Wednesday, October 07, 2026 | 24 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • کاروبار
  • »
  • آر بی آئی کا بڑا فیصلہ، ریپو ریٹ میں 25 بیسس پوائنٹس کا اضافہ

آر بی آئی کا بڑا فیصلہ، ریپو ریٹ میں 25 بیسس پوائنٹس کا اضافہ

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 07 Oct 2026

آر بی آئی کا بڑا فیصلہ، ریپو ریٹ میں 25 بیسس پوائنٹس کا اضافہ
ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) نے آج مانیٹری پالیسی کمیٹی (MPC) کے اجلاس میں ریپو ریٹ میں 25 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کر دیا ہے۔ اس اضافے کے بعد ریپو ریٹ 5.25 فیصد سے بڑھ کر 5.50 فیصد ہو گیا ہے۔ فروری 2023 کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے جب RBI نے پالیسی ریٹ میں اضافہ کیا ہے۔ RBI کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب مہنگائی کے دباؤ کے ساتھ ساتھ خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور عالمی مالیاتی حالات میں تبدیلی نے معیشت کے لیے نئے چیلنجز پیدا کیے ہیں۔ اگست میں ملک کی خوردہ مہنگائی 4.82 فیصد تک پہنچ گئی تھی، جو RBI کے 4 فیصد کے درمیانی مدت کے ہدف سے مسلسل تیسرے مہینے زیادہ رہی۔
 
ریپو ریٹ میں اضافہ براہ راست بینکوں کے لیے قرض لینے کی لاگت کو متاثر کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں بینک ہوم لون، پرسنل لون اور گاڑیوں کے قرض سمیت مختلف قرضوں کی شرح سود میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ اس کا اثر نئی قسط لینے والے صارفین کے ساتھ ساتھ بعض فلوٹنگ ریٹ والے قرض لینے والوں کی EMI پر بھی پڑ سکتا ہے۔ دوسری جانب، شرح سود میں اضافہ بینکوں کی جانب سے جمع شدہ رقم پر دی جانے والی شرح سود پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔ تاہم، ڈپازٹ اور قرض کی شرحوں میں تبدیلی کا فیصلہ ہر بینک اپنی پالیسی اور مارکیٹ کی صورتحال کے مطابق کرتا ہے۔
 
اس بار مارکیٹ کی توجہ صرف 25 بیسس پوائنٹس کے اضافے پر نہیں بلکہ RBI کے آئندہ اقدامات کے اشاروں پر بھی ہے۔ مرکزی بینک نے پالیسی کا مؤقف ’نیوٹرل‘ سے تبدیل کرکے ’کیلِبریٹڈ ٹائٹننگ‘ کر دیا ہے، جس سے مہنگائی کے دباؤ کے درمیان مالیاتی پالیسی کو مزید سخت کرنے کے امکان کی جانب اشارہ ملتا ہے۔ RBI کے سامنے ایک طرف مہنگائی پر قابو پانے کا چیلنج ہے، جبکہ دوسری جانب معاشی ترقی کو برقرار رکھنا بھی اہم ہے۔ اپریل سے جون کی سہ ماہی میں بھارت کی GDP نمو 7.8 فیصد رہی، جو مضبوط معاشی سرگرمی کی نشاندہی کرتی ہے۔ یوں ریپو ریٹ میں آج کا اضافہ صرف بینکنگ سیکٹر تک محدود نہیں رہے گا بلکہ قرض، EMI، ڈپازٹ ریٹس اور مجموعی مالیاتی حالات پر بھی اس کے اثرات دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