Thursday, October 01, 2026 | 17 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت کا نام بدل کر ’سپر انٹیلیجنس‘ رکھ دیا

ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت کا نام بدل کر ’سپر انٹیلیجنس‘ رکھ دیا

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: 30 Sept 2026

ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت کا نام بدل کر ’سپر انٹیلیجنس‘ رکھ دیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے لیے نئی اصطلاح استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب امریکی وفاقی حکومت کی سرکاری دستاویزات اور مواصلات میں، جہاں قانون اجازت دے، AI کے بجائے ’سپر انٹیلیجنس‘ (Super Intelligence) اور ’SI‘ کی اصطلاح استعمال کی جائے گی۔
 
ٹرمپ نے 29 ستمبر کو اس حوالے سے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے۔ اس کے تحت وفاقی محکموں اور ایجنسیوں کو سرکاری مواصلات، پالیسی دستاویزات اور دیگر متعلقہ غیر قانونی طور پر مقرر نہ کیے گئے مواد میں، جہاں قانون اجازت دے، ’Artificial Intelligence‘ اور ’AI‘ کی جگہ ’Super Intelligence‘ اور ’SI‘ استعمال کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
 
ٹرمپ نے کہا کہ ’مصنوعی‘ کا لفظ اس ٹیکنالوجی کو اس کی اصل صلاحیتوں کے مقابلے میں کم حقیقی ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے اس سے قبل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران بھی کہا تھا کہ امریکی سرکاری دستاویزات میں AI کے بجائے ’Super Intelligence‘ استعمال کیا جائے گا۔ اس وقت یہ واضح نہیں تھا کہ اس تبدیلی کا عملی نفاذ کب اور کس طریقے سے ہوگا، اب ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے وفاقی حکومت کے لیے اس اصطلاح کو باضابطہ کر دیا گیا ہے۔
 
ٹرمپ نے AI کو انٹرنیٹ سے بھی بڑی چیز قرار دیا۔ وائٹ ہاؤس میں ٹیکنالوجی کے شعبے کے رہنماؤں سے ملاقات کے دوران انہوں نے کہا کہ ’سپر انٹیلیجنس‘ انٹرنیٹ اور صنعتی انقلاب سے بھی زیادہ بڑا اثر ڈال سکتی ہے۔ ان کے مطابق امریکہ کو اس ٹیکنالوجی کی ترقی کو روکنے کے بجائے اس میں قیادت برقرار رکھنے پر توجہ دینی چاہیے۔
 

’سپر انٹیلیجنس‘ کا مطلب کیا ہے؟

 
ٹرمپ کی جانب سے استعمال کی جانے والی ’سپر انٹیلیجنس‘ اصطلاح ٹیکنالوجی کی دنیا میں بالکل نئی نہیں ہے۔ مصنوعی ذہانت کی تحقیق میں Superintelligence سے عام طور پر ایسے فرضی نظام مراد لیے جاتے ہیں جن کی ذہنی صلاحیتیں مختلف شعبوں میں انسانی صلاحیتوں سے کہیں زیادہ ہوں۔
 
اسی لیے AI اور Superintelligence ایک ہی چیز کے نام نہیں سمجھے جاتے۔ موجودہ AI نظام مختلف کاموں میں انسانوں کی مدد کر سکتے ہیں، جبکہ سپر انٹیلیجنس عام طور پر مستقبل کے ایسے ممکنہ نظام کے تصور کے لیے استعمال ہوتی ہے جو انسانوں سے کہیں زیادہ ذہانت رکھتا ہو۔ ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر میں ’Super Intelligence‘ کو موجودہ وفاقی AI تعریف کے دائرے میں استعمال کیا جا رہا ہے، یہ لازماً ٹیکنالوجی کی دنیا میں رائج Superintelligence کے مخصوص تصور کے برابر نہیں ہے۔ آرڈر کے تحت نئی وفاقی تعریف تجویز کرنے کا کام بھی 60 دن میں کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
 

