Thursday, October 08, 2026 | 25 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • وزن میں کمی: کیا واقعی کارگر ہے، یا نہیں، اور طبی مددکب درکار ہوتی ہے؟

وزن میں کمی: کیا واقعی کارگر ہے، یا نہیں، اور طبی مددکب درکار ہوتی ہے؟

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: 08 Oct 2026

وزن میں کمی: کیا واقعی کارگر ہے، یا نہیں، اور طبی مددکب درکار ہوتی ہے؟
وزن کم کرنا بظاہر ایک آسان ہدف محسوس ہوتا ہے، لیکن عملی طور پر یہ بہت سے لوگوں کے لیے ایک مشکل سفر بن جاتا ہے۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر وزن کم کرنے کے بے شمار طریقے موجود ہیں، جن میں فوری وزن کم کرنے والی ڈائٹس، سپلیمنٹس اور مختلف گھریلو نسخوں کے دعوے شامل ہیں۔ تاہم ہر طریقہ ہر شخص کے لیے محفوظ یا مؤثر نہیں ہوتا۔ مستقل اور صحت مند وزن میں کمی کے لیے طرز زندگی میں مناسب تبدیلی اور ضرورت پڑنے پر طبی مشورہ زیادہ اہم ہے۔
 
اسی موضوع پر منصف ٹی وی کے خصوصی پروگرام ’ہیلتھ اور ہم‘ میں“Weight Loss: What Really Works, What Doesn’t & When You Need Medical Help” پر ڈاکٹر ایم اے مقسط قادری، سینئر کنسلٹنٹ۔ جنرل میڈیسن کیئرہاسپٹلز  نے تفصیلی روشنی ڈالی۔
 
ماہرین کے مطابق وزن کم کرنے کا بنیادی اصول صرف کم کھانا نہیں بلکہ ایسی غذا کا انتخاب ہے جو جسم کو ضروری غذائیت فراہم کرے اور مجموعی کیلوریز کو متوازن رکھنے میں مدد دے۔ سبزیاں، پھل، دالیں، ثابت اناج اور مناسب مقدار میں پروٹین کو غذا کا حصہ بنانا مفید ہو سکتا ہے، جبکہ بہت زیادہ میٹھے مشروبات، تلی ہوئی اشیا، بیکری مصنوعات اور الٹرا پروسیسڈ فوڈ کو محدود کرنا بہتر ہے۔
 
ورزش بھی وزن کم کرنے کے عمل کا اہم حصہ ہے۔ روزانہ واک، سائیکلنگ، تیراکی یا اپنی جسمانی صلاحیت کے مطابق دوسری سرگرمیوں کو معمول کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ طاقت بڑھانے والی ورزشیں بھی جسمانی صحت اور پٹھوں کو برقرار رکھنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
 
ماہرین یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ بہت تیزی سے وزن کم کرنے کے دعوے ہمیشہ قابل اعتماد نہیں ہوتے۔ انتہائی کم کیلوری والی ڈائٹ، کھانا مکمل طور پر چھوڑ دینا یا بغیر طبی مشورے کے وزن کم کرنے والی ادویات اور سپلیمنٹس استعمال کرنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ وزن میں معمولی مگر مستقل کمی عموماً زیادہ قابل عمل ہوتی ہے۔
 
کچھ افراد کے لیے صرف غذا اور ورزش کافی نہیں ہوتیں۔ اگر وزن بہت زیادہ ہو، یا اس کے ساتھ ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، نیند میں سانس رکنے کا مسئلہ، کولیسٹرول یا دیگر طبی پیچیدگیاں موجود ہوں تو ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہو سکتا ہے۔ بعض مریضوں میں طبی نگرانی کے تحت ادویات یا دیگر علاج بھی زیر غور آ سکتے ہیں۔
 
وزن کم کرنے کے دوران نیند اور ذہنی دباؤ کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ کم نیند اور مسلسل ذہنی دباؤ کھانے کی عادات اور جسمانی سرگرمی پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ اس لیے صحت مند وزن حاصل کرنے کے لیے صرف ترازو پر نظر رکھنے کے بجائے مجموعی صحت پر توجہ دینا ضروری ہے۔
 
ماہرین کے مطابق وزن کم کرنا کسی فوری چیلنج کے بجائے طرز زندگی میں مستقل بہتری کا عمل ہے۔ متوازن غذا، باقاعدہ جسمانی سرگرمی، مناسب نیند اور ضرورت کے مطابق طبی رہنمائی کے ذریعے وزن کو صحت مند حد میں لانے کی کوشش زیادہ محفوظ اور دیرپا نتائج دے سکتی ہے۔
 
قارئین آپ ڈاکٹر ایم اے مقسط قادری،سینئر کنسلٹنٹ – جنرل میڈیسن، کیئر ہاسپٹلز، نامپلی، حیدرآباد،کی مکمل گفتگو👇یہاں دیکھ سکتےہیں۔ ساتھ ہی منصف ٹی وی ہیلتھ پر صحت سے متعلق ہزاروں ویڈیوز بھی دیکھ سکتےہیں۔