سپریم کورٹ نے منی پور میں 2023 کے تشدد کے دوران بے گھر ہونے والے افراد کے لیے قائم امدادی کیمپوں میں ہونے والی متعدد اموات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عدالت نے ریاست کے چیف سیکریٹری کو ہدایت دی ہے کہ وہ کیمپوں میں ہونے والی اموات، خاص طور پر غیر فطری اموات، کی تحقیقات اور ان معاملوں میں فوجداری کارروائی کے حوالے سے تفصیلی حلف نامہ داخل کریں۔ چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت، جسٹس جویمالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے ریاستی حکام سے یہ بھی وضاحت طلب کی کہ امدادی کیمپوں میں مقیم لوگوں کی حفاظت کے لیے اب تک کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔ عدالت نے جسٹس گیتا متل کمیٹی کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ ان رپورٹس میں سامنے آنے والی معلومات کی بنیاد پر اب تک ٹھوس کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔
سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا کہ چیف سیکریٹری کو امدادی کیمپوں میں ہونے والی اموات، بالخصوص غیر فطری اموات، کے بارے میں حلف نامہ جمع کرانا ہوگا۔ عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ رپورٹ ہونے والی 34 اموات میں سے صرف 20 معاملات میں پوسٹ مارٹم کیوں کیا گیا۔ بنچ نے متاثرہ افراد کو دیے جانے والے معاوضے پر بھی سوال اٹھایا۔ عدالت نے ریاست سے وضاحت طلب کی کہ امدادی کیمپوں میں پناہ لینے والے بے گھر افراد کی غیر فطری موت کی صورت میں صرف 20 ہزار سے 30 ہزار روپے معاوضہ دینے کی بنیاد کیا ہے۔
عدالت نے منی پور اسٹیٹ لیگل سروسز اتھارٹی (MSLSA) کو بھی اس معاملے پر الگ اسٹیٹس رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ غیر فطری موت کے تمام واقعات میں ایف آئی آر درج ہونی چاہیے۔ MSLSA کو ان مقدمات کی تحقیقات کی نگرانی کرنے اور کیمپوں میں رہنے والے بے گھر افراد کی حفاظت اور وقار کو یقینی بنانے کے لیے بھی کہا گیا ہے۔ عدالت نے یہ ہدایات جسٹس گیتا متل کمیٹی اور ایک آئی اے ایس افسر کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹس کا جائزہ لینے کے بعد جاری کیں۔ رپورٹس میں امدادی کیمپوں میں 30 سے زائد اموات کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان میں ایک موت مبینہ طور پر جنسی زیادتی کے واقعے کے بعد ہونے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔
سماعت کے دوران منی پور تشدد سے متعلق سی بی آئی اور این آئی اے کے مقدمات کا معاملہ بھی سامنے آیا۔ ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل ایشوریہ بھاٹی نے عدالت کو بتایا کہ سی بی آئی نے 31 مقدمات کی تحقیقات کی ہیں، جن میں سے 28 میں حتمی رپورٹس داخل کی جاچکی ہیں، جبکہ 3 مقدمات میں تحقیقات جاری ہیں۔ سپریم کورٹ نے امید ظاہر کی کہ 2023 کے منی پور تشدد سے متعلق مقدمات کی سماعت کے لیے قائم خصوصی ٹرائل عدالتیں کارروائی میں تیزی لائیں گی۔ منی پور میں نسلی تشدد کا سلسلہ 3 مئی 2023 کو شروع ہوا تھا، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں لوگ بے گھر ہوئے اور ان کے لیے مختلف مقامات پر امدادی کیمپ قائم کیے گئے تھے۔







