Wednesday, October 07, 2026 | 24 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • علاقائی
  • »
  • تلنگانہ: کانگریس ایم ایل اے کی ویڈیو وائرل، طالبہ سے مبینہ نامناسب رویے پر تنقید

تلنگانہ: کانگریس ایم ایل اے کی ویڈیو وائرل، طالبہ سے مبینہ نامناسب رویے پر تنقید

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 07 Oct 2026

تلنگانہ:  کانگریس ایم ایل اے کی ویڈیو وائرل، طالبہ سے مبینہ نامناسب رویے پر تنقید
تلنگانہ کے ابراہیم پٹنم سے کانگریس کے رکن اسمبلی مال ریڈی رنگا ریڈی (Malreddy Ranga Reddy) کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ان کے رویے پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ ویڈیو میں رکن اسمبلی ایک سرکاری بس میں ایک کالج طالبہ سے بات چیت کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ ویڈیو میں وہ مبینہ طور پر طالبہ کو بار بار چھوتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، جبکہ طالبہ اپنا ہاتھ واپس کھینچتی نظر آتی ہے۔ یہ واقعہ 6 اکتوبر کو ابراہیم پٹنم سے یامجل (Yamjal) جانے والی TSRTC بس میں پیش آیا۔ بتایا گیا ہے کہ مال ریڈی رنگا ریڈی ’مہالکشمی‘ مفت بس اسکیم سے فائدہ اٹھانے والی خواتین سے بات چیت کے لیے بس میں سوار ہوئے تھے۔
 
بات چیت کے دوران ایک کالج طالبہ نے انہیں بتایا کہ مفت بس سفر کی سہولت کی وجہ سے اس نے تقریباً 45 ہزار روپے کی بچت کی ہے۔ اسی دوران رکن اسمبلی اور طالبہ کے درمیان گفتگو ہوئی۔ وائرل ویڈیو میں مال ریڈی رنگا ریڈی کو طالبہ کا ہاتھ پکڑتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ طالبہ مبینہ طور پر اپنا ہاتھ واپس کھینچتی نظر آتی ہے۔ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر رکن اسمبلی کے رویے کو لے کر تنقید شروع ہو گئی۔ کئی صارفین نے ویڈیو کی بنیاد پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ عوامی نمائندوں کو خواتین سے بات چیت کے دوران ان کی رضامندی اور ذاتی حدود کا خیال رکھنا چاہیے۔
 
 
گلوکارہ چن مئی سری پادا (Chinmayi Sripada)  نے بھی اس معاملے پر سوشل میڈیا کے ذریعے ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے رکن اسمبلی کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انہیں ’رضامندی‘ کے بنیادی تصور کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ چن مئی سری پادا (Chinmayi Sripada)  نے یہ بھی تجویز دی کہ مرد سیاست دانوں کو خواتین کے ساتھ مناسب رویے اور ذاتی حدود کے احترام کے حوالے سے تربیت دی جانی چاہیے۔ فی الحال وائرل ویڈیو کے حوالے سے رکن اسمبلی کی جانب سے کسی وضاحت یا ردعمل کی تفصیل سامنے نہیں آئی ہے۔ ویڈیو کی مکمل صورتحال اور اس واقعے کے دیگر پہلوؤں کی تصدیق متعلقہ حکام یا مزید شواہد سامنے آنے کے بعد ہی ہو سکے گی۔