وی بی جی رام جی کے تحت شکایات 15 دن میں نمٹانے کا حکم
کانگریس کا الزام ہے کہ حتمی قواعد میں جواب دہی اور نگرانی کی اہم شقیں ہٹا دی گئیں
وزارتِ دیہی ترقی نے 2 نومبر کو وی بی جی رام جی کے تحت شکایات کے ازالے سے متعلق نئے قواعد 2026 نافذ کر دیے ہیں۔ ان قواعد کے مطابق ہر شکایت کی جانچ سات کام کے دنوں میں مکمل کرنا اور شکایت موصول ہونے کے 15 دن کے اندر اسے نمٹانا لازمی ہوگا۔ ریاستی حکومتوں کو گرام پنچایت، بلاک اور ضلع کی سطح پر شکایات درج کرنے اور ان کے ازالے کا نظام قائم کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔ تاہم کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے نئے قواعد پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ حتمی ضابطوں میں دیہی باشندوں اور کارکنوں کے شکایتی حقوق کو کمزور کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ مئی میں جاری کیے گئے مسودے میں جواب دہی اور نگرانی کے لیے جو اہم شقیں شامل تھیں، انہیں حتمی قواعد میں ہٹا دیا گیا ہے۔
سات دن میں جانچ نہ ہونے پر کارروائی کی شق غائب
جے رام رمیش کے مطابق ابتدائی مسودے میں واضح کیا گیا تھا کہ اگر کوئی متعلقہ افسر سات کام کے دنوں میں شکایت کی جانچ یا اس کا ازالہ نہیں کرتا تو اسے قانون کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا اور دفعہ 27 کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ حتمی قواعد میں خلاف ورزی پر سزا یا کارروائی کا یہ طریقہ شامل نہیں کیا گیا۔ اس طرح شکایت نمٹانے کی مدت تو مقرر کر دی گئی ہے، لیکن اگر افسر اس پر عمل نہ کرے تو اس کے خلاف کیا کارروائی ہوگی، یہ واضح نہیں ہے۔
مالی بے ضابطگیوں پر کارروائی کا معاملہ بھی اٹھایا
کانگریس رہنما نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مسودے میں مالی بے ضابطگیوں کے ابتدائی شواہد ملنے پر ایف آئی آر درج کرانے اور فوری کارروائی شروع کرنے کی تجویز موجود تھی، لیکن حتمی قواعد میں اسے بھی شامل نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق اس تبدیلی سے بدعنوانی کے ممکنہ معاملات میں بروقت کارروائی متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شکایات پر ہونے والی کارروائی کو انٹرمیڈیٹ اور ضلعی پنچایتوں کے اجلاسوں میں پیش کرنے کی شرط بھی ابتدائی مسودے میں شامل تھی، لیکن حتمی قواعد میں اسے ہٹا دیا گیا۔
شکایتی ڈیسک اور ہفتہ وار سماعت کی شرط بھی ختم
جے رام رمیش کے مطابق ابتدائی مسودے میں ہر ہفتے ایک دن شکایات کی باقاعدہ سماعت کے لیے مخصوص کرنے اور بلاک و ضلع کی سطح پر الگ شکایتی ڈیسک قائم کرنے کی تجاویز بھی تھیں۔ ان کا الزام ہے کہ نئے قواعد میں ان انتظامات کو لازمی نہیں رکھا گیا۔ جانچ کے طریقہ کار میں تبدیلی پر بھی انہوں نے اعتراض کیا۔ ان کے مطابق مسودے میں شکایت کی تصدیق کے لیے موقع پر جا کر معائنہ کرنے کی شرط تھی، جبکہ حتمی قواعد میں متعلقہ ریکارڈ، رجسٹر، دستاویزات، رپورٹس اور الیکٹرانک معلومات طلب کرنے پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔
رمیش کا کہنا ہے کہ صرف کاغذی یا ڈیجیٹل ریکارڈ کی جانچ کافی نہیں ہو سکتی، کیونکہ حاضری رجسٹروں میں ردوبدل یا ادائیگیوں میں بے ضابطگی جیسے الزامات کی حقیقت جاننے کے لیے زمینی سطح پر معائنہ بھی ضروری ہے۔ اس طرح نئے قواعد کے نفاذ کے باوجود شکایات کے ازالے کے نظام میں جواب دہی، نگرانی اور عملی جانچ کے طریقہ کار کو لے کر سیاسی بحث شروع ہو گئی ہے۔ کانگریس نے حکومت کے سامنے یہ سوال اٹھایا ہے کہ اگر مقررہ وقت میں شکایت پر کارروائی نہ ہو تو متعلقہ افسر کی ذمہ داری کیسے طے کی جائے گی۔






