نئی دہلی کے رام لیلا میدان میں اتوار کو انڈیا اتحاد کی عظیم الشان ریلی سخت سکیورٹی انتظامات کے درمیان اختتام پذیر ہوئی، جس میں اپوزیشن کے سرکردہ قائدین نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ، ووٹوں کے تحفظ اور انتخابی عمل میں شفافیت کا مطالبہ کیا۔ منتظمین کے مطابق مارچ کناؤٹ پلیس سے شروع ہوا، منٹو روڈ جنکشن اور اجمیری گیٹ کے راستے رام لیلا میدان پہنچا، جہاں ہزاروں کارکنان، طلبہ تنظیموں کے اراکین اور سیول سوسائٹی کے نمائندے شریک ہوئے۔ ریلی سے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، قائد حزب اختلاف راہل گاندھی، مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی، سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو، آر جے ڈی کے رہنما تیجسوی یادو اور سی پی آئی (ایم ایل) کے جنرل سیکریٹری دیپانکر بھٹاچاریہ سمیت متعدد قائدین نے خطاب کیا۔
ریلی کے اختتام پر اتحاد کے قائدین نے یہ یقین دہانی کرائی کہ آئندہ دنوں میں ملک کے مختلف شہروں اور ریاستوں میں ایسی ہی عوامی نشستیں منعقد کی جائیں گی تاکہ مبینہ ووٹ چوری اور انتخابی بے ضابطگیوں کے خلاف آگہی بڑھے اور ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے دباؤ میں اضافہ ہو۔ اس بڑے اجتماع میں شریک قائدین نے جمہوریت کی مضبوطی، آئین کی پاسداری اور عوامی حقوق کے تحفظ کو اپنی جدوجہد کا محور قرار دیا۔
مقررین نے الزام عائد کیا کہ ووٹر لسٹوں میں ردوبدل، خصوصی جامع نظرثانی یعنی ایس آئی آر کے غلط استعمال اور انتظامی دباؤ کے ذریعے شہریوں کے حقِ رائے دہی کو متاثر کیا جا رہا ہے، جب کہ جمہوری اداروں اور آئینی بالادستی کو کمزور کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ملک کے آئینی اداروں پر حکومت کا غلبہ کسانوں، نوجوانوں اور عام شہریوں کے نقصان پر ہو رہا ہے، کسانوں کو ان کا حق اور نوجوانوں کو روزگار نہیں مل رہا اور ملک کی دولت چند کارپوریٹ گھرانوں کے ہاتھوں میں سمٹتی جا رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ہزاروں کروڑ کے قرض معاف ہو جاتے ہیں مگر عام شہری معمولی خطا پر سختی جھیلتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو طالب علم روزانہ 18 گھنٹے محنت کرے، اسے تعلیم اور روزگار کی صورت میں حق ملنا چاہیے۔
انہوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ووٹوں کی چوری عام چوری نہیں بلکہ ہر شہری کی آواز سلب کرنے کے مترادف ہے، جسے انہوں نے ملک سے غداری قرار دیا، اور اشارہ دیا کہ وہ گیانیش کمار کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کے خلاف قانونی عمل کا سامنا کرانے کی بات کریں گے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ نفرت نہیں بلکہ محبت کی سیاست کے قائل ہیں۔ ممتا بنرجی نے دعویٰ کیا کہ مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے ذریعے انتخابی عمل متاثر کیا گیا اور ووٹوں کی گنتی کو ہائی جیک کیا گیا، ان کے مطابق ای وی ایم اور گنتی کے مراحل میں بے ضابطگیاں ہوئیں، اس لیے وہ ہارے نہیں بلکہ انہیں ہرایا گیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اپوزیشن پیچھے نہیں ہٹے گی اور جمہوریت کے دفاع کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔
اکھلیش یادو، تیجسوی یادو اور دیگر قائدین نے بھی آئین کی بالادستی اور ووٹ کے احترام پر اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن متحد ہو کر انتخابی شفافیت کے لیے قانونی اور جمہوری دائرے میں رہتے ہوئے کوششیں تیز کرے گی۔ ریلی سے قبل دہلی کی تاجرانہ تنظیم سی ٹی آئی نے ممکنہ تجارتی نقصانات کے اندیشے پر احتجاج کیا تھا۔ اس پر راہل گاندھی نے اپیل کی کہ بیرونِ دہلی سے آنے والے لوگ خریداری بھی کریں تاکہ بازار کو سہارا ملے۔ جلسہ کے اختتام پر دہلی کانگریس نے شرکا، کارکنوں اور معاون اداروں کا شکریہ ادا کیا۔ قومی ترانہ پڑھا گیا اور اسی کے ساتھ ریلی پرامن طور پر اختتام کو پہنچی، جب کہ قائدین نے آئندہ دنوں میں ووٹوں کے تحفظ اور انتخابی اصلاحات کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی جاری رکھنے کا اعلان کیا۔
کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے الزام عائد کیا کہ گیانیش کمار نے ملک کی آواز خاموش کرنے کی کوشش کر کے سب سے بڑا جرم کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ الزام اس لیے لگایا جا رہا ہے کہ اپوزیشن کی بات دبانے اور جمہوری عمل پر اثرانداز ہونے کی کوششیں سامنے آ رہی ہیں۔ ریلی میں خطاب کے دوران راہل گاندھی نے کہا کہ عوام کے حقوق اور آئینی اداروں کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ان کی جماعت اور ان کے اتحادی پرعزم ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ذمہ داران کو جوابدہ ٹھہرایا جائے اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔ یہ بیان ان کے مطابق اس پس منظر میں آیا ہے کہ ملک بھر میں سیاسی کشیدگی بڑھ رہی ہے اور اپوزیشن نے اسے جمہوریت کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ مزید تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں، تاہم راہل گاندھی کے اس سخت لہجے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھرگے نے دہلی کے رام لیلا میدان میں انڈیا اتحاد کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرکاروں پر شدید تنقید کی۔ یہ ریلی مبینہ ووٹ چوری اور ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظرثانی کے عمل کے پس منظر میں منعقد کی گئی، جس میں اپوزیشن کی متعدد بڑی جماعتوں کے سرکردہ قائدین نے شرکت کی۔ کھڑگے نے اپنے خطاب میں کہا کہ جب تک مودی اقتدار سے نہیں جائیں گے، ملک میں جمہوریت کا حقیقی تحفظ ممکن نہیں۔ ان کے الفاظ میں، موجودہ مرکز کے ساتھ مہاراشٹر، بہار اور اتر پردیش میں جاری حکومتیں عوام کے مینڈیٹ سے نہیں بلکہ چوری کے ذریعے بنی ہوئی حکومتیں ہیں۔
کھرگے نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعظم خود کو خود منتخب قرار دیتے ہیں، جبکہ عوام کے آزادانہ ووٹ کی حیثیت کمزور کر دی گئی ہے۔ ان کے مطابق آج جن ریاستی و مرکزی حکومتوں کا وہ ذکر کر رہے ہیں، وہ ووٹروں کے حقِ رائے دہی کو متاثر کرنے والی بے ضابطگیوں کے راستے اقتدار تک پہنچی ہیں۔ انہوں نے سامعین سے مخاطب ہو کر کہا کہ ان چور حکومتوں کو اقتدار سے باہر نکالنا قومی ضرورت ہے۔ ان کے نعرے “مودی ہٹاؤ، جمہوریت بچاؤ” پر مجمع نے زور دار تائید کا اظہار کیا۔
اس جلسے کا اہتمام انڈیا اتحاد نے ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظرثانی، جسے ایس آئی آر کہا جا رہا ہے، اور اسی سے جڑی مبینہ بے قاعدگیوں کے خلاف کیا تھا۔ اپوزیشن جماعتوں کا مؤقف ہے کہ نظرثانی کے طریق کار میں شفافیت کا فقدان ووٹروں کے حقوق کو زد پہنچا رہا ہے اور متعدد حلقوں میں عوامی مینڈیٹ کی صحیح ترجمانی مشکوک ہو گئی ہے۔ ریلی میں کانگریس، ترنمول کانگریس، سماجوادی پارٹی اور راشٹریہ جنتا دل سمیت مختلف اتحادی جماعتوں کی اعلیٰ قیادت موجود تھی، جنہوں نے مشترکہ طور پر انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کی جانچ اور اصلاح کا مطالبہ دہرایا۔
ملکارجن کھرگے نے مرکزی اداروں کے کردار پر بھی سخت سوالات اٹھائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ سمیت مختلف سرکاری ایجنسیاں سیاسی مخالفین کو ڈرانے اور دباؤ میں لینے کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات کے باوجود کانگریس اور انڈیا اتحاد کے رہنما خوف زدہ نہیں ہوں گے اور اپنی جمہوری جدوجہد جاری رکھیں گے۔ ان کے مطابق اپوزیشن جماعتیں آئین اور جمہوری اقدار کے دفاع کے لیے متحد ہیں، اور حکومت کی طرف سے پیدا کیے جانے والے دباؤ، گرفتاریوں یا چھاپہ ماری جیسی کارروائیوں کے باوجود پیچھے ہٹنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتیں۔
