Thursday, October 01, 2026 | 17 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • جرائم/حادثات
  • »
  • فورٹ کوچی کے تاریخی کوڈر ہاؤس میں شدید آگ

فورٹ کوچی کے تاریخی کوڈر ہاؤس میں شدید آگ

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: 30 Sept 2026

فورٹ کوچی کے تاریخی کوڈر ہاؤس میں شدید آگ
فورٹ کوچی میں یہودی ورثے کی اہم علامت سمجھے جانے والے تاریخی کوڈر ہاؤس میں منگل کی شام شدید آگ لگ گئی۔ آگ لگنے کے بعد فائر اینڈ ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچیں اور عمارت میں موجود لوگوں کو بحفاظت باہر نکال لیا گیا۔
 
پولیس کے مطابق، آگ شام تقریباً 7 بجے کے قریب ٹاور روڈ پر واقع تین منزلہ عمارت میں لگی۔ سرخ اینٹوں سے بنی یہ تاریخی عمارت کبھی کوچی کے معروف یہودی کوڈر خاندان کی رہائش گاہ تھی۔ اس وقت اسے بوتیک ہوٹل کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔
 

آگ لگنے کی وجہ شارٹ سرکٹ کا شبہ

 
فائر اینڈ ریسکیو حکام کے مطابق آگ کے شعلے نظر آنے کے بعد عمارت میں موجود کچھ مہمانوں اور عملے کو فوری طور پر باہر نکال لیا گیا۔ فورٹ کوچی اور آس پاس کے مختلف فائر اسٹیشنوں سے فائر اینڈ ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور آگ پر قابو پایا۔ حکام کو شبہ ہے کہ آگ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی، حتمی وجہ کی تصدیق تحقیقات کے بعد ہی ہوگی۔ آگ سے عمارت کو کافی نقصان پہنچا ہے،  مکمل نقصان کا تفصیلی اندازہ بعد میں لگایا جائے گا۔
 

انڈین نیوی نے بھی آگ بجھانے میں مدد کی

 
عمارت کی تاریخی اہمیت کے پیش نظر آگ بجھانے کے آپریشن میں انڈین نیوی نے بھی سول انتظامیہ کی مدد کی۔ کوچی کے سابق میئر کے جے سوہن نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کوڈر ہاؤس کو پہنچنے والے نقصان کا اندازہ صرف مالی نقصان کی بنیاد پر نہیں لگایا جا سکتا، کیونکہ یہ عمارت تاریخی اہمیت رکھتی ہے۔
 
ساؤدرن نیول کمانڈ کے مطابق، کوچی کے پولیس کمشنر کی درخواست پر نیوی نے آگ بجھانے کے آپریشن میں مدد کی۔ سول حکام کی معاونت کے لیے آئی این ایس د روناچاریہ، آئی این ایس وینڈوروتھی اور آئی این ایس گاروڈا سے فائر ٹینڈرز موقع پر بھیجے گئے۔ نیوی کی ٹیموں نے فائر اینڈ ریسکیو اور پولیس اہلکاروں کے ساتھ مل کر آگ پر قابو پانے میں مدد کی۔
 

کوڈر ہاؤس کی تاریخ

 
کوڈر ہاؤس کی تاریخ 19ویں صدی سے جڑی ہوئی ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق، موجودہ عمارت کی تعمیر 1808 سے منسوب کی جاتی ہے۔
 
1905 میں کوچی کے معروف یہودی خاندان سے تعلق رکھنے والے سیموئل ایس کوڈر نے یہ عمارت خریدی اور اس کی تزئین و آرائش کروائی۔ اس کے بعد عمارت نے انڈو-پرتگالی طرزِ تعمیر کی منفرد شکل اختیار کی۔
 

کوڈر خاندان کی ملکیت رہی عمارت

 
کوڈر ہاؤس کئی دہائیوں تک کوڈر خاندان کی ملکیت میں رہی۔ بعد میں خاندان کی تیسری نسل نے اسے فروخت کر دیا۔ ایک عرصے تک اسے پرتعیش بوتیک ہوٹل کے طور پر بھی استعمال کیا گیا۔ یہ عمارت فورٹ کوچی کے ٹاور روڈ پر واقع ہے اور کوچی کے تاریخی یہودی ورثے کا ایک اہم حصہ سمجھی جاتی ہے۔
 

انڈو-پرتگالی طرزِ تعمیر کی مثال

 
کوڈر ہاؤس اپنی منفرد تعمیر اور اندرونی سجاوٹ کے لیے بھی مشہور ہے۔ عمارت میں یورپی اور ہندوستانی طرزِ تعمیر کا امتزاج نظر آتا ہے۔ اس کے کشادہ کمروں، سمندر کی طرف کھلنے والی کھڑکیوں، لکڑی کے فرش، نقش و نگار والے فرنیچر اور برآمدوں کو اس کی نمایاں خصوصیات میں شمار کیا جاتا ہے۔
 
عمارت میں شیشے کے بڑے پینلز والی کھڑکیاں بھی موجود ہیں، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان میں استعمال ہونے والا شیشہ بیلجیم سے درآمد کیا گیا تھا۔ فرش پر شطرنج کے بورڈ جیسے انداز میں لگی ٹائلیں بھی عمارت کی خاص شناخت ہیں۔
 
ساگون کی لکڑی سے بنی چوڑی سیڑھیاں اور تینوں منزلوں پر موجود وسیع کھلی جگہیں بھی کوڈر ہاؤس کی تاریخی اور تعمیراتی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہیں۔ آگ لگنے کے واقعے کے بعد اب عمارت کو پہنچنے والے نقصان کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ حکام کی جانب سے آگ لگنے کی حتمی وجہ اور تاریخی عمارت کو پہنچنے والے نقصان کی مکمل تفصیلات تحقیقات کے بعد سامنے آنے کی توقع ہے۔