Wednesday, January 14, 2026 | 25, 1447 رجب
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • تین دن مفت داخلہ: تاج محل میں شاہجہان کے عرس پر 1720 میٹر لمبی سترنگی چادر پوشی

تین دن مفت داخلہ: تاج محل میں شاہجہان کے عرس پر 1720 میٹر لمبی سترنگی چادر پوشی

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Jan 14, 2026 IST

تین دن مفت داخلہ: تاج محل میں شاہجہان کے عرس پر 1720 میٹر لمبی سترنگی چادر پوشی
تاریخی شہر آگرہ  تاج محل پر 371 واں شاہجہاں کا عرس 15، 16 اور 17 جنوری کو بڑے دھوم دھام سے منایا جائے گا۔پچھلے سالوں کی طرح عرس کے آخری دن تاج محل کے تہہ خانے میں واقع شاہ جہاں اور ممتاز محل کے  مقبروں پر ہندوستانی ستارنگی چادرپیش  کی جا ئے گی ۔ ہر سال، تین روزہ عرس کا آغاز تہہ خانے کے افتتاح کے ساتھ ہوتا ہے۔
 
سیاحوں کے لیے مفت داخلہ
 
15 اور 16 جنوری کو دوپہر دو بجے سے غروبِ آفتاب تک، اور 17 جنوری کو طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک سیاحوں کو مفت داخلہ دیا جائے گا۔ تاج محل میں ہفتہ وار بندش جمعہ کے دن ہوتی ہے۔ جمعہ کے دن صرف مقامی نمازیوں کو داخلے کی اجازت ہوتی ہے۔ تاج محل کے سینئر کنزرویشن اسسٹنٹ پرنس واجپئی نے بتایا کہ جمعہ کے دن نماز کے بعد دوپہر دو بجے سے سیاحوں اور زائرین کو یادگار میں داخلے کی اجازت دی جائے گی۔ عرس کے موقع پر مرکزی مقبرے میں بھی مفت داخلہ ہوگا۔ مرکزی مقبرے میں بھیڑ کے انتظام کے لیے اے ایس آئی نے 10 دسمبر 2018 کو 200 روپے اضافی داخلہ فیس نافذ کی تھی۔
 
شہنشاہ شاہجہاں کا عرس
 
شہنشاہ شاہجہاں کا عرس اسلامی ہجری کیلنڈر کے ماہِ رجب کی 26، 27 اور 28 تاریخ کو منایا جاتا ہے۔ اس سال یہ تاریخیں 15 سے 17 جنوری تک ہیں۔ عرس کے موقع پر زائرین اور سیاحوں کو مفت داخلہ دیا جاتا ہے، جس کا حکم سپرنٹنڈنٹ آثارِ قدیمہ ڈاکٹر سمتھا ایس کمار نے جاری کیا ہے۔
 
موتیوں کی چادر لٹنے کے بعد ممتاز کا عرس بند ہو گیا
 
تاج محل میں شاہجہاں سے پہلے ممتاز محل کا عرس منایا جاتا تھا۔ مؤرخ آشیروادی لال شری واستو نے اپنی کتاب "مغل کالین بھارت" اور راج کشور راجے نے اپنی کتاب "تواریخِ آگرہ" میں ممتاز کے عرس کے بند ہونے کا ذکر کیا ہے۔سید برادران نے 6 جون 1719 کو رفیع الدولہ کو دہلی کے تخت پر بٹھایا تھا۔ اسی وقت مترسین ناگر نے آگرہ قلعہ میں نیکوسیر کو تخت پر بٹھایا۔ بعد میں سید برادران نے آگرہ پر حملہ کر کے نیکوسیر کو قید میں ڈال دیا۔ مترسین ناگر نے خودکشی کر لی۔ سید برادران میں چھوٹے بھائی حسین علی نے شاہی خزانے پر قبضہ کر لیا۔ اس خزانے میں ممتاز کی قبر پر چڑھائی جانے والی موتیوں کی چادر بھی شامل تھی۔ چادر لٹ جانے کے بعد ممتاز کا عرس بند ہو گیا۔