اسی تناظر میں کھرگے نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ بھی دوہرایا۔ ان کا الزام تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ گیانیش کumar کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک چیف الیکشن کمشنر کے عہدے سے ہٹائے جانے کا مطالبہ پورا نہیں ہوتا، اپوزیشن اپنی آواز بلند رکھے گی اور آئینی راستوں سے جدوجہد جاری رہے گی۔
کھرگے نے بہار، اتر پردیش اور مہاراشٹر میں قائم حکومتوں کے خلاف عوامی رابطہ مہم کو تیز کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ میدانِ سیاست میں اصولی اور پرامن انداز میں مقابلہ کیا جائے گا۔ ان کے مطابق عوام کے ووٹ کا تقدس سب سے مقدم ہے اور اسی کی بحالی کے لیے یہ تحریک چلائی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انتخابات شفاف ہوں، ووٹر لسٹیں درست اور قابلِ تصدیق ہوں، اور ریاستی مشینری غیر جانب دار رہے—اسی مطالبے کے گرد انڈیا اتحاد اپنی حکمت عملی یکجا کر رہا ہے۔
لکھنؤ میں سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے ایک سیاسی بیان دیتے ہوئے کہا کہ اتر پردیش سے جو لوگ روزگار یا مجبوری میں باہر گئے ہیں وہ اتر پردیش ہی واپس جائیں گے، لیکن ان کے مطابق 2027 کے بعد وہ لوٹ کر نہیں آئیں گے۔ اکھلیش یادو نے یہ بات موجودہ حکومت کی پالیسیوں اور ریاست میں روزگار کے مواقع کی کمی کو نشانہ بناتے ہوئے کہی، تاہم انہوں نے اس سلسلے میں کوئی باضابطہ اعداد و شمار پیش نہیں کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات نے لوگوں کو ریاست چھوڑنے پر مجبور کیا ہے اور اگر حالات نہ بدلے تو 2027 کے بعد واپسی کا رجحان ختم ہو جائے گا۔ یہ بیان انہوں نے پارٹی کارکنوں سے خطاب میں دیا، جس کا مقصد حکومت پر دباؤ بڑھانا اور روزگار و ترقی کے لیے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کرنا بتایا جا رہا ہے۔
مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے الزام عائد کیا ہے کہ ریاست میں تقریباً 1 کروڑ ووٹ کاٹے گئے اور گیانیش نامی افسر نے نہ صرف ووٹنگ کے عمل بلکہ ووٹوں کی گنتی کو بھی ہائی جیک کیا۔ انہوں نے یہ الزام ایک سیاسی خطاب میں عائد کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی عمل میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔ بنرجی کا کہنا ہے کہ ووٹوں کی منسوخی اور گنتی میں مبینہ مداخلت سے نتائج متاثر ہوئے ہیں، اس لیے معاملے کی فوری اور شفاف جانچ ضروری ہے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ ذمہ داران کے خلاف کاروائی کی جائے اور ووٹروں کے حقوق کی حفاظت یقینی بنائی جائے۔ دوسری جانب اس بیان پر الیکشن کمیشن یا مذکورہ افسر کی طرف سے فوری ردعمل موصول نہیں ہوا۔
سابق وزیراعلیٰ جموں و کشمیر اور نیشنلس کانفرنس کے سرپرست فاروق عبداللہ نے انڈیا بلاک کی ایک جلسہ عام ریلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہندوستان کا آئین ہے اور ہر شہری کا ووٹ برابر اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے یہ بات ریلی کے اسٹیج پر اپنے سیاسی اتحادیوں کے ہمراہ کہی، جہاں جمہوری اقدار اور آئینی مساوات پر زور دیا گیا۔ فاروق عبداللہ کے مطابق آئین سب کو برابر حقوق دیتا ہے اور انتخابی عمل میں کسی کی آواز کم یا زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے حاضرین سے اپیل کی کہ آئینی اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے جمہوریت کو مضبوط بنایا جائے اور ووٹ کے حق کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا جائے۔ ریلی کے منتظمین نے کہا کہ اجتماع کا مقصد آئینی بالادستی، شفاف انتخابات اور شہری برابری کے پیغام کو عام کرنا تھا۔
دہلی پولیس نے دارالحکومت میں سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے، مارچ کے راستے اور جلسہ گاہ میں 4000 سے زائد پولیس اہلکار اور سی اے پی ایف کی ٹیمیں تعینات رہیں، جبکہ میدان کو 14 سکیورٹی زون میں تقسیم کر کے ہر زون کی نگرانی اسسٹنٹ کمشنر رینک کے افسران کے سپرد رہی۔






