لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے مرکزی حکومت اورالیکشن کمیشن پر تنقید کی ہے۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے فوری استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے انہیں ’’غدار‘‘ قرار دیتے ہوئے ان پر ملک کے خلاف کام کرنے کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران سنسنی خیز الزام لگایا ہے کہ ملک میں وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کی ملی بھگت سے 'ووٹ چوری' ہو رہی ہے۔ اس نے گیانیش کمار پر الزام لگایا ہے کہ ان کے 'محافظوں' نے انہیں تحفظ فراہم کیا ہے۔ جمعرات کو نئی دہلی میں ایک میڈیا کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا کہ کانگریس پارٹی خاموش نہیں رہے گی جب کہ ملک میں جمہوریت کو تباہ کیا جا رہا ہے۔
ووٹ چوری سازش کی ہو جانچ
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ لوگوں کے ووٹ کو ہائی جیک کیا جا رہا ہے اور اس معاملے میں وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کی مبینہ سازش کی تحقیقات ہونی چاہیے۔ راہل گاندھی نے انتخابی عمل اور جمہوریت پر بھی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف ووٹ پر حملہ نہیں بلکہ اس بنیادی ڈھانچے پر حملہ ہے جو لوگوں کو اپنا رہنما منتخب کرنے کا حق دیتا ہے۔ ان کے مطابق، اگر ووٹ ختم ہو جائے تو آئین بھی کام نہیں کر سکتا۔
ووٹ چوری سے بنی حکومت کے بناگئے قواتین غیرقانونی
صرف یہی نہیں—ووٹوں کی چوری کے بعد بنائے گئے قوانین غیر قانونی ہیں اور ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ ووٹ چوری کےذریعہ منتخب قانون ساز،اور اور ان کی تائید سے بنیں حکومت کےذریعہ لائےگئے قوانین بھی غیر قانونی ہیں۔
کیا2024 الیکشن بھی جعلی تھے؟
راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات مکمل طور پر جعلی تھے۔اس سے پہلے کے انتخابات بھی مکمل طور پر جعلی تھے۔ اسمبلی انتخابات میں بھی دھاندلی کی گئی تھی۔
ووٹ چوری کے 2ہتھیارEVM اورSIR
انھوں نے الزام لگایا کہ بی جےپی ، کے ووٹ چوری کے دو ہتھیار ہیں ۔ ایک ایک ایس آئی آر اور دوسرا ای وی ایم ہے۔ ایس آئی آر اور ای وی ایم کےذریعہ بی جےپی وٹ چوری کر رہی ہے
ملک کے خلاف سازش رچی گئی
راہل نے کہاکہ قوم کو احساس ہو چکا ہے کہ اس کے ووٹ کو ضائع کر دیا گیا ہے۔ ہم سب ان لوگوں کو جانتے ہیں جنہوں نے ملک کے خلاف یہ سازش رچی گئی ہے۔
• سازش کرنے والوں نے ووٹ چوری کیے
• ووٹوں کی چوری کے ذریعے قوانین چرائے گئے
• ملک کے اداروں کو یرغمال بنا لیا گیا
• پھر، ان اداروں کو آر ایس ایس (RSS) کے ارکان سے بھر دیا گیا
تین سالوں سے ووٹ چوری کی بات
راہل گاندھی نے کہا کہ میں گزشتہ تین سالوں سے 'ووٹوں کی چوری' کے بارے میں بات کر رہا ہوں اور ہر بار میں نے اس کے ثبوت بھی فراہم کیے ہیں۔
• دسمبر 2023 میں، وزیراعظم مودی نے گیانیش کمار کو استثنیٰ دینے والا ایک نیا قانون نافذ کیا—کیونکہ گیانیش کمار مودی کے لیے کام کر رہے تھے۔
• 7 فروری 2025 کو، میں نے مہاراشٹر میں 'ووٹوں کی چوری' کے حوالے سے ایک پریس کانفرنس کی۔
• 17 فروری 2025 کو، میں نے گیانیش کمار کی تقرری کے سلسلے میں وزیر اعظم کو اختلافِ رائے پر مبنی ایک نوٹ (dissent note) بھیجا، جسے نظر انداز کر دیا گیا۔
• 7 اگست 2025 کو، میں نے مہادیوا پورہ میں ہونے والی ووٹوں کی چوری کے معاملے پر پریس کانفرنس کی۔
• 16 اگست 2025 اور 1 ستمبر 2025 کے درمیان، ہم نے 'ووٹر رائٹس یاترا' (ووٹروں کے حقوق کا مارچ) نکالی، جس کے دوران ہم نے ووٹوں کی چوری کا معاملہ اٹھایا۔
