Friday, November 06, 2026 | 25 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • او بی سی ریزرویشن پر سپریم کورٹ کا مودی حکومت کو جھٹکا، سابقہ حکم برقرار

او بی سی ریزرویشن پر سپریم کورٹ کا مودی حکومت کو جھٹکا، سابقہ حکم برقرار

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: 06 Nov 2026

او بی سی ریزرویشن پر سپریم کورٹ کا مودی حکومت کو جھٹکا، سابقہ حکم برقرار
سپریم کورٹ نے او بی سی ریزرویشن میں کریمی لیئر کے تعین سے متعلق اپنے 11 مارچ 2026 کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے مرکز کی مودی حکومت کی وضاحت اور تبدیلی کی درخواست خارج کر دی ہے۔ یہ حکم آج نئی دہلی میں جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس آر مہادیون پر مشتمل بنچ نے سنایا، جس میں واضح کیا گیا کہ کریمی لیئر طے کرتے وقت والدین کی تنخواہ یا زرعی آمدنی کو تنہا یا مجموعی طور پر واحد بنیاد نہیں بنایا جا سکتا، بلکہ والدین کے عہدے، ملازمت کے زمرے اور مجاز پالیسی کی جامع تعبیر کو ملحوظ رکھنا لازم ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ یکساں حالات کے حامل امیدواروں کے ساتھ صرف اس بنا پر امتیاز نہیں برتا جا سکتا کہ ان کے والدین سرکاری محکموں، سرکاری شعبہ کے اداروں یا نجی کمپنیوں میں ملازمت کرتے ہیں۔
 
یہ فیصلہ اس تنازعہ کے پس منظر میں آیا ہے جس میں متعدد او بی سی امیدواروں نے سیول سروس امتحان پاس کرنے کے باوجود محکمۂ عملہ و تربیت (ڈی او پی ٹی) کے فیصلوں کے سبب او بی سی نان کریمی لیئر کا فائدہ گنوا دیا تھا۔ ان امیدواروں کے والدین پی ایس یو، بینکوں اور نجی اداروں میں برسرِ روزگار تھے۔ ڈی او پی ٹی نے ان کی تنخواہوں اور آمدنی کو بنیاد بنا کر انہیں کریمی لیئر میں شمار کیا، جس کے نتیجے میں آئی اے ایس، آئی پی ایس، آئی آر ایس اور دیگر مرکزی خدمات کے لیے ان کی تقرریاں یا خدمات کی الاٹمنٹ رک گئی۔ متاثرہ امیدواروں نے اس کاروائی کو عدالتوں میں چیلنج کیا، جہاں مرکزی انتظامی ٹریبونل کے علاوہ مدراس، دہلی اور کیرالہ ہائی کورٹ نے انہیں راحت دی۔ ان احکامات کے خلاف مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا، جس نے 11 مارچ 2026 کو ’یونین آف انڈیا بنام روہت ناتھن‘ میں مرکز کی اپیل مسترد کر دی تھی۔
 
عدالت نے 1993 کے سرکاری دفتر یادداشت اور 2004 کے وضاحتی خط کی تشریح کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ والدین کی تنخواہ اور زرعی آمدنی کو آمدنی و دولت کی حد کے تحت دیگر آمدنی کے ساتھ جوڑ کر کریمی لیئر طے کرنا درست نہیں۔ بنچ کے مطابق والدین کے عہدے اور ملازمت کے زمرے کی نوعیت فیصلہ کن اہمیت رکھتی ہے اور اس پیمانے کو یکساں رکھے بغیر مختلف ادارہ جاتی پس منظر کے امیدواروں پر ایک ہی سادہ آمدنی کی کسوٹی لاگو کرنا امتیازی برتاؤ کے مترادف ہے۔ اسی تناظر میں عدالت نے کہا تھا کہ محض تنخواہی آمدنی یا کھیتی سے حاصل ہونے والی کمائی کو بنیاد بنا کر اہل امیدواروں کو ریزرویشن کے فائدے سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
 
مرکز نے اس فیصلے پر وضاحت اور ترمیم کی درخواست دیتے ہوئے مؤقف اپنایا تھا کہ اگر اس حکم کا اطلاق پہلے سے مکمل تقرریوں پر کیا گیا تو انتظامی پیچیدگیاں پیدا ہوں گی، کیڈر الاٹمنٹ، سینیارٹی اور خدمات کی درجہ بندی پر اثر پڑے گا، اور عمل درآمد کے لیے اضافی وقت درکار ہوگا۔ حکومت نے یہ بھی استدلال کیا کہ پرانے معاملات چھیڑنے سے عملے کے نظم و نسق میں بے ترتیبی آسکتی ہے۔ تاہم سپریم کورٹ نے آج مرکز کے خدشات کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کا واضح اصولی موقف برقرار رہے گا اور جن امیدواروں کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے انہیں حق بہ حق دار پہنچایا جائے۔
 
بنچ نے مرکز اور ڈی او پی ٹی کو ہدایت دی کہ وہ ان تمام اہل امیدواروں کو، جنہوں نے سیول سروس امتحان کامیابی سے پاس کیا تھا مگر کریمی لیئر کے غلط تعین کے باعث تقرری یا خدمات کی الاٹمنٹ سے محروم رہ گئے، فوری طور پر تقرریاں دیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ جن امیدواروں کی اہلیت عدالت کے مقررہ معیار کے تحت او بی سی نان کریمی لیئر میں آتی ہے، انہیں ان کی مستحق جگہ فراہم کی جائے۔ اگر ضرورت پیش آئے تو اضافی یعنی سپرنیومری عہدے تخلیق کیے جائیں تاکہ کسی موجودہ اہل کار کی جگہ متاثر کیے بغیر حق دار امیدواروں کو شامل کیا جا سکے۔ البتہ اہلیت اور دیگر سروس شرائط پوری کرنا لازم ہوگا۔