تین مراکز کے کولنگ سسٹم کو نشانہ بنایا گیا
نگرانی کے نظام نے بروقت خطرے کی نشاندہی کی اور پلازما کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔
ادارے کے مطابق خون یا اس کی کسی مصنوعات کو نقصان نہیں پہنچا۔
فرانس میں قومی خون کی خدمت (EFS) کے تین بلڈ اسٹوریج مراکز کے کولنگ سسٹمز پر سائبر حملے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ہیکرز نے ان مراکز میں نصب خصوصی فریزرز کی درجہ حرارت اور ڈیفراسٹنگ کی سیٹنگز تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہاں خون سے الگ کیے گئے پلازما کو خصوصی فریزرز میں محفوظ رکھا گیا تھا۔ فرانسیسی اخبار کے مطابق حملہ آوروں نے فریزر کا درجہ حرارت معمول کے منفی 30 ڈگری سینٹی گریڈ سے بڑھا کر 110 ڈگری سینٹی گریڈ کرنے کی کمانڈز بھیجیں۔ تاہم یہ تبدیلی صرف میکانیکی نظام میں ریکارڈ ہوئی۔ اس بات کی حتمی تصدیق نہیں ہو سکی کہ فریزر کا حقیقی درجہ حرارت 110 ڈگری تک پہنچا تھا یا نہیں۔
بروقت کارروائی سے پلازما محفوظ رہا
فرانس کی قومی خون کی خدمت نے بتایا کہ نگرانی کے نظام نے غیر معمولی تبدیلیوں کا فوری طور پر پتہ لگا لیا تھا۔ عملے نے بروقت مداخلت کرتے ہوئے متاثرہ فریزرز سے پلازما نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا۔ ادارے کے مطابق اس واقعے میں خون یا اس سے تیار ہونے والی کسی بھی مصنوعات کو نقصان نہیں پہنچا اور نہ ہی صحت عامہ پر کسی منفی اثر کی اطلاع ملی ہے۔ خون جمع کرنے اور اسے اسپتالوں تک پہنچانے کا کام بھی معمول کے مطابق جاری رہا۔
بیرونی کمپنی کے ذریعے بنایا گیا راستہ
ابتدائی معلومات کے مطابق ہیکرز نے بلڈ بینک کے مرکزی کمپیوٹر سسٹم کو براہِ راست نشانہ بنانے کے بجائے ایک بیرونی سروس فراہم کرنے والی کمپنی کے ذریعے رسائی حاصل کی۔ فرانسیسی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ’کول ورلڈ‘ نامی کمپنی، جو EFS کے ریفریجریشن آلات کی دیکھ بھال کرتی ہے، اس سائبر حملے سے متاثر ہوئی۔ کمپنی نے بھی سائبر سکیورٹی کی خلاف ورزی کی تصدیق کی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید ریفریجریشن سسٹمز کو دور سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ ایسے میں اگر نیٹ ورک کی سکیورٹی کمزور ہو تو حملہ آور کسی جگہ موجود ہوئے بغیر بھی فریزر کی سیٹنگز تبدیل کر سکتے ہیں۔
طبی ذخائر کی حفاظت پر سوالات
یہ مراکز پلازما کو خون کی منتقلی اور بعض اہم ادویات کی تیاری کے لیے محفوظ رکھتے ہیں۔ اس لیے درجہ حرارت میں معمولی خرابی بھی پلازما کے معیار کو متاثر کر سکتی ہے اور اسے استعمال کے قابل نہیں چھوڑ سکتی۔ رپورٹس کے مطابق یورپ کے کئی ممالک میں حالیہ عرصے کے دوران سپر مارکیٹوں کے ریفریجریٹرز اور فریزرز کو بھی اسی نوعیت کے سائبر حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کولنگ سسٹم متاثر ہونے سے خوراک ضائع ہوئی۔
فرانس کے اس واقعے نے طبی مراکز میں استعمال ہونے والے ڈیجیٹل کنٹرول سسٹمز کی سکیورٹی پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ تفتیشی اداروں نے تاحال حملہ آوروں کی شناخت یا حملے کی مکمل تکنیکی تفصیلات جاری نہیں کی ہیں۔ اس بات کا بھی کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا کہ حملے میں مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا گیا تھا۔ حکام کے مطابق مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کے لیے سائبر سکیورٹی کے اصول مزید سخت کیے جا رہے ہیں۔ عملے کی تربیت اور خطرے سے خبردار کرنے والے نظاموں کا بھی جائزہ لیا گیا ہے، تاکہ کسی بھی ممکنہ حملے یا خرابی کی صورت میں فوری کارروائی کی جا سکے۔






