سالگرہ کے دن انش کی بھی جان چلی گئی
حادثے کے بعد مشتعل دیہاتیوں کا سڑک پر احتجاج
ڈرائیور کو پولیس نے اپنی تحویل میں لیا
اتر پردیش کے مراد آباد میں ایک دردناک سڑک حادثے نے پورے گاؤں کو غم میں ڈبو دیا۔ مونڈھا پانڈے تھانے کی حدود میں واقع گاؤں مڑھیا بھائپور میں سڑک کنارے کھیل رہے بچوں کو ایک تیز رفتار بولیرو نے ٹکر مار دی۔ اس حادثے میں دو بچوں کی موقع پر ہی موت ہو گئی، جبکہ چار بچے شدید زخمی ہو گئے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق بولیرو کرن پور سے مونڈھا پانڈے کی طرف آ رہی تھی۔ اسی دوران گاڑی بے قابو ہو کر سڑک کنارے کھیل رہے بچوں پر چڑھ گئی۔ گاڑی کی زد میں پکوان فروخت کرنے والا ایک شخص اور اس کی ماں بھی آ گئے، جو بری طرح زخمی ہو گئے۔ حادثے کے فوراً بعد گاؤں میں چیخ و پکار مچ گئی اور بڑی تعداد میں لوگ موقع پر جمع ہو گئے۔
سالگرہ کے دن انش کی موت
اس حادثے میں جان گنوانے والے بچوں کی شناخت رنویر سنگھ کی بیٹی چترا اور اندل کے بیٹے انش کے طور پر ہوئی ہے۔ گاؤں والوں کے مطابق انش کی سالگرہ بھی اسی منگل کے دن تھی، لیکن خوشی کا یہ دن خاندان کے لیے ایک بڑے سانحے میں بدل گیا۔ زخمی بچوں میں اِچھا، مہک اور آیوش کے علاوہ ایک اور کم عمر بچہ شامل ہے۔ تمام زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال پہنچایا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
ڈرائیور کو چار گھنٹے تک یرغمال بنایا
حادثے کے بعد مشتعل دیہاتیوں نے سڑک بلاک کر دی اور بولیرو ڈرائیور کو پکڑ کر تقریباً چار گھنٹے تک اپنے قبضے میں رکھا۔ اس دوران ڈرائیور کی پٹائی بھی کی گئی۔ پولیس کے مطابق لوگ ڈرائیور کو خود سزا دینے پر بضد تھے، جس کے باعث موقع پر کشیدگی بڑھتی گئی۔ پولیس اہلکاروں نے تقریباً دو گھنٹے تک لوگوں کو سمجھانے اور حالات قابو میں کرنے کی کوشش کی، لیکن احتجاج ختم نہیں ہوا۔ آخرکار رات تقریباً 8 بج کر 30 منٹ پر پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا اور ڈرائیور کو بحفاظت اپنی تحویل میں لے لیا۔
پولیس نے شروع کی کارروائی
مراد آباد کے ایس پی سٹی کمار رنوے سنگھ کے مطابق حادثے میں دو بچوں کی موت ہوئی ہے، جبکہ چار بچے زخمی ہیں اور ان کا علاج جاری ہے۔ پولیس نے بولیرو گاڑی اور ڈرائیور کو حراست میں لے کر قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔ ابتدائی جانچ میں حادثے کی وجہ تیز رفتاری اور ڈرائیور کا گاڑی پر قابو نہ رکھ پانا بتایا جا رہا ہے۔ تاہم حادثے کی مکمل وجوہات پوسٹ مارٹم رپورٹ، طبی معلومات اور گاڑی کے تکنیکی معائنے کے بعد ہی واضح ہوں گی۔ دوسری جانب مقامی لوگوں نے متاثرہ خاندانوں کے لیے مالی امداد اور سڑک پر گاڑیوں کی رفتار قابو میں رکھنے کے لیے مستقل اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔







