Wednesday, February 11, 2026 | 23, 1447 شعبان
  • News
  • »
  • علاقائی
  • »
  • تلنگانہ میں بلدی انتخابات کا انعقاد، بعض مقامات پرجھڑپیں۔13فروری کونتائج

تلنگانہ میں بلدی انتخابات کا انعقاد، بعض مقامات پرجھڑپیں۔13فروری کونتائج

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Feb 11, 2026 IST

تلنگانہ میں بلدی انتخابات کا انعقاد، بعض مقامات پرجھڑپیں۔13فروری کونتائج
تلنگانہ میں کشیدگی کے درمیان بلدیاتی انتخابات کی پولنگ کا عمل ختم ہو گیا ہے۔ ریاست بھر کے7 کارپوریشنوں اور116 میونسپلٹیوں میں صبح 7 بجے سے شروع ہونے والی پولنگ شام 5 بجے تک بلا تعطل جاری رہی۔ کئی مقامات پر ووٹرز نے جوش و خروش سے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ پولنگ کا وقت ختم ہونے پر اہلکاروں نے قطاروں میں کھڑے لوگوں کوووٹ ڈالنے کی اجازت دی۔ اگرچہ انتخابی عمل زیادہ تر پرامن طور پرختم ہوا لیکن بعض علاقوں میں معمولی کشیدگی اور جھڑپیں ہوئیں۔

جھڑپیں اورلاٹھی چارج 

خاص طور پر کریم نگر کارپوریشن کے انتخابات میں انتہائی تناؤ رہا۔ شہر کے 58 ویں ڈویژن میں بی آر ایس اور بی جے پی کارکنوں کے درمیان گرما گرم بحث ہوئی جس کے نتیجے میں تصادم ہوا۔ پولیس کو حالات پر قابو پانے کے لیے لاٹھی چارج کرنا پڑا۔ اس واقعہ میں بی جے پی کے کئی کارکن زخمی ہوئے اور کچھ کے بازو ٹوٹ گئے۔ مرکزی وزیر بندی سنجے کا ذاتی فوٹوگرافر بھی زخمی ہوا۔ بی جے پی قائدین نے ضلع پریشد دفتر کے سامنے سڑک پر بیٹھ کر احتجاج کیا اور الزام لگایا کہ جب انہوں نے جعلی ووٹوں کی شکایت کی تو پولیس نے ان پر حملہ کیا۔ وہاں پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔

فرضی ووٹوں پرہلچل 

34 ڈیویژن، کریم نگر کے حسینی پور علاقہ میں جعلی ووٹوں کے معاملے نے ہلچل مچا دی ہے۔ مقامی لوگوں نے دو نوجوانوں کو پکڑ لیا جو ایک سکول میں قائم پولنگ سٹیشن پرغیرقانونی طور پر ووٹ ڈال رہے تھے۔ ان کے پاس جعلی آدھار کارڈ پائے گئے اور انہیں پولیس کے حوالے کر دیا۔ ایم آئی ایم کے امیدوار نے اس واقعہ پر سخت اعتراض ظاہر کیا اور مطالبہ کیا کہ اس بوتھ پر دوبارہ پولنگ کرائی جائے۔

13فروری کو ووٹوں کی گنتی 

ریاست بھر میں 2569 میونسپل وارڈوں اور 412 کارپوریشن وارڈوں کے لیے لوگوں نے اپنا فیصلہ بیلٹ بکس میں جمع کرایا ہے۔ ووٹوں کی گنتی اس ماہ کی 13 تاریخ کو صبح 8 بجے سے 136 مراکز میں شروع ہوگی۔ نتائج اسی دن دوپہر تک واضح ہو جائیں گے۔ بعد ازاں میئرز اور بلدیاتی چیئرمینوں کا انتخاب رواں ماہ کی 16 تاریخ کو ہوگا۔ تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ عوام بھی نتائج کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