Monday, November 02, 2026 | 21 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • بحیرہ عرب میں ایل این جی بردار جہاز پر مبینہ حملہ، عملے میں 6 ہندوستانی شہری بھی شامل

بحیرہ عرب میں ایل این جی بردار جہاز پر مبینہ حملہ، عملے میں 6 ہندوستانی شہری بھی شامل

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 02 Nov 2026

بحیرہ عرب میں ایل این جی بردار جہاز پر مبینہ حملہ، عملے میں 6 ہندوستانی شہری بھی شامل
قطر سے پاکستان جانے والے جہاز المایدہ کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاع
کارگو اور جہاز کو محدود نقصان، تمام عملے کے محفوظ ہونے کی خبر
 
بحیرۂ عرب میں توانائی بردار جہاز المایدہ پر مبینہ حملے کی اطلاع نے بحری سلامتی اور خطے میں توانائی کی ترسیل کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔ یہ جہاز قطر کی ایک بندرگاہ سے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) لے کر پاکستان کی جانب روانہ تھا، تاہم راستے میں نامعلوم سمت سے اس پر حملے کی اطلاع سامنے آئی۔ ابتدائی معلومات کے مطابق جہاز کے عملے میں مختلف ممالک کے شہری شامل تھے، جن میں 6 ہندوستانی بھی موجود تھے۔ حکام نے بتایا کہ واقعہ بحیرۂ عرب کی اس گزرگاہ کے قریب پیش آیا جو خلیجی بندرگاہوں اور جنوبی ایشیا کے درمیان اہم تجارتی راستہ ہے۔ تاہم حملے کی صحیح جگہ اور تاریخ سے متعلق تفصیلات باضابطہ طور پر جاری نہیں کی گئیں۔
 
ڈرون یا میزائل سے حملے کا شبہ
 
ابتدائی بیانات میں شبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ جہاز کو ڈرون یا میزائل جیسے ہتھیار سے نشانہ بنایا گیا، لیکن اس کی آزادانہ تصدیق ابھی نہیں ہو سکی ہے۔ کسی گروہ نے بھی فوری طور پر حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ جہاز کے آپریٹرز اور بحری سکیورٹی اداروں کے مطابق ابتدائی جائزے میں کارگو اور جہاز کے بیرونی حصے کو محدود نقصان پہنچنے کی بات سامنے آئی ہے۔ تاہم جہاز سمندر میں تیرتا رہا اور عملے کے تمام افراد محفوظ رہے۔ کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ واقعے کے بعد جہاز کو قریبی محفوظ پانیوں کی طرف لے جانے کا عمل شروع کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ انشورنس کمپنیوں اور جہاز کے رجسٹریشن والے ملک کے حکام سے بھی رابطہ کیا جا رہا ہے۔
 
پاکستان کی توانائی سپلائی پر کیا اثر پڑے گا؟
 
پاکستانی توانائی حکام، قطر کے ایل این جی سپلائرز اور بین الاقوامی بحری سلامتی کے ادارے اس واقعے پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ اس حملے سے ایل این جی کی ترسیل کے شیڈول پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ کارگو پاکستان کے لیے اہم تھا، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ متبادل انتظامات اور موجودہ ذخیرے کی مدد سے ملک میں فوری طور پر گیس کی قلت کا خطرہ کم ہے۔ دوسری جانب ہندوستانی متعلقہ اداروں نے جہاز پر موجود اپنے 6 شہریوں کی خیریت سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے رابطے شروع کر دیے ہیں۔
 
بحری راستوں کی سلامتی پر پھر سوالات
 
تجزیہ کاروں کے مطابق بحیرۂ احمر، بحرِ عمان اور دیگر اہم سمندری راستوں پر جہازوں کے خلاف حملوں کے واقعات سے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے۔ ایسے واقعات کے باعث جہازوں کے انشورنس اخراجات اور مال برداری کے کرایوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے، جس کا اثر علاقائی معیشتوں پر پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ توانائی کی محفوظ ترسیل کے لیے حملوں کی شفاف تحقیقات، ذمہ داروں کی نشاندہی اور مشترکہ بحری نگرانی کے انتظامات ضروری ہیں۔ حکام کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور مزید تفصیلات سامنے آنے کے بعد جاری کی جائیں گی۔