دبئی کے حکمران اور متحدہ عرب امارات کے نائب صدر و وزیر اعظم شیخ محمد بن راشد آل مکتوم کے بھائی شیخ احمد بن راشد آل مکتوم کا پیر کی صبح انتقال ہوگیا۔ سرکاری ذرائع نے انتقال کی تصدیق کے بعد دبئی میں 10روزہ سرکاری سوگ کا اعلان کیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق سوگ پیر سے ہی شروع ہوگیا ہے۔ اس دوران دبئی میں تمام قومی پرچم سرنگوں رہیں گے۔ سرکاری بیان میں شیخ احمد بن راشد آل مکتوم کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ پیر کی صبح اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔
شیخ محمد بن راشد آل مکتوم جذباتی پیغام
شیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے اپنے بھائی کے انتقال پر جذباتی تعزیتی پیغام جاری کیا۔ انہوں نے کہا، ’’آپ ہماری نظروں سے اوجھل ہوگئے ہیں، لیکن ہماری دعاؤں اور دلوں سے کبھی دور نہیں ہوں گے۔‘‘ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ شیخ احمد کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور اہل خانہ و عزیزوں کو صبر و سکون دے۔ شیخ احمد بن راشد آل مکتوم 1950 میں پیدا ہوئے تھے اور وہ مرحوم دبئی کے حکمران شیخ راشد بن سعید آل مکتوم کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے۔ دبئی حکومت کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق شیخ محمد بن راشد آل مکتوم بھی شیخ راشد کے بیٹوں میں شامل ہیں۔
شیخ محمد بن زید النہیان کا اظہار تعزیت
متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان نے دبئی پولیس اور پبلک سیکیورٹی کے نائب چیئرمین شیخ احمد بن راشد آل مکتوم کی 76 سال کی عمر میں وفات پر تعزیت کا اظہار کیا ہے ۔انہوں نے پیر کو اپنے بھائی کی موت کے بعد شیخ محمد بن راشد المکتوم ، نائب صدر، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران سے ہمدردی کا اظہار کیا ۔صدر شیخ محمد نے شیخ احمد کی "متحدہ عرب امارات کے قیام کے بعد سے اس کی ترقی میں ان کے تعاون" کی تعریف بھی کی۔
وزیر دفاع شیخ حمدان بن محمد بن راشد المکتوم کا اظہار تعزیت
دبئی کے ولی عہد، نائب وزیراعظم اور وزیر دفاع شیخ حمدان بن محمد بن راشد المکتوم نے بھی اپنے چچا کے ساتھ تعزیت کی۔شیخ ہمدان نے لکھا، "شیخ احمد دلوں، یادوں اور دعاؤں میں زندہ رہیں گے، اور ہم خدا سے دعا کرتے ہیں کہ وہ انہیں اپنی وسیع رحمت میں ڈھانپ لے، انہیں اپنے باغات کی وسعتوں میں سکونت بخشے، اور ہمیں اور دبئی اور امارات کے لوگوں کو صبر اور سکون کے ساتھ حوصلہ افزائی کرے،" شیخ ہمدان نے لکھا۔
’’بے شک ہم اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔‘‘
شیخ احمد بن راشد آل مکتوم کی خدمات
شیخ احمد نے رائل ملٹری اکیڈمی سینڈہرسٹ سے تعلیم حاصل کی اور بعد میں دبئی کی مرکزی فوجی کمان سے وابستہ ہوئے۔ وہ فوجی کمان میں اعلیٰ عہدے تک پہنچے اور بعد ازاں دبئی پولیس اور پبلک سیکوریٹی کے نائب چیئرمین کی ذمہ داری بھی سنبھالی۔ سرکاری اور مقامی ذرائع کے مطابق شیخ احمد طویل عرصے تک دبئی کے سیکوریٹی نظام میں اہم ذمہ داریاں ادا کرتے رہے۔ سرکاری امور کے علاوہ ان کی کاروبار، جائیداد اور کھیلوں کے شعبے میں بھی دلچسپی تھی۔ وہ اے آر ایم ہولڈنگ کے گروپ چیئرمین اور دبئی ریئل اسٹیٹ سینٹر سے بھی وابستہ رہے۔
شیخ احمد کے انتقال کی وجہ فوری طور پر ظاہر نہیں کی گئی ہے۔ مقامی ذرائع نے بتایا ہے کہ تدفین اور نماز جنازہ سے متعلق مزید سرکاری تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔






