے باعثِ تشویش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی قانون کے سبب الیکشن کمشنرز کو تاحیات حفاظتی ڈھال جیسی غیر معمولی قانونی تحفظ حاصل ہو گیا ہے، جو ان کے بقول صدرِ جمہوریہ یا ہندوستان کے چیف جسٹس کو بھی اس سطح پر حاصل نہیں۔