• 18 ستمبر 2025 کو، میں نے آلنڈ (Aland) میں ووٹوں کی چوری کے بارے میں پریس کانفرنس کی اور وضاحت کی کہ ووٹوں کی چوری کا یہ عمل ایک مرکزی نظام کے تحت منظم کیا جا رہا تھا۔
• 28 اکتوبر 2025 سے، دیگر دو الیکشن کمشنروں نے خطوط لکھنا شروع کر دیے۔
• 5 نومبر 2025 کو، ہم نے ہریانہ میں ووٹوں کی چوری کے حوالے سے پریس کانفرنس کی۔
• بالآخر، 23 ستمبر 2026 کو 'دی انڈین ایکسپریس' میں ایک انکشافی رپورٹ شائع ہوئی، جس سے یہ بات سامنے آئی کہ دونوں الیکشن کمشنروں نے الیکشن کمیشن کے مختلف فیصلوں پر 10 ماہ کے عرصے کے دوران 14 بار اپنے تحفظات یا اعتراضات درج کرائے تھے۔
'اینٹی اِنکمبنسی' بھارت میں سب سے طاقتور سیاسی قوت
راہل گاندھی نے اینٹی انکمبنسی یعنی حکومت کے خلاف عوامی رجحان کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ مہاراشٹر، ہریانہ اور مدھیہ پردیش جیسی ریاستوں میں اینٹی انکمبنسی کا اثر کیوں نظر نہیں آیا اور بی جے پی مسلسل انتخابات میں کامیابی کیسے حاصل کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں اینٹی انکمبنسی ایک ایسی طاقت ہے جو عام طور پر حکومت کے خلاف عوامی مزاحمت پیدا کرتی ہے اور اس سے کوئی حکومت بچ نہیں سکتی۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ہریانہ میں مختلف حکومتوں کے خلاف برسوں سے موجود اینٹی انکمبنسی کا رجحان ختم ہو گیا، مہاراشٹر میں بھی ایسا ہوا، جبکہ گجرات سمیت کئی دیگر ریاستوں میں بھی اس رجحان کے بارے میں سوال اٹھتا ہے۔
50سال تک حکومت میں رہنے کا دعویٰ کا راز؟
نریندر مودی اور امت شاہ کا دعویٰ ہے کہ ملک میں بی جے پی کی حکومت آنے والے کئی سالوں تک اقتدار میں رہے گی۔میں تقریباً 50 سال سے سیاست کا مشاہدہ کر رہا ہوں، اس کے باوجود کوئی بھی رہنما اس طرح کے دعوے نہیں کر سکتا۔اندرا گاندھی نے بنگلہ دیش کی جنگ جیتی تھی، پھر بھی چند ہی سالوں میں انہیں 'اینٹی اِنکمبنسی' (حکمران جماعت کے خلاف عوامی ناراضی یا رجحان) کا سامنا کرنا پڑا۔ ملک بھر میں کئی وزرائے اعظم اور وزرائے اعلیٰ کو اس صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہے۔انہوں نے اس کا موازنہ ایسے ممالک سے کیا جہاں جمہوری نظام موجود نہیں ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ عراق اور شمالی کوریا میں اینٹی انکمبنسی نہیں ہوتی، کیونکہ وہاں جمہوریت نہیں ہے۔ ان کے مطابق اسی تناظر میں ہندوستان میں انتخابی عمل اور ووٹوں کے تحفظ سے متعلق سوالات اہم ہو جاتے ہیں۔
آئین کے دشمن بے نقاب ہوچکے ہیں،انصاف ضرورہوگا:راہل
ایس آئی آر (SIR) کے معاملے پر الیکشن کمیشن کے اندر مبینہ اختلافات پر جاری ہنگامے کے درمیان، کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے جمعرات کو کہا کہ آئین کے دشمن بے نقاب ہو چکے ہیں اور انصاف ضرور ہوگا۔
'ووٹ چوری' کے معاملے پر NSUI کا مارچ
نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (NSUI) نے کانگریس رہنما راہل گاندھی کی جانب سے لگائے گئے "ووٹ چوری" کے الزامات کی حمایت اور انتخابی احتساب کے مطالبے کے سلسلے میں جمعرات کو اپنے ہیڈکوارٹر سے الیکشن کمیشن آف انڈیا (EC) تک مارچ کیا۔طلبہ تنظیم کے مطابق، یہ مارچ دوپہر 2 بجے رئیسینہ روڈ پر واقع NSUI ہیڈکوارٹر سے شروع ہوا اور الیکشن کمیشن کے ہیڈکوارٹر 'نروچن سدن' کی جانب بڑھا۔یہ احتجاج گاندھی کے اس بیان کے ایک دن بعد کیا گیا ہے جس میں انہوں نے "ووٹ چوری" کو آئین پر براہِ راست حملہ قرار دیا تھا اور بی جے پی، آر ایس ایس اور الیکشن کمیشن پر "غداری" کا ارتکاب کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔
۔۔۔۔
Rahul Gandhi Demands CEC Gyanesh Kumar’s Resignation






