امریکہ اور کینیڈا کے درمیان جاری تجارتی تنازع میں ایک اور اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ امریکی حکومت نے کینیڈا سے آنے والی تقریباً ایک ارب ڈالر مالیت کی بعض درآمدات پر پابندی نافذ کر دی ہے۔ ان مصنوعات میں الکوحل والے مشروبات، بعض ڈیری مصنوعات اور موٹر سائیکلیں شامل ہیں۔ یہ پابندیاں 29 ستمبر سے نافذ ہوئی ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے جاری تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ یہ پابندی امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تقریباً 880 ارب ڈالر کی سالانہ دوطرفہ تجارت کے مقابلے میں ایک نسبتاً چھوٹے حصے پر لاگو ہوتی ہے، لیکن تجارتی تنازع میں اس کی سیاسی اہمیت زیادہ ہے۔ تجارتی ماہر پیٹرک چائلڈریس نے کہا ہے کہ اس پابندی سے دونوں ملکوں کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی کم ہونے میں مدد نہیں ملے گی۔
امریکی حکومت نے یہ اقدام 1930 کے ٹیرف ایکٹ کے سیکشن 338 کے تحت کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق کینیڈا کی جانب سے امریکی مصنوعات کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک اور امریکی اشیا پر جوابی محصولات کے بعد یہ کارروائی کی گئی۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد امریکی کاروبار، کسانوں اور صنعتوں کو تحفظ دینا ہے۔ یہ تنازع اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب امریکہ نے تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی کینیڈین اشیا پر 50 فیصد محصولات عائد کیے۔ اس کے جواب میں کینیڈا نے بھی تقریباً 20 ارب ڈالر کی امریکی درآمدات پر جوابی محصولات عائد کیے۔ اس کے بعد واشنگٹن نے بعض کینیڈین مصنوعات پر محصولات کے بجائے براہِ راست درآمدی پابندی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا۔ نئی پابندیوں کا بڑا حصہ کینیڈین الکوحل والے مشروبات سے متعلق ہے۔ اس کے علاوہ بعض ڈیری مصنوعات، جن میں دودھ سے تیار ہونے والا ’وے‘ بھی شامل ہے، اور مخصوص موٹر سائیکلوں کو بھی امریکی مارکیٹ میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ہے۔
مارک کارنی کا سخت ردعمل
کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے اس تجارتی دباؤ کے باوجود پیچھے نہ ہٹنے کا عندیہ دیا ہے۔ کینیڈا نے امریکہ پر انحصار کم کرنے اور دیگر عالمی منڈیوں میں تجارت بڑھانے کی کوششیں بھی تیز کر دی ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان جاری تنازع نے شمالی امریکہ کے تجارتی تعلقات اور امریکہ، میکسیکو، کینیڈا معاہدے (USMCA) کے مستقبل کے حوالے سے بھی سوالات پیدا کیے ہیں۔ فی الحال واشنگٹن اور اوٹاوا کے درمیان مذاکرات کے ذریعے اختلافات کم کرنے کی کوششیں جاری رہنے کے باوجود تجارتی محاذ پر کشیدگی برقرار ہے۔







