لوک سبھا میں بجٹ اجلاس کے دوران سماجوادی پارٹی کے سربراہ اور رکن پارلیمنٹ اکھلیش یادو نے بی جے پی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ 10 فروری کو اپنے خطاب میں انہوں نے حکومت کی ناکامیوں پر سوالات اٹھائے اور خاص طور پر محمد معید خان کو جھوٹے ریپ کیس میں پھنسانے کا معاملہ اٹھایا۔اکھلیش یادو نے کہا کہ بی جے پی حکومت نے انتخابات جیتنے کے لیے ایودھیا کے رہائشی محمد معید خان کو جھوٹے کیس میں پھنسایا ۔
انہوں نے الزام لگایا کہ محمد معید کو صرف اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ وہ مسلمان تھے۔72 سالہ معید خان کو 19 ماہ تک جیل میں رکھا گیا تاکہ سماجوادی پارٹی کو بدنام کیا جا سکے۔انہوں نے ایودھیا کے عوام کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے بی جے پی کی "فرقہ وارانہ سیاست" کو شکست دی۔
کیس کا پس منظر اور حقائق:
سماجوادی پارٹی کے لیڈر محمد معید خان اور ان کے ملازم راجو خان کے خلاف 29 جولائی 2024 کو پوراکلندر تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ان پر ایک نابالغ دلت لڑکی کے ساتھ اجتماعی زیادتی (گینگ ریپ) کا الزام لگایا گیا تھا۔
اس واقعے کے بعد اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اسمبلی میں محمد معید کو قصوروار ٹھہرایا اور سماجوادی پارٹی پر سوال اٹھائے۔ اس بیان کے چند گھنٹوں بعد ہی انتظامیہ نے کاروائی کرتے ہوئے معید خان کی بیکری اور تین منزلہ کمپلیکس کو بلڈوزر کے ذریعے مسمار کر دیا تھا۔
عدالت کا فیصلہ: "باعزت بری":
اس معاملے کی سماعت خصوصی پوکسو (POCSO) کورٹ میں ہوئی۔ عدالت نے تمام شواہد اور سائنسی تحقیقات (Scientific Investigation) کی بنیاد پر محمد معید کو بے گناہ قرار دیا۔28 جنوری کو عدالت نے انہیں تمام الزامات سے باعزت بری کر دیا۔