اسرائیلی انتخابات میں عرب جماعتوں کی تاریخی کامیابی کا امکان
حکومت سازی میں ان کا کردار اہم ہونے کی توقع
اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے عرب جماعتوں کی حمایت سے حکومت بنانے کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی قیادت ایسی حکومت کے ذریعے نہیں ہو سکتی جسے عرب جماعتوں کی حمایت حاصل ہو۔ نیتن یاہو کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی انتخابات کے ابتدائی اندازوں میں عرب جماعتیں ریکارڈ تعداد میں نشستیں حاصل کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔ ایگزٹ پولز کے مطابق، عرب جماعتوں کی بڑھتی ہوئی سیاسی طاقت حکومت سازی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ ان کی حمایت کے بغیر کسی بھی سیاسی اتحاد کے لیے حکومت بنانے کے لیے درکار اکثریت حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
اسرائیلی پارلیمانی انتخابات میں عرب قیادت والی جماعتوں ’رعام‘ (Ra’am) اور ’جوائنٹ لسٹ‘ (Joint List) کی کارکردگی پر خاص توجہ دی جا رہی ہے۔ اسرائیلی ٹی وی چینلز 11، 12 اور 13 کے ایگزٹ پولز کے مطابق، ان دونوں جماعتوں کو مجموعی طور پر 17 سے 18 نشستیں ملنے کا امکان ہے۔ اگر یہ اندازے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ عرب جماعتوں کے لیے ایک اہم انتخابی کامیابی ہوگی۔ اس سے پہلے ان کے پاس مجموعی طور پر تقریباً 10 نشستیں تھیں۔ نئی پیش گوئیوں کے مطابق، ان کی حمایت حکومت سازی کے لیے فیصلہ کن اہمیت اختیار کر سکتی ہے۔
اسرائیل میں منگل کو ہونے والی ووٹنگ کے بعد ایگزٹ پولز کے نتائج رات تقریباً ایک بجے جاری کیے گئے۔ ان ابتدائی اندازوں کے مطابق، نیتن یاہو کی جماعت ’لیکوڈ‘ (Likud) سب سے زیادہ، یعنی 27 نشستیں حاصل کر سکتی ہے۔ تاہم، لیکوڈ کی قیادت والے اتحاد کو مجموعی طور پر 51 سے 52 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ دوسری جانب، اپوزیشن اتحاد کے حصے میں 52 سے 53 نشستیں آنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ اسرائیل کی 120 رکنی پارلیمنٹ میں حکومت بنانے کے لیے کم از کم 61 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔ ایگزٹ پولز کے مطابق، دونوں بڑے اتحاد اس ہدف سے پیچھے دکھائی دے رہے ہیں۔
موجودہ صورت حال میں عرب جماعتوں کی حمایت دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کے لیے اہم ہو سکتی ہے۔ تاہم، نیتن یاہو نے عرب جماعتوں کی حمایت پر انحصار کرنے والی حکومت کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔ دوسری جانب، اپوزیشن اتحاد کے سامنے بھی سیاسی چیلنج موجود ہے، کیونکہ انتخابی مہم کے دوران عرب جماعتوں کے ساتھ اتحاد کے معاملے پر مختلف وعدے کیے گئے تھے۔ اب حتمی انتخابی نتائج اور سیاسی جماعتوں کے اگلے فیصلے اہم ہوں گے۔ ایگزٹ پولز صرف ابتدائی اندازے ہوتے ہیں، اس لیے یہ واضح ہونے کے لیے سرکاری نتائج کا انتظار کرنا ہوگا کہ عرب جماعتیں کتنی نشستیں حاصل کرتی ہیں اور اسرائیل میں نئی حکومت کی تشکیل کا راستہ کیسے نکلتا ہے۔






