گروکل اسکول کے پانچ طالب علم زیرزمین پانی کی ٹینک کی صفائی کے دوران زہریلی گیس میں سانس لینے سے شدید بیمار ہو گئے۔ ان میں سے چار پانی کی ٹینکی کے اندر ہی دم توڑ گئے۔ ایک طالب علم زیر علاج ہے۔ پولیس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔
یہ واقعہ اتر پردیش کے ضلع متھرا میں پیش آیا۔ برنداون کے چیتنیا وہارعلاقے میں گروکل کے پانی کے ٹینک سے بدبو آ رہی تھی۔ اس کی وجہ سے کچھ طلباء نے اسے صاف کرنے کی کوشش کی۔ ٹینک میں پانی جو تقریباً 12 فٹ گہرا تھا، کو ایک موٹر کے ذریعے باہر نکالا گیا۔ اس کے بعد سب سے پہلے ایک طالب علم پانی کی ٹینک میں داخل ہوا۔ جب وہ باہر نہیں آیا تو دیگرچار طالب علم اس میں داخل ہو گئے۔
مہلوکین کی شناخت مدھیہ پردیش کے جبل پور کے رہائشی 20 سالہ منو کٹارے، مدھیہ پردیش کے ودیشا کے رہائشی دیوانش شرما (17)، پریاگ راج کے کوشامبی کے 17 سالہ آریان پانڈے اور میرٹھ کے وِشو شرما (18) کے طور پر کی گئی ہے۔واقعے کے فوراً بعد متھرا کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ چندر پرکاش سنگھ جائے وقوعہ پر پہنچے۔ انہوں نے بتایا کہ ٹینک تقریباً 12 فٹ گہرا تھا اور اس کے اندر ایک سبمرسیبل پمپ نصب تھا۔
انہوں نے کہا، "آج ورنداون کے چیتنیا وہار میں واقع مہارشی پانینی گرکل میں موجود تقریباً 10 سے 12 فٹ گہرے پانی کے ٹینک میں، جس میں سبمرسیبل پمپ لگا ہوا ہے، سے بدبو آ رہی تھی؛ چنانچہ اسے ٹھیک کرنے کے لیے گرکل کے طلبا زیر زمین ٹینکی میں اترے۔ گرکل کے پانچ طلباء ٹینک میں داخل ہوئے؛ وہاں غالباً زہریلی گیس موجود تھی جس کے نتیجے میں ان میں سے چار کی موت واقع ہو گئی۔ ایک بچہ بچ گیا اور وہ زیرعلاج ہے۔"
ضلع مجسٹریٹ نے کہا کہ تحقیقات کے دوران جو بھی قصوروار پایا گیا اس کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسکول کی خود بھی تفتیش کی جائے گی - اس حوالے سے کہ اسے کون چلا رہا تھا، یہ کہاں سے چل رہا تھا، اور کیا اس کے پاس تمام ضروری دستاویزات موجود ہیں۔
ضلع مجسٹریٹ کے علاوہ میونسپل کمشنر، فائر ڈپارٹمنٹ کے اہلکار اور دیگر اعلیٰ حکام بھی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے جائے وقوعہ پر پہنچے۔
وزیراعلیٰ کا اظہار تعزیت
دریں اثنا، اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے اس واقعہ پر دکھ کا اظہار کیا۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں، انہوں نے کہا، "متھرا کے ورنداون میں ایک المناک حادثے میں جانوں کا ضیاع انتہائی دل دہلا دینے والا اور روح کو جھنجوڑ دینے والا ہے۔ میری تعزیت سوگوار خاندانوں کے ساتھ ہے۔"
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا۔"میں بھگوان شری رام سے پراتھنا کرتا ہوں کہ مرحوم کی روحوں کو ابدی سکون ملے اور غم زدہ خاندانوں کو یہ بے پناہ دکھ برداشت کرنے کی طاقت ملے۔ اوم شانتی،"
سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کا بیان
واقعہ پر بات کرتے ہوئے متھرا کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) شلوک کمار نے کہا کہ 'ورنداون گروکلم' ایک رہائشی سہولت والا ادارہ ہے جہاں بچے رہتے اور پڑھتے ہیں۔ احاطے میں پانی کی ایک ٹینک سے بدبو آ رہی تھی، اور طلبہ اسے صاف کرنے کے لیے اندر گئے۔
انہوں نے کہا۔"جب پہلا لڑکا نیچے گیا، تو وہ واپس نہیں آیا، اور چار دیگر اس کے پیچھے چلے گئے۔ جب وہ باہر نہ نکل سکے، تو موقع پر موجود لوگوں نے انہیں باہر نکال لیا۔ انہیں علاج کے لیے ہسپتال لایا گیا؛ جو پانچ ٹینک میں داخل ہوئے تھے، ان میں سے چار کی موت ہو چکی ہے،"
پولیس افسر نے کہا۔"ان کی عمریں 17 سے 20 سال کے درمیان تھیں۔ ان کے اہل خانہ سے رابطہ کیا جا رہا ہے اور انہیں مطلع کیا جا رہا ہے۔ چاروں مہلوکین کی لاشیں ضلع ہسپتال سے مردہ خانے میں بھیج دی گئی ہیں۔ ایک طالب علم جو بچ گیا اسے ضلع ہسپتال سے اعلیٰ مرکز میں ریفر کر دیا گیا ہے۔ حالانکہ وہ فی الحال ہوش میں ہے اور بات چیت کرنے کے قابل ہے، اسے مزید بہتر نگرانی کو یقینی بنانے کے لیے بھیجا گیا ہے،"
انہوں نے یہ بھی کہا کہ جائے وقوعہ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی جانچ کی جا رہی ہے۔ مزید برآں، اہل خانہ سے رابطہ قائم کیا گیا ہے، اور ان کی طرف سے درج کرائی گئی باضابطہ شکایات کی بنیاد پر مزید کارروائی کی جائے گی۔
عینی شاہدین کا بیان
واقعے میں بچ جانے والے طالب علم نے کہا کہ وہ سب ایک ساتھ ٹینک کے اندر نہیں گئے تھے۔انہوں نے کہا۔"پہلے صرف ایک طالب علم اندر گیا، پھر جب وہ واپس نہیں آیا تو دوسرا لڑکا اس کے پیچھے نیچے اْتر گیا۔ اس کا پاؤں پھسل گیا، اور اس کے گرنے کی وجہ نے ہمیں بھی اندر داخل ہونے پر مجبور کیا ،" ۔جب ان نے پوچھا کہ طلبہ ٹینک کی صفائی کے لیے نیچے کیوں گئے تو طلبہ نے کہا کہ چونکہ یہ گروکل ہے اس لیے صفائی سمیت تمام کاموں کی ذمہ داری ہر ایک کی ہے۔ "یہ ہمارا گھر ہے۔ ہم یہیں رہتے ہیں۔ ہمیں یہ سب (صفائی کا) کام کرنا ہے۔"
ایک طالب علم نے بتایا کہ مرنے والوں میں سے تین تمام فریش تھے اور انہوں نے اس سال ہی داخلہ لیا تھا۔تقریباً 150 طالب علم مختلف جگہوں سے سنسکرت پڑھنے کے لیے گروکل آتے ہیں۔






