مہاراشٹر: اے آئی ایم آئی ایم کی کارپوریٹر سحر شیخ ایک بڑے قانونی تنازعے کی زد میں آ گئی ہیں، جن کے خلاف تھانے میں مبینہ طور پر او بی سی ذات سرٹیفکیٹ کے غلط استعمال سے متعلق انکوائری کی جا رہی ہے۔ یہ معاملہ تھانے میونسپل کارپوریشن کی سیاست میں ہلچل کا باعث بنا ہوا ہے۔
تحصیلدار کے دفتر نے رپورٹ کے بعد سحر شیخ کے والد یونس شیخ کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی سفارش کی ہے۔ انکوائری کی نگرانی تحصیلدار امیش پاٹل کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 2011 میں جاری کیے گئے ذات سرٹیفکیٹ میں کئی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں دستاویز کا مقررہ فارمیٹ کے مطابق نہ ہونا، سب ڈویژنل افسر کے دستخطوں کی عدم موجودگی اور "اسٹیٹ آف مہاراشٹر" کا لازمی ذکر شامل نہ ہونا بتایا گیا ہے۔
مزید یہ کہ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ خاندان کا تعلق مبینہ طور پر غازی آباد سے ہے، جس سے معاملہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔ حکام کو شبہ ہے کہ بعض دستاویزات میں مقامی حیثیت ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ قواعد کے مطابق فارم-10 استعمال ہونا چاہیے تھا، تاہم مبینہ طور پر فارم-8 استعمال کیا گیا۔ اس کے علاوہ 2018 میں سحر شیخ کی جانب سے ممبئی کلکٹر آفس سے بھی ذات سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے معاملے کو بھی جانچ کا حصہ بنایا گیا ہے۔
تحصیلدار کی رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ تمام متعلقہ سرٹیفکیٹس منسوخ کیے جائیں اور یونس شیخ کے خلاف دھوکہ دہی کا مقدمہ درج کیا جائے، جبکہ معاملے کو مزید قانونی کارروائی کے لیے آگے بڑھایا جائے۔
دوسری جانب سحر شیخ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے خلاف چلنے والی خبریں بے بنیاد اور “میڈیا پروپیگنڈا” ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ قانونی راستے سے اپنا دفاع کر رہی ہیں اور ان کے خلاف ایک منظم مہم چلائی جا رہی ہے۔
انہوں نے بعض میڈیا رپورٹس اور صحافیوں کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کرنے کی بھی بات کی ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ زمینی سیاسی کام میں مصروف تھیں، اس لیے غیر حاضر ہونے کے الزامات درست نہیں۔
فی الحال یہ معاملہ قانونی اور سیاسی دونوں سطحوں پر زیر غور ہے، اور حتمی فیصلہ تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے بعد متوقع ہے۔