Wednesday, September 23, 2026 | 09 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • طبی سہولیات سے محروم 3 ہزار حاملہ خواتین، یمن میں سنگین بحران

طبی سہولیات سے محروم 3 ہزار حاملہ خواتین، یمن میں سنگین بحران

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: 23 Sept 2026

طبی سہولیات سے محروم 3 ہزار حاملہ خواتین، یمن میں سنگین بحران
یمن میں بڑھتے ہوئے تشدد کے باعث تقریباً 3 ہزار حاملہ خواتین کو بغیر ضروری طبی امداد کے بچے کی پیدائش کا سامنا ہے ۔ یہ صورتحال 21 ستمبر 2026 کو یو این ایف پی اے (UNFPA) کی جاری کردہ رپورٹ میں سامنے آئی۔ رپورٹ کے مطابق، یمن کے مغربی ساحل اور جنوبی تعز کے محاذوں پر بڑھتی کشیدگی کے باعث 30 ہزار سے زائد خواتین کو ضروری تولیدی صحت اور تحفظ کی خدمات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔

1 لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد بے گھر

رپورٹ کے مطابق، حالیہ کشیدگی کے باعث 1 لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جن میں تقریباً 30 ہزار خواتین تولیدی عمر کی اور 2,700 سے زائد حاملہ خواتین شامل ہیں۔ کم از کم 500 خواتین کو ممکنہ طبی پیچیدگیوں کی صورت میں ہنگامی زچگی اور نومولود بچوں کی طبی سہولیات کی ضرورت ہے، جبکہ تقریباً 300 خواتین کے ہاں اگلے دو ہفتوں میں بچے کی پیدائش متوقع ہے۔

 کئی طبی مراکز بند

بڑھتے ہوئے تشدد کے باعث خواتین اور لڑکیوں کے لیے تولیدی صحت کے مراکز اور محفوظ مقامات بند ہو گئے ہیں یا محدود گنجائش کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ بے گھر ہونے والی کچھ حاملہ خواتین کو طبی عملے کی مدد کے بغیر بچوں کو جنم دینا پڑ رہا ہے۔
 
تشدد، تباہ شدہ سڑکوں، غیر محفوظ پناہ گاہوں اور صحت کی محدود سہولیات کے باعث حاملہ خواتین کو ہنگامی زچگی اور نومولود بچوں کی طبی خدمات تک پہنچنے میں تاخیر کا سامنا ہے۔
 
تعز کے علاقوں ،(Maqbanah) اور (Jabal Habashi) سمیت بعض علاقوں میں ہنگامی زچگی اور نومولود بچوں کی طبی سہولیات بند ہو چکی ہیں، جس سے خواتین کے لیے ضروری علاج تک رسائی میں بڑا خلا پیدا ہوگیا ہے۔

 یمن میں زچگی کے دوران اموات کی شرح بلند

یمن میں ماؤں کی شرحِ اموات عرب خطے میں بلند ترین سطح پر ہے۔ رپورٹ کے مطابق، حمل سے متعلق ایسی پیچیدگیوں کے باعث جنہیں روکا جا سکتا تھا، روزانہ تقریباً تین خواتین کی موت ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ 62 لاکھ خواتین اور لڑکیاں بنیادی تحفظ کی خدمات سے محروم ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، موجودہ کشیدگی نے خواتین اور لڑکیوں کو پہلے سے درپیش صحت اور تحفظ کے خطرات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

 'UNFPA' نمائندے کا انتباہ

یمن میں UNFPA کے نمائندے  (Francesco Galtieri) نے کہا کہ خواتین اور لڑکیوں کے لیے صورتحال وقت کے خلاف دوڑ بن چکی ہے۔ ان کے مطابق، جب تشدد کے باعث کوئی طبی مرکز بند ہو جائے یا سڑک ناقابلِ استعمال ہونے کی وجہ سے خاتون طبی امداد تک نہ پہنچ سکے تو ایسی پیچیدگی بھی جان لیوا بن سکتی ہے جس کا علاج ممکن تھا۔
 
ان کا کہنا تھا کہ مشکل حالات کے دوران خواتین کو محفوظ طریقے سے بچے کی پیدائش کی سہولت، حمل اور تولیدی صحت سے متعلق علاج اور تشدد سے بچاؤ کی سہولیات دینا بہت ضروری ہے۔ UNFPA ان سہولیات کو جاری رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن ضرورتیں دستیاب وسائل سے کہیں زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔

60 ہزار سے زائد بے گھر افراد کو امداد

'UNICEF' ،'WFP' ،'UNFPA' اور (IOM) کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ کے ریپڈ ریسپانس میکانزم کے تحت امدادی کاروائیوں میں حصہ لے رہا ہے۔
 
رپورٹ کے مطابق، کشیدگی شروع ہونے کے بعد 72 گھنٹوں کے اندر اس امدادی نظام کے ذریعے 60 ہزار سے زائد بے گھر افراد تک مدد پہنچائی گئی۔ شدید مالی اور رسائی کی مشکلات کے باوجود UNFPA تولیدی صحت اور صنفی بنیاد پر تشدد سے تحفظ کی خدمات فراہم کرنے کے لیے بھی رابطہ کر رہا ہے۔

 UNFPA کو 22.7 ملین ڈالر کی فوری ضرورت

UNFPA نے امدادی سرگرمیاں بڑھانے کے لیے فوری طور پر 22.7 ملین امریکی ڈالر کی ضرورت ظاہر کی ہے۔ اس رقم کے ذریعے 80 ہزار گھرانوں تک ہنگامی امدادی کٹس اور حالیہ کشیدگی کے باعث بے گھر ہونے والی 1 لاکھ 40 ہزار خواتین اور لڑکیوں تک زندگی بچانے والی تولیدی صحت اور تحفظ کی خدمات پہنچانے کا منصوبہ ہے۔
 
یمن میں انسانی بنیادوں پر امداد کے لیے UNFPA کی 2026 کی 71 ملین امریکی ڈالر کی اپیل میں سے اب تک صرف 20 فیصد رقم موصول ہوئی ہے، جس کے باعث بڑھتی ہوئی ضروریات اور دستیاب فنڈز کے درمیان بڑا خلا پیدا ہوگیا ہے۔