مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) کے سربراہ راج ٹھاکرے نے ممبئی پریس کلب میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران کئی اہم سیاسی امور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے نیٹ (NEET) امتحان کے پیپر لیک ہونے کے خلاف احتجاج کرنے والے طلباء پر پولیس کے لاٹھی چارج، انتخابات میں بیلٹ پیپر کے استعمال اور ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر سوالات اٹھائے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے کاکروچ جنتا پارٹی کے کارکنوں سوربھ داس اور آشوتوش رنکا کی گرفتاریوں پر بھی تشویش ظاہر کی۔ راج ٹھاکرے نے دعویٰ کیا کہ اگلے دو سے پانچ ماہ کے اندر ملک میں کوئی بڑی سیاسی تبدیلی رونما ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں جمہوری اداروں کی آزادی اور ان کے کردار پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
نیٹ امتحان کے پیپر لیک ہونے کے خلاف احتجاج کرنے والے طلباء پر پولیس کی کارروائی کا ذکر کرتے ہوئے راج ٹھاکرے نے سوال کیا کہ ان مظاہروں میں انتشار کہاں تھا؟ ان کے مطابق، طلباء پرامن طریقے سے احتجاج کر رہے تھے اور انہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا تھا، اس کے باوجود پولیس نے ان پر لاٹھی چارج کیا۔ راج ٹھاکرے نے الزام لگایا کہ احتجاج کے دوران گڑبڑ پیدا کرنے کے لیے بی جے پی کے کارکنوں کو پولیس کی وردی پہنا کر مظاہرین کے درمیان شامل کیا گیا۔ انہوں نے بی جے پی کو اس کی سابقہ تحریکوں کی یاد دلاتے ہوئے کہا کہ پارٹی کو اپنے ماضی کو نہیں بھولنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ مظاہرین کو بی جے پی کی پرانی تحریکوں کی تصاویر دکھائی جانی چاہئیں تاکہ وہ ماضی اور حال کے حالات کا موازنہ کرسکیں۔
راج ٹھاکرے نے انتخابات میں مبینہ ووٹ چوری کے خدشات اور عوامی ناراضگی کا ذکر کرتے ہوئے ایک بار پھر بیلٹ پیپر کے ذریعے ووٹنگ کرانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ 2018 سے اس مطالبے کی حمایت کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں الیکشن کمشنروں سے ملاقات بھی کرچکے ہیں۔ ان کے مطابق، ہر ووٹر کو یہ اطمینان ہونا چاہیے کہ اس کا ووٹ درست طریقے سے درج ہوا ہے اور بیلٹ باکس میں پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات میں کون جیتتا ہے اور کون ہارتا ہے، یہ الگ بات ہے، لیکن ووٹر کا اپنے ووٹ کے محفوظ اور درست ہونے پر اعتماد ضروری ہے۔
راج ٹھاکرے نے دلیل دی کہ کئی ممالک میں اب بھی بیلٹ پیپر کے ذریعے ووٹنگ ہوتی ہے۔ انہوں نے فرانس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہاں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم) کے بجائے دوبارہ بیلٹ پیپر کا طریقہ اپنایا جاسکتا ہے تو بھارت میں ایسا کیوں نہیں ہوسکتا؟ انہوں نے یہ بھی سوال کیا کہ جب ووٹوں کی گنتی جلد مکمل ہوجاتی ہے تو نتائج کے اعلان میں اتنی تاخیر کیوں ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بیلٹ پیپر کے ذریعے انتخابات کرانے اور نتائج جاری کرنے میں چار دن بھی لگ جائیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ ان کے مطابق، انتخابات میں تیزی سے زیادہ اہمیت شفافیت اور ووٹروں کے اعتماد کی ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران راج ٹھاکرے نے شیوسینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کے رہنما سنجے راوت کے حکومت میں تبدیلی سے متعلق بیان کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے دو سے پانچ ماہ میں ملک میں کوئی بڑی تبدیلی رونما ہوسکتی ہے۔ انہوں نے یہاں تک امکان ظاہر کیا کہ حالات ایسے ہوسکتے ہیں کہ ملک کو کچھ وقت کے لیے وزیر اعظم کے بغیر رہنا پڑے۔ راج ٹھاکرے نے ملک میں جمہوریت کی صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ جیسی شخصیات پر کھل کر تنقید کی جاسکتی ہے، لیکن بھارت میں ایسی آزادی کی صورتحال مختلف ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ملک میں جمہوری اقدار کمزور ہوئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر آنے والے برسوں میں ملک کے عوام بڑی تعداد میں اپنے مطالبات کے لیے سڑکوں پر نکل آئیں تو انہیں حیرت نہیں ہوگی۔
راج ٹھاکرے نے کاکروچ جنتا پارٹی کے کارکنوں سوربھ داس اور آشوتوش رنکا کی گرفتاریوں پر بھی اعتراض کیا۔ ان کے مطابق، دونوں کارکنوں کو جمہوری اور پرامن احتجاج کے دوران گرفتار کیا گیا، جبکہ بعض سنگین جرائم کے ملزمین کو ضمانت مل جاتی ہے۔ نہوں نے ملک کے خود مختار اداروں کی آزادی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ عدالتی اداروں کو بھی اپنے فیصلوں اور ان کے اثرات پر غور کرنا چاہیے۔ تاہم، انہوں نے عدلیہ کا براہِ راست نام لینے سے گریز کیا۔
راج ٹھاکرے نے الزام لگایا کہ ریاستی مشینری اور تفتیشی اداروں کو حزب اختلاف کو دبانے اور حکومت کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو خاموش کرنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ موجودہ حالات میں ملک کے کون سے ادارے واقعی آزاد اور خود مختار رہ گئے ہیں۔ راج ٹھاکرے کے ان بیانات نے انتخابات کے طریقۂ کار، جمہوری اداروں کی آزادی اور ملک کی سیاسی صورتحال پر جاری بحث کو ایک بار پھر نمایاں کردیا ہے۔ تاہم، اگلے دو سے پانچ ماہ میں بڑی سیاسی تبدیلی کے بارے میں ان کا بیان ایک پیش گوئی ہے، جس کی تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔







