Wednesday, November 04, 2026 | 23 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • تعلیم و روزگار
  • »
  • ملک بھر کے 90 سے زائد کالجوں میں ایک ہی استاد کا نام درج، این سی ٹی ای کی جانچ میں انکشاف

ملک بھر کے 90 سے زائد کالجوں میں ایک ہی استاد کا نام درج، این سی ٹی ای کی جانچ میں انکشاف

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 04 Nov 2026

ملک بھر کے 90 سے زائد کالجوں میں ایک ہی استاد کا نام درج، این سی ٹی ای کی جانچ میں انکشاف
اساتذہ کی فرضی فہرستوں کے ذریعے قواعد پورے کرنے کا الزام
 تقریباً 850 اداروں کو آخری مہلت، دیوالی کے بعد رپورٹس کی جانچ شروع ہوگی
 
ملک بھر میں اساتذہ کی تقرری اور تعلیمی اداروں کے ریکارڈ سے متعلق ایک اہم معاملہ سامنے آیا ہے۔ نیشنل کونسل فار ٹیچر ایجوکیشن (این سی ٹی ای) کی ابتدائی جانچ میں انکشاف ہوا ہے کہ متعدد کالجوں نے اپنی اساتذہ کی فہرستوں میں ایک ہی شخص کا نام درج کر رکھا ہے۔ بعض معاملات میں ایک ہی استاد کا نام 90 سے زیادہ کالجوں کے ریکارڈ میں پایا گیا ہے۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب این سی ٹی ای نے تعلیمی اداروں سے سالانہ پرفارمنس اپریزل رپورٹ جمع کرانے کے عمل کو سخت کیا اور اساتذہ کے پین کارڈ کی تصدیق لازمی قرار دی۔ ذرائع کے مطابق فہرستوں میں شامل بعض اساتذہ حقیقت میں ان اداروں میں پڑھاتے ہی نہیں، بلکہ انہیں صرف کاغذوں میں دکھایا گیا ہے تاکہ کالج تدریسی عملے سے متعلق مقررہ ضوابط پورے کرنے کا دعویٰ کر سکیں۔ اس کے بدلے متعلقہ افراد کو مالی فائدہ پہنچائے جانے کا بھی الزام ہے۔
 
تقریباً 13 ہزار اداروں کا ڈیٹا موصول
 
این سی ٹی ای کے مطابق کونسل سے منظور شدہ تدریسی کورسز چلانے والے تمام اداروں کے لیے سالانہ پرفارمنس اپریزل رپورٹ جمع کرانا ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے ہر سال آن لائن پورٹل کے ذریعے اداروں سے اساتذہ، طلبہ اور دیگر ضروری معلومات طلب کی جاتی ہیں۔ اب تک تقریباً 13 ہزار اداروں کا ڈیٹا کونسل کو موصول ہو چکا ہے۔ تاہم بعض اداروں نے اس عمل کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔ ستمبر میں سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ این سی ٹی ای کو ٹیچر ایجوکیشن انسٹی ٹیوشنز سے سالانہ اپریزل رپورٹس طلب کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ عدالت نے دہلی ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ کے اس فیصلے کو بھی پلٹ دیا، جس میں پہلے کونسل کے نوٹس کو اس کے دائرہ اختیار سے باہر قرار دیا گیا تھا۔ اس کے بعد 30 ستمبر کو دہلی ہائی کورٹ نے متعلقہ اداروں کو رپورٹ جمع کرانے کے لیے ایک اور موقع دینے کی ہدایت دی۔
 
850 اداروں کو آخری مہلت
 
کونسل نے اب تقریباً 850 اداروں کے لیے آخری مہلت مقرر کی ہے۔ اعلان کیا گیا ہے کہ دیوالی کے بعد موصول ہونے والی رپورٹس کا تفصیلی جائزہ شروع کیا جائے گا۔ اس کام کے لیے ایک جامع طریقۂ کار تیار کیا گیا ہے، جس کے تحت اداروں کی جانب سے جمع کرائی گئی تصاویر کی جغرافیائی تصدیق بھی کی جائے گی۔ اس عمل کے ذریعے یہ معلوم کیا جائے گا کہ آیا تصاویر میں دکھائی گئی جگہ پر واقعی متعلقہ تعلیمی ادارہ موجود ہے اور وہاں تدریسی سرگرمیاں جاری ہیں یا نہیں۔ اس کے علاوہ اساتذہ اور طلبہ کی تعداد، کالج کے بنیادی ڈھانچے اور تدریسی عملے کی موجودگی کی بھی جانچ ہوگی۔ جیو ٹیگنگ اور جیو کوآرڈینیٹس کی مدد سے اداروں کے پتے اور ان کے حقیقی مقامات کی تصدیق کی جائے گی، تاکہ فرضی پتے یا صرف کاغذوں میں چلنے والے اداروں کی نشاندہی ہو سکے۔
 
ڈمی اساتذہ سے متعلق شکایات کے بعد کارروائی
 
این سی ٹی ای کو اس سے پہلے بھی ڈمی اساتذہ اور فرضی امیدواروں کے بارے میں کئی شکایات موصول ہوئی تھیں۔ ان شکایات کے بعد کونسل نے موجودہ ضوابط کے تحت سالانہ اپریزل کے نظام کو سختی سے نافذ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اب آنے والے دنوں میں رپورٹس کی جانچ سے یہ واضح ہو سکے گا کہ کتنے اداروں نے اساتذہ اور بنیادی سہولتوں سے متعلق درست معلومات فراہم کی ہیں اور کہاں قواعد کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