Thursday, September 17, 2026 | 03 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • دہلی ووٹر لسٹ سے 47.5 لاکھ نام خارج، 15 دن میں صرف 62 ہزار فارم-6 درخواستیں

دہلی ووٹر لسٹ سے 47.5 لاکھ نام خارج، 15 دن میں صرف 62 ہزار فارم-6 درخواستیں

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 17 Sept 2026

دہلی ووٹر لسٹ سے 47.5 لاکھ نام خارج، 15 دن میں صرف 62 ہزار فارم-6 درخواستیں
دہلی میں ووٹرز کی نئی مسودہ فہرست جاری ہونے کے بعد انتخابی فہرست سے خارج کیے گئے ناموں کو دوبارہ شامل کرانے کا عمل جاری ہے۔ تاہم ’دعووں اور اعتراضات‘ کے ابتدائی 15 دن کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب تک نام دوبارہ شامل کرانے کے لیے موصول ہونے والی درخواستوں کی تعداد اندازے کے مقابلے میں کافی کم ہے۔ 31 اگست کو جاری کی گئی مسودہ ووٹر لسٹ سے تقریباً 47 لاکھ 50 ہزار نام خارج کیے گئے تھے۔ انتخابی حکام کے اندازے کے مطابق ان میں سے تقریباً 10 فیصد یعنی لگ بھگ 4 لاکھ 75 ہزار افراد اپنے نام دوبارہ شامل کرانے کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ تاہم 15 ستمبر تک صرف 62,583 افراد نے فارم-6 کے ذریعے نام شامل کرانے کی درخواست دی ہے۔ یہ اعداد و شمار اس لیے بھی اہم ہیں کہ مسودہ فہرست جاری ہونے سے پہلے ہی دہلی میں فارم-6 کی تقریباً 2 لاکھ 12 ہزار درخواستیں جمع ہوچکی تھیں۔ اس کے مقابلے میں 31 اگست کے بعد شروع ہونے والے دعووں اور اعتراضات کے مرحلے میں درخواستیں جمع کرانے کی رفتار نسبتاً کم رہی ہے۔
 
ضلع وار اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو مغربی دہلی میں سب سے زیادہ 7,834 فارم-6 درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ اس کے بعد شمال مغربی دہلی میں 6,384 اور مشرقی دہلی میں 6,297 درخواستیں جمع کرائی گئیں۔ شمال مشرقی دہلی سے 5,585 جبکہ جنوب مغربی دہلی سے 5,436 درخواستیں موصول ہوئیں۔ آؤٹر نارتھ ضلع میں 4,287، شمالی ضلع میں 4,188، وسطی دہلی میں 2,647 اور پرانی دہلی کے علاقے میں 2,547 درخواستیں جمع کرائی گئیں۔ نئی دہلی ضلع سے سب سے کم 1,203 فارم-6 درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ انتخابی فہرست کی نظرثانی کا عمل صرف ان 47 لاکھ 50 ہزار ناموں تک محدود نہیں ہے جو مسودہ فہرست سے خارج کیے گئے ہیں۔ مسودہ فہرست میں شامل تقریباً 33 لاکھ ووٹرز کو بھی مختلف تضادات کے سلسلے میں نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں۔ موجودہ مسودہ فہرست میں تقریباً 97 لاکھ ووٹرز شامل ہیں، اس لحاظ سے نوٹس حاصل کرنے والے افراد کی تعداد بھی خاصی بڑی ہے۔
 
انتخابی حکام کے مطابق دہلی میں لوگوں کی بار بار رہائش تبدیل کرنا بھی اس صورتحال کی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر سرکاری ملازمین سمیت کئی افراد ملازمت یا دیگر وجوہات کی بنا پر کچھ عرصہ دہلی میں رہنے کے بعد دوسرے شہروں یا اپنی آبائی ریاستوں میں منتقل ہوجاتے ہیں۔ ایس آئی آر کے دوران تقریباً 47 لاکھ افراد کی جانب سے مطلوبہ فارم جمع نہ کرانے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔ دعووں اور اعتراضات کا مرحلہ 30 ستمبر تک جاری رہے گا۔ اس کے مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ خارج کیے گئے ناموں میں سے کتنے افراد نے دوبارہ ووٹر لسٹ میں شمولیت کے لیے درخواست دی اور کتنے نام بحال کیے جاتے ہیں۔