وائٹ ہاؤس میں بڑے ٹیک رہنماؤں کی ملاقات

 
ٹرمپ نے یہ اعلان وائٹ ہاؤس میں ٹیکنالوجی اور AI صنعت کے کئی بڑے رہنماؤں کے ساتھ ملاقات کے دوران کیا۔ اجلاس میں ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک، میٹا کے سی ای او مارک زکربرگ، گوگل کے سی ای او سندر پچائی اور اینویڈیا کے سی ای او جینسن ہوانگ سمیت کئی اہم شخصیات موجود تھیں۔
 
اس کے علاوہ اوپن اے آئی کے صدر گریگ بروکمین، اینتھروپک کے سی ای او ڈاریو امودی، مائیکروسافٹ کے سی ای او ستیا نڈیلا اور ایمیزون کے بانی جیف بیزوس بھی اجلاس سے وابستہ نمایاں شخصیات میں شامل تھے۔
 

AI کی حفاظت کے لیے رضاکارانہ معاہدہ

 
اجلاس میں AI کی حفاظت سے متعلق ایک رضاکارانہ معاہدہ بھی سامنے آیا۔ اس میں ٹیک کمپنیوں نے اپنے AI نظاموں کی نگرانی اور حفاظتی اقدامات بہتر بنانے پر اتفاق کیا۔ معاہدے کے تحت کمپنیوں نے اندرونی حفاظتی نظام مضبوط کرنے کے ساتھ آزاد آڈیٹرز کے ذریعے اپنے نظاموں کا جائزہ لینے اور بورڈ کی سطح پر نگرانی بہتر بنانے پر بھی کام کرنے پر اتفاق کیا۔
 
معاہدے کے تحت کمپنیاں اندرونی حفاظتی نظام مضبوط کرنے کے ساتھ آزاد آڈیٹرز کے ذریعے اپنے نظاموں کا جائزہ لینے پر بھی کام کریں گی۔ ٹرمپ نے اسے کمپنیوں کی جانب سے خود نگرانی اور ذمہ داری قبول کرنے کی کوشش قرار دیا۔
 
میٹا کے سی ای او مارک زکربرگ نے کہا کہ اس معاہدے کا مقصد عوام اور صارفین کا اعتماد بڑھانا ہے تاکہ انہیں یقین ہو کہ AI ٹیکنالوجی محفوظ طریقے سے تیار کی جا رہی ہے۔ یہ معاہدہ قانونی طور پر لازمی ضابطے کے بجائے صنعت کی رضاکارانہ نگرانی پر مبنی ہے۔
 

ڈیٹا سینٹرز اور مقامی آبادیوں پر بھی بات

 
ملاقات میں AI کے لیے درکار بنیادی ڈھانچے پر بھی بات ہوئی۔ AI نظاموں کو چلانے کے لیے بڑے ڈیٹا سینٹرز کی ضرورت ہوتی ہے، جن کے لیے بڑی مقدار میں بجلی اور دیگر وسائل درکار ہوتے ہیں۔
 
ٹرمپ نے ٹیک کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ جہاں ڈیٹا سینٹرز قائم کریں وہاں کی مقامی آبادیوں کے ساتھ تعاون کریں۔ انہوں نے کہا کہ کمپنیاں مقامی اسکولز، اساتذہ اور دیگر ضروریات میں مدد کر سکتی ہیں۔
 
ٹرمپ انتظامیہ کے لیے AI قومی سلامتی کا بھی اہم معاملہ ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ AI میں امریکی قیادت کو برقرار رکھنا قومی سلامتی اور عالمی ٹیکنالوجی کی دوڑ میں اہم ہے۔ اس حوالے سے امریکہ اور چین کے درمیان AI ٹیکنالوجی میں مقابلہ بھی جاری ہے۔
 
ٹرمپ انتظامیہ کی نئی AI پالیسی میں ٹیکنالوجی کی ترقی، قومی سلامتی، ڈیٹا سینٹرز کی توسیع اور صنعت کی رضاکارانہ نگرانی جیسے کئی پہلو شامل ہیں۔ ’Super Intelligence‘ کو AI کے متبادل سرکاری نام کے طور پر استعمال کرنے کا فیصلہ بنیادی طور پر امریکی وفاقی حکومت کی سرکاری زبان اور مواصلات سے متعلق ہے؛ اس کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا بھر میں AI کی تکنیکی اصطلاح تبدیل ہو گئی ہے۔