امریکی نائب صدر کا کہنا ہے کہ 2024 میں ٹرمپ اور وینس کو ووٹ دینے والے کئی حامی اس بار ڈیموکریٹس کی طرف چلے گئے۔
مہنگائی اور اسرائیل پالیسی میں تبدیلی بھی ووٹروں کے اہم مطالبات رہے۔
امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے مڈٹرم انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی ناکامی پر کھل کر بات کرتے ہوئے اس کی بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کو قرار دیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی تفصیلی تحریر میں انہوں نے کہا کہ انتخابی اعداد و شمار سے پہلے یہ امید ظاہر ہو رہی تھی کہ ریپبلکن ووٹر بڑی تعداد میں پولنگ اسٹیشنوں کا رخ کریں گے، لیکن نتائج نے پارٹی قیادت کو حیران کر دیا۔ کئی ایسے ووٹرز جنہوں نے 2024 کے صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ اور جے ڈی وینس کی حمایت کی تھی، اس بار ڈیموکریٹس کے حق میں ووٹ دے گئے۔
ٹرن آؤٹ بہتر، لیکن ووٹروں کا رخ تبدیل ہوگیا
وینس کے مطابق انتخابی مہم کے دوران ان کی ٹیم کے ڈیٹا ماہرین ووٹروں کی تعداد اور انتخابی سرگرمی کا 2024 کے صدارتی انتخابات سے مسلسل موازنہ کر رہے تھے۔ بعض ریاستوں میں ووٹنگ معمول کے مطابق رہی، جبکہ کچھ ریاستوں میں ٹرن آؤٹ بہتر بھی دکھائی دیا۔ اس صورتحال سے پارٹی کو امید تھی کہ وہ توقعات سے زیادہ اچھی کارکردگی دکھا سکتی ہے۔
تاہم، ان کے ایک قابلِ اعتماد ڈیٹا ماہر نے پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ زیادہ ووٹنگ کے باوجود ٹرمپ کے کچھ سابق حامی اس بار پارٹی سے ناراض ہیں اور ڈیموکریٹس کی حمایت کر سکتے ہیں۔ وینس کا کہنا ہے کہ انتخابی نتائج نے اس خدشے کو درست ثابت کر دیا۔
فلوریڈا کی مثال دے کر کیا وضاحت؟
نائب صدر نے فلوریڈا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ووٹر رجسٹریشن کے اعداد و شمار کے مطابق ریپبلکن ووٹروں کو ڈیموکریٹس پر تقریباً 9 پوائنٹس کی برتری حاصل تھی۔ یہ فرق 2024 کے مقابلے میں صرف چند پوائنٹس کم تھا۔ ان کے مطابق مسئلہ ووٹ ڈالنے والوں کی تعداد میں کمی نہیں بلکہ سابق ریپبلکن ووٹروں کا سیاسی رخ تبدیل کرنا تھا۔
ووٹروں کے چار بڑے مطالبات
وینس نے اعتراف کیا کہ انتخابی مہم کے آخری دنوں میں پارٹی کا معاشی پیغام بھی ووٹروں کو متاثر کرنے میں ناکام رہا۔ انہوں نے ایک حالیہ رائے شماری کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ سابق ٹرمپ ووٹروں سے پوچھا گیا تھا کہ کن حالات میں وہ دوبارہ ریپبلکن پارٹی کی حمایت کریں گے۔
ان کے مطابق چار مطالبات نمایاں طور پر سامنے آئے:
ایران کے ساتھ جنگ۔
مہنگائی اور روزمرہ اخراجات پر توجہ۔
امریکن فرسٹ پالیسی کو ترجیح۔
اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں تبدیلی۔
وینس کے مطابق یہی مطالبات بتاتے ہیں کہ کئی سابق حامیوں نے اس بار ڈیموکریٹس کو ووٹ کیوں دیا۔
پارٹی میں اختلافات بڑھنے کا خدشہ
جے ڈی وینس نے ریچل کیمپوس ڈفی کا دفاع بھی کیا، جنہیں تنازعے کے سفارتی حل کی حمایت کرنے پر تنقید کا سامنا تھا۔ وینس نے کہا کہ ان کا سیاسی مشورہ درست تھا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ آنے والے مہینوں میں انتخابی شکست کی وجوہات پر ریپبلکن پارٹی کے اندر شدید اختلافات سامنے آ سکتے ہیں۔ ان کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی قیادت اب انتخابی ناکامی کے اسباب پر سنجیدگی سے غور کرنے پر مجبور ہے۔







