Friday, November 06, 2026 | 25 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • پیراگوئے میں بینکنگ بحران کے بعد سیاسی ہلچل، صدر سینٹیاگو پینا نے استعفیٰ دے دیا

پیراگوئے میں بینکنگ بحران کے بعد سیاسی ہلچل، صدر سینٹیاگو پینا نے استعفیٰ دے دیا

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 06 Nov 2026

پیراگوئے میں بینکنگ بحران کے بعد سیاسی ہلچل، صدر سینٹیاگو پینا نے استعفیٰ دے دیا
تقریباً 30 لاکھ صارفین کی جمع پونجی متاثر، ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے
صدر پر بینکاری معاملات میں غلط فیصلوں اور مفادات کے ٹکراؤ کے الزامات۔
 
جنوبی امریکی ملک پیراگوئے میں بینکنگ بحران نے سیاسی اور معاشی حالات کو شدید متاثر کر دیا ہے۔ ملک کے صدر سینٹیاگو پینا نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب تقریباً 30 لاکھ بینک صارفین کی جمع شدہ رقم تک رسائی معطل یا محدود ہوگئی تھی۔ متاثرین میں بزرگ شہری اور پنشن حاصل کرنے والے افراد بھی شامل ہیں، جنہیں روزمرہ اخراجات اور ادویات خریدنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
 
مرکزی بینک نے یواینو بینک کا کنٹرول سنبھالا
 
بحران اس وقت شدت اختیار کر گیا جب پیراگوئے کے مرکزی بینک نے دو روز قبل شدید نقدی قلت کے باعث یواینو بینک کو اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ اس اقدام کا مقصد صارفین کی جمع پونجی کو محفوظ رکھنا اور ملک کے بینکاری نظام کو مزید نقصان سے بچانا بتایا گیا۔ تاہم اس فیصلے کے بعد صارفین میں بے چینی بڑھ گئی۔ منگل اور بدھ کو بینک کی مختلف شاخوں کے باہر لوگوں کی طویل قطاریں دیکھی گئیں۔ صارفین اپنی جمع شدہ رقم نکالنے کے لیے پہنچے، لیکن کئی افراد کو خالی ہاتھ واپس لوٹنا پڑا۔
 
ہزاروں افراد کا احتجاج، پولیس سے جھڑپیں
 
بینکنگ بحران کے خلاف جمعرات کو ہزاروں مظاہرین دارالحکومت میں پارلیمنٹ کی عمارت کے باہر جمع ہوئے اور اپنی رقم واپس کرنے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے ’ہمارے پیسے واپس کرو‘ کے نعرے لگائے۔ اس سے پہلے ہونے والے احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔ پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے داغے اور واٹر کینن کا استعمال کیا، جس سے حالات مزید کشیدہ ہوگئے۔
 
متاثرین کی مشکلات میں اضافہ
 
بحران سے متاثر ہونے والے افراد نے اپنی پریشانیوں کا اظہار کیا۔ 21 سالہ طالب علم آندریس مالڈوناڈو نے بتایا کہ ان کے خاندان کے پاس اب گھریلو ضروریات پوری کرنے کے لیے رقم نہیں بچی۔ انہوں نے صدر پر بدانتظامی کا الزام لگاتے ہوئے سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ 26 سالہ نادیہ گونزالیز نے بتایا کہ بینک نے انہیں اپنا پہلا گھر خریدنے کے لیے قرض کی منظوری دی تھی، لیکن رقم جاری نہیں کی گئی۔ اس وجہ سے انہیں رہائش کے معاملے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
 
صدر پر مفادات کے ٹکراؤ کے الزامات
 
بحران نے سیاسی رخ بھی اختیار کرلیا۔ جمعرات کو پارلیمنٹ کے اراکین نے صدر پینا کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان پر بینکاری معاملات میں غلط فیصلے کرنے اور مبینہ طور پر مفادات کے ٹکراؤ کے الزامات عائد کیے گئے۔ اطلاعات کے مطابق صدر پینا کے پاس اس گروپ کے شیئرز تھے جس کا یواینو بینک پر کنٹرول تھا۔ تاہم انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ گزشتہ سال یہ شیئرز فروخت کر دیے گئے تھے۔ بحران کے دباؤ میں صدر نے مرکزی بینک کے سربراہ کارلوس کاروالہو سے بھی استعفیٰ طلب کیا، جسے منظور کرلیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ پانچ دن کے اندر متاثرہ صارفین کی رقم واپس کردی جائے گی، لیکن اس یقین دہانی کے باوجود احتجاج جاری رہا۔
 
استعفیٰ کے بعد عبوری انتظام کی تیاری
 
بڑھتے ہوئے دباؤ کے درمیان صدر سینٹیاگو پینا نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پیغام جاری کرکے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانا نہیں تھا اور ان کی پہلی ترجیح ان لوگوں کو فوری راحت پہنچانا ہے جنہوں نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی بینکوں میں رکھی ہے۔جمعرات کو پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس صدر کے استعفیٰ کی توثیق کے لیے بلایا گیا، لیکن مطلوبہ تعداد پوری نہ ہونے کے باعث فیصلہ مؤخر ہوگیا۔ 
 
بعد میں جمعہ کی صبح مواخذے کی سماعت شروع کرنے کا اشارہ بھی دیا گیا، تاہم صدر کے استعفیٰ کے بعد سیاسی توجہ عبوری انتظام اور مالیاتی نظام کو مستحکم کرنے پر مرکوز ہوگئی۔آئینی طریقہ کار کے مطابق صدر کے مستعفی ہونے کے بعد نائب صدر پیڈرو الیانا کے ریاست کی باگ ڈور سنبھالنے کی توقع ہے۔ اب نئی قیادت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج متاثرہ صارفین کی رقم واپس دلانا، بینکنگ نظام کی نگرانی سخت کرنا اور عوام کا مالیاتی اداروں پر اعتماد بحال کرنا ہوگا۔