امریکی کانگریس نے روس پر نئی پابندیوں سے متعلق ایک اہم بل منظور کر لیا ہے۔ اس بل کے تحت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو روس سے تیل اور گیس خریدنے والے بعض ممالک پر 100 فیصد تک اضافی ٹیرف لگانے کا اختیار مل سکتا ہے۔ بھارت بھی ان ممالک میں شامل ہے۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بھارت کی مصنوعات پر ابھی 100 فیصد ٹیرف لگا دیا گیا ہے۔ بل صدر ٹرمپ کو مستقبل میں ایسا ٹیرف عائد کرنے کا اختیار دیتا ہے۔
بل کیا ہے؟
’لنڈسے او گراہم سینکشننگ رشیا اینڈ ایران ایکٹ آف 2026‘ نامی یہ بل روس اور ایران پر مزید پابندیاں لگانے کے لیے لایا گیا ہے۔ امریکی ایوانِ نمائندگان نے بدھ کو یہ بل 262 کے مقابلے میں 159 ووٹوں سے منظور کیا۔ اس سے پہلے امریکی سینیٹ بھی اسے 86 کے مقابلے میں 11 ووٹوں سے منظور کر چکی تھی۔ ایوانِ نمائندگان سے منظوری کے بعد اب بل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس دستخط کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔
بل کے حق میں کس نے ووٹ دیا؟
ایوانِ نمائندگان میں 203 ریپبلکن، 58 ڈیموکریٹس اور ایک آزاد رکن نے بل کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ 7 ریپبلکن اور 152 ڈیموکریٹس نے اس کی مخالفت کی۔ مخالفت کرنے والے بعض ڈیموکریٹک ارکان کی بنیادی تشویش یہ تھی کہ بل صدر ٹرمپ کو ٹیرف لگانے کے بہت زیادہ اختیارات دے رہا ہے۔
روس کے خلاف کیا کاروائی ہوگی؟
بل کا مقصد روس کے خلاف پابندیوں کو مزید سخت کرنا ہے۔ اس میں روسی حکام، توانائی کے شعبے اور ان بحری جہازوں کے خلاف کارروائی کی گنجائش ہے جو پابندیوں سے بچنے کے لیے روسی تیل کی نقل و حمل میں مدد کرتے ہیں۔ امریکی قانون سازوں کا کہنا ہے کہ روسی تیل اور گیس سے حاصل ہونے والی آمدنی کو کم کرنا اس قانون کا ایک اہم مقصد ہے۔ یہ بل روس کے اقتصادی اور توانائی کے شعبوں پر دباؤ بڑھانے کے ساتھ ایران پر پابندیوں سے متعلق اقدامات بھی شامل کرتا ہے۔
بھارت پر100 فیصد ٹیرف کیوں لگ سکتا ہے؟
بل کے تحت صدر ٹرمپ کو ان ممالک پر 100 فیصد تک ٹیرف لگانے کا اختیار دیا جا سکتا ہے جو روس سے تیل یا گیس خریدتے ہیں یا روس کو پابندیوں سے بچنے میں مدد دیتے ہیں۔ بھارت روسی خام تیل کے بڑے خریداروں میں شامل ہے، اسی لیے وہ اس شق کے ممکنہ دائرے میں آ سکتا ہے۔ چین بھی اس میں شامل ہو سکتا ہے۔ موجودہ رپورٹوں کے مطابق بھارت کے علاوہ چین، آذربائیجان، ہنگری اور سلوواکیہ بھی ان بڑے خریداروں میں شامل ہیں جن پر اس اختیار کے تحت ٹیرف عائد کیا جا سکتا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر صدر ٹرمپ اس اختیار کو استعمال کرتے ہیں تو روس سے تیل خریدنے والے ممالک سے متعلق امریکی درآمدات پر اضافی ٹیرف عائد کیا جا سکتا ہے۔ اس قانون کا مقصد روسی توانائی کی خریداری سے حاصل ہونے والی آمدنی پر دباؤ بڑھانا بھی ہے۔
کیا بھارت پر ابھی 100 فیصد ٹیرف لگ گیا ہے؟
نہیں۔ یہ سب سے اہم بات ہے۔ امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا کہ بھارت پر فوراً 100 فیصد ٹیرف عائد کر دیا جائے۔ بل صدر ٹرمپ کو زیادہ سے زیادہ 100 فیصد ٹیرف لگانے کا اختیار دیتا ہے۔ بل اب صدر ٹرمپ کے پاس دستخط کے لیے پہنچ چکا ہے اور اگر وہ اس پر دستخط کرتے ہیں تو یہ قانون بن جائے گا۔ اس کے بعد بھی 100 فیصد ٹیرف کا خودکار طور پر بھارت پر نفاذ نہیں ہوگا، بلکہ صدر کو یہ اختیار استعمال کرنا ہوگا۔
بھارت کے لیے خطرہ کیا ہے؟
اگر صدر ٹرمپ اس اختیار کو استعمال کرتے ہیں تو بھارت سے امریکہ جانے والی بعض مصنوعات پر اضافی ٹیرف لگ سکتا ہے۔ اس سے بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارت پر اثر پڑنے کا امکان ہوگا۔ تاہم اس وقت یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ بھارت پر 100 فیصد ٹیرف لازمی طور پر لگنے والا ہے۔ فی الحال اہم بات یہ ہے کہ قانون صدر ٹرمپ کو ایسا ٹیرف عائد کرنے کا اختیار فراہم کرے گا۔
بل اب کہاں پہنچا؟
بل امریکی سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان دونوں سے منظور ہو چکا ہے۔ سینیٹ نے اسے 86-11 سے منظور کیا تھا، جبکہ ایوانِ نمائندگان نے 262-159 سے منظوری دی۔ اب یہ صدر ٹرمپ کے دستخط کے لیے بھیجا جا چکا ہے۔ صدر کی منظوری کے بعد یہ قانون بن جائے گا۔ یعنی اس وقت بھارت کے لیے اصل بات 100 فیصد ٹیرف کا فوری نفاذ نہیں، بلکہ یہ ہے کہ امریکہ نے صدر ٹرمپ کو روسی توانائی خریدنے والے ممالک پر ایسا ٹیرف لگانے کا قانونی اختیار دینے کی راہ ہموار کر دی ہے۔







